پیر پگارا بھی ناراض ہو گئے


حضرت پیر سائیں پگارا کی سندھ میں سبی عزت کرتے ہیں، چاہے اس کی سیاست سے اختلاف کریں یا نہ کریں، ان میں سے میں بھی ایک ہوں جو پیر سائیں پگارا کی بہت عزت کرتا ہوں۔ پیر صاحب پگارا کے خاندان میں اس کے دادا پیر صبغت اللہ شاہ (سہوریہ بادشاہ) کی سندھ کے حوالے سے لازوال قربانیاں ہے۔ اس نے انگریزوں کے خلاف جنگ کی اور وطن اور کفن کا نعرہ لگایا۔ اس کو انگریزوں نے موت کی سزا دی اور اس کی لاش بھی سندھ میں واپس نہیں آئی۔

اس قربانی کو سندھ کے لوگ بڑے عقیدت سے دیکھتے ہیں۔ لیکن اس کے بعد کی موجودہ پیر پگارا (سید صبغت اللہ شاہ راشدی) اور اس کے والد کی سیاست بالکل مختلف رہی۔ موجودہ پیر پگارا کے والد بزرگ ( سید مردان شاہ) یہ کہا کرتے تھے کہ وہ جی ایچ کیو کے آدمی ہے، اور ان کے بیانات ہمیشہ جی ایچ کیو کی فیور میں آتے تھے اور پیشین گوئی کے حوالے سے بھی بڑے مشہور تھے۔ لیکن ان کے دنیا چھوڑنے کے بعد موجودہ پیر سائیں پگارا کی سیاست سندھ میں بہت کمزور ہوئی ہے۔

اس کا اندازہ آپ سابق وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ کے اس بیان سے لگائیے کہ انہوں نے ایک بیاں مٰیں کہا ہے۔ کچھ دن پہلے وہ بلاول کے ساتھ جب پیر پگارا کے کسی عزیز کی انتقال کے بعد افسوس کرنے اس کے گھر گئے تو موجودہ پیر صاحب پگارا نے کہا کہ کے میں اب سیاست پے بات نہیں کروں گا۔ سیاست میرے بھائی کا شوق ہے مجھ سے آپ زراعت پر بات کریں۔ پیر صاحب کی سیاست میں دلچسپی نہ ہونے کی وجہ تو مجھے نہیں پتا لیکن یہ ضرور نظر آتا ہے پیر صاحب پگارا کی پارٹی سانگھڑ خیرپور اور تھر میں جو سیٹیں لیتی تھی اب وہ نہیں لیتی۔

اب انہوں نے سندھ کے قوم پرستوں سے مل کر جی ڈی ای کا الائنس بنایا ہے۔ جس میں کچھ وڈیرے اور قومپرست جماعتیں ہیں۔ الیکشن سے پہلے میں اپنے آرٹیکل میں لکھ چکا تھا کہ 2024 کی الیکشن میں جی ڈی ای جس نے ایم کیو ایم کے ساتھ ہاتھ ملا لیا ہے وہ 2024 کی الیکشن میں بری طرح شکست کا سامنا کرے گی۔ اور بالکل ایسے ہی ہوا اور جی ڈی ای بری طرح شکست کھا گئی۔ اور دو دن تو ان کی کوئی شکایت بھی نہیں سنی مگر اچانک انہوں نے بڑے احتجاج کی کال امید کے برعکس دے دی۔

اس احتجاج میں لاکھوں لوگوں نے شرکت کی۔ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ احتجاج مقتدرہ کے خلاف تھا اور پیر صاحب پگارا نے یہ تک کہ دیا یہ الیکشن اسٹیٹ کے خلاف ہوئی ہے لیکن اس نے فوج کی بھی تعریف کی ہے کہ فوج ان کے ہے۔ جو سب سے حیران کرنے والی بات ہے وہ اس نے عمران خان کے چاہنے والوں کی تعریف کی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ عمران خان کے ساتھ بھی دھاندلی ہوئی ہے۔ یہ بیانہ مقتدرہ کے فیور میں تو نہیں ہو سکتا ۔ اس لیے کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ پیر صاحب کو بھی کسی اسٹیبلشمنٹ کے کواٹر سے اشارہ ملا ہے کہ آپ بھی میدان میں اتریں، اس لیے وہ بھی میدان مٰیں آ گئے ہیں۔

یہ احتجاج بظاہر تو آصف زرداری یا پیپلز پارٹی کے خلاف تھا مگر الیکشن تو پیپلز پارٹی نے نہیں کرایا۔ الیکشن کے نتائج کو تبدیل کرنے کی صلاحیت جس کے پاس ہے وہ سب کو پتا ہے۔ ہاں البتہ الزام تو لگایا جا سکتا ہے جیسے جی ڈی ای کے رہنما ایاز لطیف پلیجو جس کو پی ایس 60 حیدرآباد سے صرف 6900 ووٹ ملے ہیں اس نے الزام لگایا ہے پیپلز پارٹی نے 12 کھرب دے کر الیکشن چوری کیا ہے لیکن اس نے کوئی ثبوت نہیں دیا۔ یہ بھی نہیں بتایا یہ 12 کھرب کہاں سے آئے اور کس کو دیے گئے ہیں۔

ایاز لطیف پلیجو کا سیاسی وزن کوئی خاص نہیں ہے اور اس کو تو اس کے والد جناب رسول بخش پلیجے نے اپنی زندگی میں اپنی پارٹی سے نکال دیا تھا۔ اور اس کے شدید اختلافات سندھی اخباروں میں شایع ہوئے تھے۔ ایاز لطیف پلیجو نے پیر پگارا کے ساتھ ہات ملانے کی وجہ یہ بھی ہے کہ وہ خود الیکشن لڑنے اور جیتنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ ایاز لطیف پلیجو کی ایک صلاحیت کا میں بھی معترف ہوں، وہ کمال کے مقرر ہے اور اس کو سندھ کے بڑے شاعر شاہ عبدالطیف کی شاعری پر عبور ہے۔ اور ایسے چند لوگ سندھ میں ہیں ان میں ایاز لطیف پلیجو کا نام نمایاں ہے۔

سیاست میں کسی اور چیز کی ضرورت ہوتی ہے جس کی کمی ایاز میں بھی ہے اس لیے وہ مسلسل جی ڈی ای کے پلیٹ فارم پر ناکام ہو رہے ہیں۔

جی ڈی ای کے احتجاج سے لگتا ہے کہ پیر پگارا جی ایچ کیو سے ناراض ہے لیکن اب یہ دیکھنا ہو گا کہ عمران خان کی حمایت پیر پگارا کو کتنی مہنگی پڑتی ہے۔

اس احتجاج کا دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کٰہ مولانا کی پارٹی جے یو آئی نے بھی پیر پگارا کی حمایت کردی ہے۔ جب کہ آج تک جے یو آئی نے سندھ سے کبھی بھی ایک سیٹ نہیں جیتی۔ مولانا کی پارٹی جے یو آئی نے کے پی کے میں ہار گئے ہیں اور وہ سیٹیں پی ٹی آئی کو ملیں ہیں مگر وہاں تو مولانا نے عمران خان سے ہاتھ ملا دیا ہے جو اس کو برے ناموں سے اپنے جلسوں میں پکارتا تھا۔

اب لگتا ہے کہ آنے والی حکومت کے لیے چیلنج بڑھ جائیں گے اور ملک میں اگلے پانچ سال بھی سیاسی عدم استحکام ہی رہے گا۔

Facebook Comments HS