ملازمین کے لیے صائب مشورہ
ریاست کا نظم و نسق ملازمین ہی کے ذریعے چلایا جاتا ہے۔ ملازمین سرکاری ہوں کہ نیم سرکاری یا کسی نجی ادارے ہی سے تعلق رکھتے ہوں۔ انتظامی امور میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ ملازمین اپنی جوانی کی بہت سی بہاریں دفتر۔ کرسی میز اور فائلوں کے ساتھ گزارتے گزارتے مدت ملازمت کے پورے ہونے یا ساٹھ سال کی عمر تک پہنچ کر ریٹائر ہو جاتے ہیں۔
بھرتی۔ میڈیکل۔ جوائننگ۔ رخصت۔ تبادلہ۔ تادیبی کارروائی۔ جواب طلبی۔ معطلی۔ انکوائری۔ شوکاز۔ چارج شیٹ۔ بیانات۔ سیکنڈ چارج شیٹ۔ جوابات۔ پرسنل ہیئرنگ۔ سزا۔ محکمانہ اپیل۔ عدالت ٹریبونل۔ پنشن اور ایسے بہت سی باتیں ہیں۔ جس سے پچیس تیس سال کی ملازمت کے دوران تقریباً ہر بڑے چھوٹے ملازم کا واسطہ پڑتا ہی رہتا ہے۔ جو ان کو اور ان کی ملازمت کو متاثر کرتی ہے۔
ان کا سامنا کرنے کی وجوہات میں کسی ملازم کی کم علمی۔ لاعلمی۔ لا پرواہی۔ خود سری۔ بے ایمانی بھی ہو سکتی ہے اور حالات کی مجبوری بھی اور افسران بالا کی فرعونیت بھی اس کی وجہ ہو سکتی ہے۔
میرا ذاتی مشاہدہ ہے۔ کہ ملازمتی امور میں وکیل کے پاس تین قسم کے ملازمین آتے ہیں۔ ایک بڑے بڑے سکیل کے افسر ، دوسرے درمیانی سکیلوں کے کلیریکل سٹاف اور تیسرے نچلے سکیل کے کلاس فور قسم کے ملازمین۔
ان تینوں اقسام کے ملازمین کے کیسز میں آفیسرز اور کلاس فور کے ملازمین کے کیسز وکیل کے لیے آسان ہونے کے ساتھ ساتھ ان کی کامیابی کی شرح نسبتاً زیادہ ہوتی ہے۔ وہ اس لیے کہ آفیسرز قسم کے ملازمین اپنے تمام تر اعلی ’تعلیم اور انتظامی تجربہ کے باوجود ملازمت کا چھوٹے سے چھوٹے مسلے کے سامنے آنے پر وکیل کے پاس جاتے ہیں اور مشورہ کرتے ہیں۔ دوسرا کلاس فور قسم کے ملازمین۔ جو اپنے ناخواندہ ہونے یا دو چار جماعتیں پڑھنے کی وجہ سے خود کو لاعلم جانتے ہوئے کسی بھی قسم کا مسئلہ سامنے آنے پر وکیل کے پاس جاتے ہیں۔ اور اپنا مسئلہ ہو کہ مقدمہ وکیل کے حوالہ کرتے ہیں اور سب کچھ جو ضروری ہو اور کرنا ہو اسی پر چھوڑ دیتے ہیں۔ جسے وکیل اپنے بہترین پیشہ ورانہ علم اور تجربہ کے ساتھ نبٹا دیتا ہے۔ جبکہ تیسری قسم درمیانے درجے یعنی کلیریکل ملازمین کی ہوتی ہے۔ جو ماشاء اللہ تعلیم یافتہ بھی ہوتے ہیں اور قواعد و ضوابط کے ساتھ ساتھ تھوڑا بہت بنیادی ملازمتی قوانین سے بھی آگاہ ہوتے ہیں۔ اس لیے اکثر وہ خود سے خط و کتابت کر دیتے ہیں جو بعد میں ان کے لیے مشکلات پیدا کرتے ہیں۔
ملازمین سرکاری محکمہ سے تعلق رکھتے ہوئے سول سرونٹ ہو۔ نیم سرکاری ہو کہ لیبر قوانین کے مطابق نجی ادارے سے تعلق رکھتے ہوں یا ایسے کسی ادارے سے تعلق رکھتا ہو جس کا سرے سے ملازمین کے لیے ملازمتی قوانین ہی نہ ہوں۔ کسی بھی قسم کا مسئلہ پیدا ہو تو سب ہی کو اپنے اپنے مسلے کے لیے کسی نہ کسی عدالت سے رجوع کیے بغیر کوئی چارہ نہیں ہوتا۔
ایسے میں سب سے پہلے اس بات کا تعین کیا جاتا ہے کہ کس محکمہ کے ملازم اور ملازمت کے قواعد و ضوابط کیا ہیں اور کے اس مسلے کا اختیار سماعت کس عدالت کے پاس ہے اور اس پر کون سا قانون لاگو ہوتا ہے۔ ساتھ ہی ایسے قانون سے اس کے لیے فورم اور طریقہ کار کا تعین کیا جاتا ہے۔ دوسری مگر بہت ہی اہم بلکہ لازمی بات میعاد (Limitation) کی ہوتی ہے۔ ہر وہ حکم جس سے ملازم ناراض ہوتا ہے اس کے خلاف متعلقہ قانون کے تحت ایک مخصوص مدت میں مخصوص مجاز آفیسر کو محکمانہ اپیل کی جاتی ہے یا گریونس نوٹس گزارا جاتا ہے۔
پھر اس کے بعد مخصوص وقت میں عدالت سے رجوع کیا جاتا ہے۔ ایسے میعاد کی پابندی اور پیروی نہ کرنے سے سخت نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ اکثر ملازمین اپیل محکمانہ یا عدالت میں تاخیر کرتے ہیں۔ یا ایک محکمانہ اپیل کی نامنظوری پر بار بار سیکنڈ اپیل یا یاد دہانیاں اور رحم درخواست وغیرہ کرتے ہیں۔ یا اپیل کا جواب نہ آنے کی صورت میں بر وقت عدالت سے رجوع نہیں کرتے اور اپنی ملازمت بلکہ روزی روٹی داؤ پر لگا دیتے ہیں۔ ایسا بھی ہوتا جب کوئی ملازم جواب طلبی یا شوکاز کا جواب اپنے طور پر خود سے دیتا ہے تو قانونی باریکات سے لاعلمی کی وجہ سے اکثر اعترافی جواب دے دیتے ہیں اور اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار دیتے ہیں۔ ملازمت جو کسی خاندان کی روزی روٹی کا ذریعہ ہوتا ہے۔ اس کو اتنا ہلکا نہیں لینا چاہیے اور ”جس کا کام اسی کو ساجھے“ کے مصداق ملازمت میں کوئی اور کیسا بھی مسئلہ پیدا ہو۔ کسی بھی سروس میٹرز کے وکیل کے ساتھ مشورہ کر کے ہی کوئی قدم اٹھانا چاہیے۔ اور ملازمتی خود کشی ہر گز نہیں کرنا چاہیے۔


