پہلے آنے والوں کی ذمہ داری: ایک اخلاقی منظرنامہ


sajid mehmood chohan

میں لاہور کی ایک سوسائٹی میں رہائش پذیر ہوں جہاں پر ایک بڑی جامعہ مسجد ہے مجھے اپنے والد محترم کو لے کر ہر جمعہ کی نماز کے لئے جانا ہوتا ہے۔ والد صاحب کی آنکھوں کی بینائی بہت کم ہونے کی وجہ سے ان کو انتہائی محتاط انداز میں مسجد میں لے کر جانا ہوتا ہے تاکہ کوئی ٹھوکر وغیرہ نہ لگ جائے۔ عموماً جو نمازی خطبہ کے قریب آتے ہیں ان کو اپنی گاڑی یا سواری کو پارک کر کے مسجد میں پہنچے میں دیر ہو جاتی ہے کیونکہ پہلے آنے والوں نے اگلی تمام نشستیں حاصل کر چکی ہوتی ہیں اسی طرح صفوں میں بھی نمازی آتے ہی شروع میں بیٹھ جاتے ہیں اور بعد میں آنے والے انتہائی تنگی سے اور مشکل سے اپنے لئے جگہ بناتے اور بسا اوقات ایک کثیر تعداد کھڑی ہو جاتی اور خطبہ سننے کے بعد جب نمازی کھڑے ہوتے اس وقت لوگ اندر جاتے اور یہ سلسلہ میں سالوں سال سے دیکھ رہا ہوں۔

پارکنگ کے دوران میں نے ایک اور چیز کا مشاہدہ کیا چند صاحب جن کی گاڑیاں بہت ہی قیمتی معلوم ہوتی ہیں وہ جب گرم موسم میں گاڑیاں پارک کرتے ہیں تو درختوں کی چھاؤں پانے کے لئے گاڑی اس انداز سے پارک کرتے ہیں کہ دو سے تین گاڑیوں کی پارکنگ حاصل کر لیتے ہیں جبکہ ان کی گاڑیوں میں اے سی وغیرہ کی سہولت بھی میسر ہوتی ہے۔ ان سب مشاہدات کے نتیجے میں مجھے چائنہ کا ایک واقعہ یاد آ گیا۔ ایک مرتبہ شینزن (چائنہ کا شہر) میں ایک کمپنی کے سیلز مینیجر نے اپنی فیکٹری کا مشاہدہ کرانے کے لئے مجھے میرے ہوٹل سے پک کیا اور فیکٹری لے گیا۔

فیکٹری کا وقت 8:30 بجے صبح تھا تو یہ جوان مجھے تقریباً کوئی 7:30 بجے صبح لے کر پہنچ گیا۔ میرے میزبان سیلز مینیجر نے اپنی گاڑی پارکنگ کے آخری لین میں پارک کی اور ہمیں وہاں سے فیکٹری آفس تک تقریباً بیس منٹ پیدل چلنا پڑا میں نے اپنے میزبان سے کہا کہ صبح صبح اتنی گرمی میں آپ نے کافی پیدل چلایا جبکہ ہم تو پہلے آچکے تھے تو ہمارا حق گاڑی شروع میں پارک کرنے کا تھا۔ تو اس میزبان چائنیز سیلز مینیجر نے مجھے حیران کر دینے والی بات بتائی اس نے کہا کہ پہلے آنے والوں کا حق یہ ہے کہ وہ بعد میں آنے والوں کا خیال کریں اور بعد میں آنے والوں کا حق یہ ہے کہ انہیں قریب کی پارکنگ ملے تاکہ وہ جلد اپنے دفتر پہنچ کر اپنا کام انجام دے سکیں۔

پہلے آنے والوں کے پاس تو کافی وقت ہوتا ہے اپنی منزل پر پہنچنے کے لئے جبکہ بعد میں آنے والوں کے پاس عموماً وقت میسر نہیں ہوتا۔ آج میں جلدی آیا ہوں کل کو میں دیر سے بھی آ سکتا ہوں اس وقت مجھے اس عمل کی بے حد ضرورت ہوگی۔ میں نے اس سے پوچھا یہ سوچ بہت اچھی ہے یہ آپ نے کہاں سے سیکھی، کیا اس فیکٹری والے نے آپ کو یہ سوچ دی ہے تو اس شخص نے کہا ہاں کمپنیز میں اس طرح کی باتیں ہوتی رہتی ہیں لیکن میں نے یہ سوچ اپنے سکولز سے سیکھی ہمیں سکولز میں یہ سکھایا جاتا ہے کہ ہم نے کس طرح دوسرے انسانوں کے لئے مفید اور کارآمد بننا ہے۔

اس واقعہ کے یاد آتے ہی مجھے اس بات کا شدت سے احساس ہوا کہ ہمارے سکولز میں کس قدر خودغرضی سکھائی جاتی ہے اور پوزیشن اور کامیابی کے نام پر کس قدر تفرقہ اور نفرت پیدا کی جاتی ہے۔ وہ آپ سے آگے بڑھ جائے گا۔ تم اس سے پیچھے رہ جاؤ گے۔ ایسا غیر معیاری اور غیر اخلاقی مقابلہ کے نام پر ٹیم کی روح پیدا کرنے کی بجائے ساتھیوں سے جیتنے کے نام پر ساتھیوں کو ناکام کرنے کے فلسفہ پر کام ہوتا ہے۔ روڈ پر اگر کسی شخص کو اگر حقیقتً کوئی جلدی بھی ہو تو آگے والا صرف اس بات پر راستہ نہیں دیتا کہ وہ پیچھے والا مجھ سے آگے نہ نکل جائے۔

جہاں ایک شخص نے پارکنگ کو جان بوجھ کر تھوڑی دور کیا تاکہ دیر سے آنے والوں کے لیے جگہ خالی رہے۔ اس واقعہ کو ہم ایک بڑے اصول کی مثال کے طور پر جان سکتے ہیں کہ ”پہلے آنے والوں کی ذمہ داری زیادہ ہوتی ہے“ ۔ اس اصول کی اخلاقیات پر اپنے حلقہ احباب میں بات کرنا ضروری ہے کہ کیسے پہلے آنے والے افراد کو دوسروں کے لیے زندگی آسان بنانے کی زیادہ ذمہ داری ہوتی ہے۔ ایسے میں معاشرتی ذمہ داری کے تصور پر روشنی ڈالنا، جہاں افراد اور ادارے دوسروں کے فائدہ کے لیے اپنے اعمال کو ڈیزائن کرتے ہیں۔

روزمرہ کی زندگی میں اس اصول کے عملی اثرات کو بیان کرنا، جیسے کام کی جگہوں پر، سماجی تقریبات میں، اور عوامی جگہوں پر۔ مختلف شعبہ جات (کاروبار، تعلیم، صحت کی دیکھ بھال) میں اس اصول کی عملی مثالوں کا جائزہ لینا بے حد ضروری ہے۔ اس اصول کی اہمیت پر زور دینا کہ کیسے یہ معاشرتی بہتری کی طرف لے کر جا سکتا ہے۔ قارئین کو اپنے روزمرہ کے اعمال میں اس اصول کو اپنانے کی ترغیب دینا بہت ضروری ہے۔ ایک اخلاقی معاشرہ بنانے میں ایک فرد کے ساتھ ساتھ اس ملک کے تعلیبی سسٹم، تربیتی سسٹم اور تمام اداروں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے جس کی بدولت ایک فرد اور معاشرے کی اچھی تربیت ممکن ہے۔