اف یہ صحافیوں کے ماٹھے حالات


رہا گردشوں میں ہر دم میرے عشق کا ستارہ۔ محمد رفیع کا یہ گانا سن کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گردشوں میں عشق کا ستارہ نہیں بلکہ صحافیوں کا ستارہ ہے۔ مایوسی کے جو کالے بادل عصر حاضر کی صحافی برادری پر چھائے ہوئے ہیں اس میں صحافی اندھیروں میں بہتر مستقبل کے لیے ٹامک ٹوئیاں مارتے پھر رہے ہیں۔

کبھی ہمارے ملک میں بھی صحافت بہت ہی پروقار، پر اثر ہوا کرتی تھی لیکن فی زمانہ مادیت پرستی نے جہاں دیگر شعبوں کو غرق گرداب کیا وہاں صحافت بھی نہ بچ سکی۔

افسوسناک بات کہ جانبدار میڈیا کا الزام لگنے کے بعد اب پاکستان صحافیوں کے لیے خطرناک ملک خیال کیا جانے لگا ہے۔ قارئین صحافی برادری کے لیے مشکلات ہر دور میں رہی ہیں مگر عصر حاضر میں خطرات زیادہ منڈلانے لگے ہیں۔ جرنلسٹ پروفیشنلز کو قتل، دھمکیوں، معاشی استحصال اور اغوا جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ حق سچ کی پاداش میں صحافیوں کی پکڑ دھکڑ پہلے بھی ہوتی تھی۔ معلوم ہو جاتا تھا کہ فلاں فلاں جیل میں ہیں لیکن صد افسوس کہ آج کل تو ان کا سراغ بھی نہیں ملتا کہ کہاں گئے۔

جو کہ تشویشناک پہلو ہے۔ صحافیوں پر سب و شتم اور استحصالی ہتھکنڈوں سے نجات کا موثر حل یہی ہے کہ صحافیوں پر حملوں میں ملوث ریاستی یا غیر ریاستی عناصر کو بے نقاب کر کے سزا دی جائے ورنہ انہیں ون بائی ون ٹارگٹ کرنے کا سلسلہ جاری رہے گا۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ پاکستان کے چند اولوالعزم، بہادر صحافیوں نے پریس سنسر شپ اور ان پر قاتلانہ حملوں کے باؤ جود صحافت کی اعلیٰ اقدار کا ہمیشہ تحفظ کیا ہے۔ جو وطن عزیز کے لیے کسی مان سے کم نہیں۔ لیکن صحافیوں میں موجود چند کالی بھیڑوں کی وجہ سے صحافت کا مقدس پیشہ بد نام ہو گیا ہے۔

صحافیوں کا ایک گروہ خواہ پرنٹ میڈیا ہو یا الیکٹرانک میڈیا بے بنیاد، جھوٹی، اشتعال انگریز خبروں، متصادم جذباتی سیاسی اور مذہبی نظریات کے فروغ میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے میں لگا ہوا ہے جس کے نتیجے میں مذہبی، طبقاتی ٹکراؤ، قتل و غارت گری، نفرت و انتقام کے جذبات کا دور دورہ ہے۔ پے درپے دروغ گوئی اور مفاد پرستی کو اخلاقی اقدار پر ترجیح دینے سے سماج بحران کا شکار ہو چکا ہے۔ ایسے چند مافیاز کو آشکار کرنا وقت کی پکار بن چکا ہے صحافیوں کے مسائل کا حل صحافیوں کے اتحاد ہی میں ممکن ہے مگر مجال ہے کہ کبھی اکٹھے ہوں۔ وکلاء اتحاد، پیرامیڈیکل سٹاف کا اتحاد ہمارے سامنے جیتی جاگتی مثال ہے لیکن صحافی برداری کا کوئی ایکا نہیں۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ پھلتی پھولتی میڈیا انڈسٹری میں زوال کی کیفیت دکھائی دیتی ہے۔ نوکریوں کی گنجائش سکڑتی جا رہی ہے۔ ہزاروں صحافی اور کارکن بے روزگار بیٹھے ہیں۔ جن کی نوکریاں برقرار ہیں، انہیں تنخواہوں میں کٹوتی کا سامنا ہے۔ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ آج کل ایک نیا ٹرینڈ چلا ہے جس کو ہم ”ٹرینی“ کہتے ہیں، مطلب ہم کام ان سے فل صحافیوں والا لے رہے ہیں لیکن ان کو پیسے نہیں ادا کر رہے۔ گویا صحافیوں کے ساتھ پیٹ نہیں لگا ہوا۔ کیا ان کے بال بچے نہیں کیا ان کے اخراجات نہیں۔ حیران کن بات کہ بڑے نشریاتی اداروں میں تنخواہ دینا تو دور کی بات کئی بیچاروں کو تو ڈی جی پی آر کے ایکریڈیشن کارڈز تک رسائی مشکل کردی ہوئی ہے تو پریس کلب کی ممبر شپ کے خواب کیا دیکھے جائیں!

سب سے پہلا مسئلہ اداروں کا ہے۔ اداروں کے اندر تنخواہوں کو لے کر ایک مہیب ڈسکریمینیشن ہے۔ مطلب رپورٹر، کیمرہ مین، فوٹوگرافر، پروڈیوسرز اور اینکرز اور اس کے علاوہ جو باقی ڈیپارٹمنٹس ہیں سروس اسٹرکچر نہ ہونے کے باعث سب کا پے سکیل ایک نہیں ہے۔ صحافیوں کے دفتر آنے کا وقت مقرر ہے مگر جانے کا نہیں یعنی اتنا ورک لوڈ ہوتا ہے۔ صحافتی ادارے اس بات سے بے خبر ہیں کہ کوئی حادثہ رونما ہو جائے تو صحافیوں کی صحت پر کیا اثر پڑ سکتا ہے۔

عام آدمی کے پاس یہ آپشن موجود ہوتا ہے کہ وہ بری خبروں کو نظر انداز کر دیں جبکہ صحافیوں کو اس صورتحال کا مسلسل سامنا کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے نفسیاتی لحاظ سے شدید متاثر ہو جاتے ہیں۔ موقف یہ ہے کہ شعبہ صحافت میں جو بھی مستقل مزاجی کے ساتھ عوام الناس کو سیاسی سماجی، اقتصادی، معاشی، اخلاقی لحاظ سے آگاہی فراہم کرتا ہو ان کو تنخواہیں دی جائیں اور مزید برآں ان کی پوزیشن بھی واضح کی جائیں کہ رپورٹر ہے یا کالم نگار، اینکر پرسن ہے یا پروڈیوسر۔ اگر اصلاحات نہ کی گئیں تو لوگ انہیں تھوڑا بہت معاوضہ دے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیں گے جو کہ معاشرتی تباہی کے لیے ایندھن ثابت ہو گا۔

Facebook Comments HS