سازش سے مداخلت تک۔ آپ ہی اپنی اداؤں پہ ذرا غور کریں
عمران خان وزیر اعظم تھے۔ ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد زوروں پر تھی۔ 27 مارچ 2022 کو اسلام آباد کے پریڈ گراؤنڈ میں پی ٹی آئی کے جلسے میں انہوں نے جیب سے خط نکال کر ، اپنے کارکنوں سے کہا کہ ’یہ وہ خط ہے، جو امریکہ سے لکھا گیا اور اس میں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر ہماری حکومت گرانے کی سازش کی گئی۔ حقیقی آزادی کا یہ سفر آغاز کے ساتھ ہی درپردہ غلامی کے سفر میں بدلنے لگا۔ جو حالیہ انتخابات کے بعد منظر عام پر آ گیا۔ اس کی پرتیں عمران خان کی وزارت عظمیٰ چھن جانے کے بعد کھلنا شروع ہو گئیں تھیں عمران خان نے اسی امریکا کا دروازہ کھٹکھٹایا جسے وہ اپنی حکومت گرانے کا ذمہ دار قرار دیتے رہے۔
ستمبر 2023 میں عمران خان کی مبینہ آڈیو لیک میں عمران خان نے کہا تھا کہ ’ہم نے صرف کھیلنا ہے، امریکہ کا نام نہیں لینا۔ نومبر 2021 ء میں فنانشل ٹائمز کو انٹرویو میں عمران خان نے مبینہ امریکی سازش کے حوالے سے کہا کہ‘ اب وقت گزر چکا، ہمیں آگے کی طرف دیکھنا چاہیے۔ ’وہ امریکا سمیت ہر ملک سے خوشگوار اور بہتر تعلقات کے خواہاں ہیں۔
9مئی کے بعد اپنے گرفتاری سے پہلے انہوں نے امریکی ڈیمو کریٹس دستور سازوں ٹیڈلزایرک سوالویل، بریڈ شرمن اور مائیک لیون سے ملاقات کی، ایک امریکی خاتون رکن کانگریس میکسین مورو سے ایک مبینہ آڈیو، میں عمران خان نے ان سے اپنے لیے حمایت طلب کی۔ عمران نے سرخ لکیر اس وقت پار کی جب امریکا میں پی ٹی آئی نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر پاکستان پر پا بندیاں لگانے پر زور دیا۔ اس مقصد کے لیے تحریک انصاف نے پاکستان میں انسانی حقوق کی پامالی کا بیانیہ اجاگر کرنے کے لئے ”آئی سی سی آر پی“ میں ایک رپورٹ، حکومت اور افواج پاکستان کی کردار کشی کے لئے انتہائی متعصبانہ دستاویزی فلم بھی تیار کروائی۔
دو سے تین سینیئر حاضر سروس فوجی افسروں کے نام بھی من گھڑت اور جھوٹی کہانی میں شامل کیے گئے۔ امریکی اور مغربی میڈیا میں سپانسرڈ آرٹیکلز کی اشاعت کے ذریعے پاک فوج، انٹیلی جنس ایجنسیوں، الیکشن کمیشن اور دیگر اداروں کو ٹارگٹ کیا گیا۔ تحریک انصاف نے اوورسیز ارکان کے سرمائے سے میڈیا ریلیشن اور لابنگ کے لئے امریکا کی دو فرمز سے اس لیے معاہدہ کیا تا کہ انتخابات کو متنازع، پی ٹی آئی کو مقبول جماعت ظاہر کرنے، مسلح افواج اور عوام میں خلیج پیدا کرنے، پروپیگنڈے کے ذریعے 9 مئی کو ”فالس فلیگ آپریشن“ ثابت کر کے، حکومت و اسٹیبلشمنٹ پر عالمی دباؤ ڈلوا کر عمران خان اور پی ٹی آئی کے لیے رعایت کے اہداف حاصل کیے جائیں۔
اکانومسٹ میں بانی پی ٹی آئی کا وہ مضمون شائع کرانے میں ان ہی پی آر فرمز نے کردار ادا کیا، جس میں امریکا اور پاک فوج پر الزام لگایا گیا کہ امریکا کو اڈے نہ دینے پر بانی پی ٹی آئی کی حکومت کو ختم کیا گیا، پی ٹی آئی اس سے قبل اسلام آباد میں سی آئی اے کے سابق اسٹیشن چیف رابرٹ گرینئیر کی سربراہی میں ایک کنسلٹنسی فرم کی خدمات بھی لیں۔ اپریل 2022 میں پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے پر امریکا میں لابنگ فرم فینٹن ارلوک کی خدمات بھی حاصل کی گئیں، تحریک انصاف کے ایک بڑے پاکستانی امریکی حامی فیاض قریشی نے ”فرینڈز آف ڈیموکریٹک پاکستان“ نام کا ادارہ بنا رکھا ہے انہوں نے واشنگٹن ڈی سی میں ایک لابنگ فرم ایل جی ایس ایل ایل سی کو 16 مارچ 2024 تک 45 دنوں کے لیے 50 ہزار ڈالر میں ہائر کیا۔ جن میں سے 35 ہزار ڈالر 11 اور 17 جنوری کو دو اقساط میں ادا کیے گئے۔ یہ لابنگ کنٹریکٹ اسٹیفن پائن کے ساتھ کیا گیا یہ وہی ریپبلکن لابسٹ ہیں جنہوں نے پرویز مشرف کے لیے بھی 11 ستمبر کے حملوں کے بعد 2001 میں کام کیا تھا۔ پائن نے مشرف سے ایک سالہ کنٹریکٹ کے لیے 1 لاکھ 80 ہزار ڈالر لیے تھے۔
