فلم ”منا بھائی“ اور الیکشن کے فاتحین
منا بھائی ایم بی بی ایس سال 2003 میں بننے والی ایک ہندی فلم تھی جس نے اپنی منفرد کہانی، اعلی کردار نگاری، اور بہترین ہدایت کاری کی بدولت فقید المثال کامیابی حاصل کی تھی۔
فلم کا ہیرو مرلی پرشاد شرما عرف منا تھا جو گھر سے بھاگ کر شہر آ جاتا ہے جہاں وہ منا سے منا بھائی بن کر اپنے علاقے کا سب سے بڑا غنڈا بن جاتا ہے۔ بعد ازاں منا بھائی اپنے والدین کی بے عزتی کا بدلہ لینے کے لیے شہر کے سب سے بڑے میڈیکل کالج میں داخلہ لینے کی ٹھان لیتا ہے جس کا پرنسپل وہی ڈاکٹر تھا جس نے منا بھائی کے والدین کی بے عزتی کی تھی۔ چنانچہ وہ اسی میڈیکل کالج کے ایک نوجوان ڈاکٹر کے والد کو اغوا کرنے کے بعد ڈاکٹر کو اپنی جگہ داخلے کا امتحان دینے پر مجبور کر دیتا ہے۔ منا بھائی کی حکمت عملی کامیابی سے ہمکنار ہوتی ہے اور وہ ڈاکٹر کی ذہانت کے بل بوتے اول پوزیشن حاصل کرنے کے علاوہ کالج میں داخلہ لینے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔
منا بھائی اس کامیابی پر نادم ہونے کے بجائے اس زور زبردستی کی کامیابی کو اپنی حقیقی کامیابی قرار دیتے ہوئے اپنے علاقے میں اور بعد ازاں میڈیکل کالج میں ہر ملنے والے کو یہ بات انتہائی فخر سے بتانے میں کوئی تعمل نہیں کرتا کہ اس نے کالج کے داخلے کے امتحان میں پہلی پوزیشن حاصل کی ہے۔
قارئین کرام اس مضمون کی حد تک منا بھائی ایم بی بی ایس کی کہانی یہاں ختم ہو جاتی ہے اور اب بات ہوگی ان لاتعداد منا بھائیوں کی جن کا جنم ملک عزیز میں 8 فروری کے عام انتخابات کے بعد ہوا ہے۔ یہ تمام حضرات 8 فروری کی رات کو اپنے اپنے حلقہ انتخاب میں بہت بڑے فرق کے ساتھ شکست سے دوچار ہو رہے تھے۔ لیکن 9 فروری کا سورج ان منا بھائیوں کے لیے انتہائی خوشی اور شادمانی کا پیغام لے کر طلوع ہوا اور جوں جوں دن گزرتا گیا یہ تمام حضرات بڑے فرق کے ساتھ کامیاب قرار پائے۔
اگرچہ قانونی، اخلاقی اور مذہبی اقدار کے مطابق ان تمام حضرات کو بلند کردار کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کامیابی سے لاتعلقی کا اعلان کرنا چاہیے تھا لیکن فلمی منا بھائی کی طرح یہ تمام لوگ اخبارات و جرائد، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر انتہائی تندہی سے اپنی نام نہاد جیت کو حقیقی کامیابی ثابت کرنے کی سر توڑ کوشش میں مصروف عمل ہیں۔
قارئین کرام ان تمام منا بھائیوں کی سربراہی تین دفعہ کے سابق وزیراعظم اور چوتھی بار وزیراعظم بننے کی کوشش میں ہزیمت اٹھانے والے مسلم لیگ نون کے تاحیات قائد جناب میاں محمد نواز شریف کر رہے ہیں۔ صاحب مضمون کے لیے 9 فروری کی شام ایک عجب شام تھی جب میاں صاحب مانسہرہ میں تقریباً 30 ہزار ووٹوں کی شکست اور لاہور میں اپنے آبائی حلقے میں ریٹرننگ آفیسر کی بخشی ہوئی نشست کی بدولت ماڈل ٹاؤن لاہور میں اپنی رہائش گاہ کی بالکنی میں کھڑے اپنی فتح کا بگل بجاتے ہوئے آئندہ حکومت بنانے کا اعلان کر رہے تھے۔