عمران خان اپنی مقبولیت کی بنیاد پر سمجھتے ہیں کہ ان کے پاس اقتدار میں واپسی کا موقع موجود ہے مزید امریکی مخالفت سے واپسی کے راستے مسدود ہو جائیں گے۔ اس لیے وہ امریکہ سے اپنے تعلقات بہتر کرنے کے لیے امریکن ڈپلومیٹس سے بھی ملتے رہے۔ عمران خان ماضی میں اپنے پیروکاروں کو یہ بتاتے رہے ہیں کہ وہ پاکستان کو امریکی اثرات سے نجات دلانا چاہتے ہیں۔ پی ٹی آئی کے حامی عمران خان کے ایک انٹرویو میں امریکہ کو ہوائی اڈے دینے کے سوال پر ’ایبسولوٹلی ناٹ‘ کہنے اور یوکرین روس جنگ میں غیر جانب داری کی ان کی پالیسی کو بھی عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے اسباب قرار دیتے ہیں۔
حالیہ انتخابات کے بعد پی ٹی آئی کے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے یہ مطالبہ سامنے آیا ہے کہ امریکہ انتخابات میں ہونے والی دھاندلی پر آواز اٹھائے۔
پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے ترجمان بیرسٹر سیف نے اسد قیصر کے ساتھ اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بعد بتایا کہ عمران خان نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ پاکستان کے انتخابات میں دھاندلی، بدانتظامی اور پی ٹی آئی کو مختلف حربوں سے الیکشن میں حصہ لینے سے روکنے کے لیے مذمت اور اس کے خلاف آواز اٹھانا امریکہ کا فرض ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکہ نے پاکستان کے انتخابات میں دھاندلی کی مذمت کی ہے۔ تاہم ان بیانات میں مزید وزن پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔
قیام پاکستان سے اب تک پاکستانی سیاست دان امریکہ مخالف بیانیہ اپنی مقبولیت بڑھانے کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔ عمران خان نے بھی امریکہ سے آس لگا کر یہ ثابت کیا کہ وہ بھی دوسروں سے مختلف نہیں حقیقی آزادی کی انقلابی ہنڈیا چوراہے میں پھوٹ گئی ہے :
آپ ہی اپنی اداؤں پہ ذرا غور کریں
ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہو گی
عمران خان کے موجودہ موقف پر سوشل میڈیا پلیٹ فورم ایکس پر یہ تبصرہ بھی سامنے آیا کہ امریکہ کو فوجی اڈوں کے فرضی مطالبے پر ’ایبسولوٹلی ناٹ‘ کہنے والے سیاسی اڈے پیش کر رہے ہیں۔ ایک اور پوسٹ میں کہا گیا کہ امریکی سازش سے شروع ہو نے والا بیانیہ سیاست میں امریکی مداخلت کی دعوت تک آ گیا ہے ۔ عمران خان کی ایک مخالف جماعت نے کہا کہ تحریک انصاف اب امریکہ سے پاکستان کی سیاست میں مداخلت کی بھیک مانگ رہی ہے۔
بعض صحافیوں نے بیرسٹر سیف اور اسد قیصر سے یہی سوال پوچھا کہ ماضی میں تو عمران خان امریکہ کے سیاسی کردار کے ناقد رہے ہیں۔ ان کا حالیہ پیغام امریکہ کو پاکستان میں سیاسی مداخلت کی دعوت دینے کے مترادف نہیں؟
اسد قیصر کا کہنا تھا کہ ہم امریکہ کو دعوت نہیں بلکہ اسے اس کی ذمے داری یاد دلا رہے ہیں۔
بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ امریکہ کے پاس موقع ہے کہ وہ اپنے ماضی کے کردار کو شفاف اور قابل اعتبار بنانے کے لیے پاکستان کے الیکشن میں ہونے والی دھاندلیوں پر سخت ردعمل دے۔ الیکشن کے انعقاد کے بعد امریکہ کا دفتر خارجہ متعدد بار اپنے بیانات میں انتخابی عمل سے متعلق اٹھنے والے سوالات پر تشویش کا اظہار کر چکا ہے۔
اپنے حالیہ بیان میں امریکہ کے دفتر خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے کہا ہے کہ پاکستان کے عام انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات کے لیے مناسب اقدامات ہونے چاہئیں جبکہ حکومت سازی پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے۔ ہم نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں انتخابی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کا مطالبہ دہراتے رہیں گے۔ پاکستان میں انتخابات مقابلے کے تھے اور جب عوام کی منتخب کردہ حکومت بن جائے گی تو ہم اس کے ساتھ چلنے کے لیے تیار ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ نے پاکستان کے انتخابات سے متعلق یورپی یونین، برطانیہ اور دیگر ممالک کی طرف سے ظاہر کیے گئے اظہار تشویش کی بھی تائید کی۔ امریکی ایوان نمائندگان کی فارن افیئرز کمیٹی کی رکن سوزن وائلڈ نے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ وقت ہے کہ بین الاقوامی برادری پاکستانی عوام کے ساتھ کھڑی ہو۔
دوسری جانب دولت مشترکہ کے الیکشن مبصر گروپ نے پاکستان میں ہونے والے حالیہ پرتشدد حملوں کے باوجود انتخابی عمل کے انعقاد پر پاکستانی حکام اور الیکشن کمیشن کو سراہا ہے۔