بدقسمتی سے وہ اس وقت ایک قد آور سیاستدان کی بجائے صرف اور صرف فلمی منا بھائی لگ رہے تھے جو میڈیکل کالج میں داخلے کے امتحان میں خود ساختہ اول پوزیشن حاصل کرنے کا اعلان ہر کسی کے ساتھ کر رہا تھا۔ صاحب مضمون کے لیے یہ منظر اس لیے بھی ناقابل فراموش تھا کہ اس وقت میاں صاحب کے دائیں جانب ان کی ہونہار ”سیاسی جانشین“ مریم نواز صاحبہ اور بائیں جانب مسلم لیگ نون کے صدر میاں شہباز شریف کھڑے تھے جن کے چہرے شرمندگی کی بجائے اس زور زبردستی کی نام نہاد کامیابی کی خوشی میں کھلے ہوئے نظر آرہے تھے۔
قارئین کرام ان منا بھائیوں کی فوج ظفر موج میں ایک نمایاں حصہ ایم کیو ایم پاکستان کے قائدین کا ہے جو آج سے صرف چند ماہ پہلے عوامی ناپسندیدگی کے باعث سندھ میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کا بائیکاٹ کرنے پر مجبور ہو گئے تھے۔ لیکن اس مرتبہ پی ڈی ایم کی مخلوط حکومت کی بدترین کارکردگی کے باوجود اپنے حقیقی آقاؤں کی بھرپور اعانت کی بدولت وہ ایک بار پھر منا بھائی کے روپ میں کراچی جیسے اہم اور حساس شہر پر مسلط کر دیے گئے ہیں۔ یہ تمام منا بھائی اس وقت پی ڈی ایم 2 کی متوقع نئی حکومت میں 3۔ 5 وزارتوں اور سندھ کی گورنری حاصل کرنے کے لیے سرگرم عمل ہیں جو کہ کراچی کے انتہائی ذی شعور عوام کے ساتھ ایک کھلا مذاق ہے۔
قارئین کرام فلمی منا بھائی کی اداؤں اور خوش فہمیوں پر تمام سینما گھر فلم بینوں کے قہقہوں سے گونجتے تھے لیکن 8 فروری کے بعد جنم لینے والے پاکستانی سیاست کے منا بھائی کسی بھی عوامی پذیرائی سے محروم نظر آرہے ہیں جہاں عوام الناس کی بڑی اکثریت کسی بھی سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر انہیں انتہائی ”نیک القابات“ سے نواز رہی ہے لیکن جس طرح چکنے گھڑے پر کوئی بوند نہیں ٹھہرتی عین اسی طرح یہ تمام منا بھائی محض چکنے گھڑے ثابت ہو رہے ہیں مگر وہ اس کے علاوہ کر بھی کیا سکتے ہیں کیونکہ وہ مقتدرہ کے بنائے ہوئے کمبل میں کچھ اس طرح لپیٹ دیے گئے ہیں کہ اگر چاہیں بھی تو چھٹکارا حاصل نہیں کر سکتے۔
قارئین کرام 8 فروری کے بدترین انتخابات نے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ کمزور ترین اقتصادی صورتحال، کمر توڑ مہنگائی اور دہشت گردی کے گرداب میں پھنسے ہوئے لاچار اور بے بس عوام کو ایک بار پھر غیر یقینی مستقبل اور غربت کے اندھیروں میں دھکیل دیا گیا ہے۔ لیکن 8 فروری کے بعد جنم لینے والے لا تعداد منا بھائی کمشنر راولپنڈی کی جانب سے انتخابات میں ہونے والی کھلی دھاندلی کے اعتراف کے باوجود اپنے حقیقی آقاؤں کی طرف سے لکھے ہوئے ایک اور سکرپٹ میں اپنا اپنا کردار ادا کرنے کے لیے ابھی سے بے چین اور بے تاب نظر آ رہے ہیں جو کہ ہر لحاظ سے ایک عظیم قومی المیہ ہے۔


