ایرانی انقلاب اور دیسی دانشور
ایرانی قوم انقلاب ایران کی سالگرہ ہر سال بڑے دھوم دھام سے مناتی ہے۔ سابقہ برسوں کی طرح اس سال بھی پاکستان میں قائم خانۂ فرہنگ ایران نے لاہور کے پرل کانٹی نینٹل ہوٹل میں 45 ویں سالگرہ کا اہتمام بڑی دھوم دھام سے کیا۔ سول لائنز کالج کے پرنسپل صاحب نے دعوت نامے کو قبولیت بخشی اور بشمول اپنے مجھ سمیت دو تین بندوں کے نام شرکت کے لیے بھیج دیے۔ مگر مقررہ تاریخ کو عین موقع پر پرنسپل سمیت سب نے اپنی اپنی خانگی مصروفیات کی معذوری ظاہر کر دی، یوں ایک بار پھر ”نخل دار“ میں ”سر منصور ہی کا بار آیا“ اور خاکسار کو تنہا ایرانی انقلاب کی تقریب میں شریک ہونے کا فریضہ سونپا گیا۔
تقریب میں بہت ہی عزیز مہربان، فارسی زبان و ادب کے استاد، پروفیسر آف امریطس، ڈاکٹر اقبال شاہد، سچ ٹی وی کے بیورو چیف، حنیف قمر، ہوم اکنامکس یونیورسٹی کی وائس چانسلر، ڈاکٹر فلیحہ زہرا کاظمی کے علاوہ آنسہ سنبل صنم، رامین فاطمہ، خالد فاروق، پروفیسر سید ہاشم اور بہت سے پیاروں سے ملاقاتیں ہوئیں، ڈاکٹر ریاض وٹو تو خیر اپنے ہی ہیں۔ تقریب میں گورنر پنجاب، بلیغ الرحمن، مختلف ملکوں کے سفیر، خانۂ فرہنگ ایران کے مدارالمہام و دیگر ایرانی زعماء انگریزی، فارسی تقاریر میں کچھ نہ کچھ کہہ رہے تھے۔ جو یقیناً اچھی باتیں تھیں۔ ان میں انقلاب ایران کے ساتھ ایران کی تہذیب، کلچر اور ادب کا بیان بھی ضرور ہو گا کیونکہ ایرانی اپنی تہذیب و کلچر کو زندہ رکھنے اور فروغ دینے کو ملکی سلامتی کی طرح عزیز رکھتے ہیں۔ میں فارسی زبان کا ماہر نہیں، البتہ تھوڑا بہت جگاڑ لگا کر معانی کی تفہیم کے قریب پہنچ جاتا ہوں۔ یہاں میں نے فارسی زبان میں مقررین کی تقریروں کو سمجھنے کی زیادہ کوشش نہیں کی مگر اس شعر کو سمجھنے کی کوشش ضرور کی:
پار سے از رفعت اندیشہ ام
در خورد با فطرت اندیشہ ام
میرے ساتھ بیٹھے ایک صاحب اس شعر کو وجد کے انداز میں آہستہ آہستہ دہرانے کی کوشش کر رہے تھے۔ میں نے ان سے اس شعر کی منشا جاننا چاہی۔ انھوں نے بخوشی مجھے بتایا کہ اس میں فارسی کو لاحق خطرات کا ذکر ہے۔ میں نے حیرت سے الگ الگ مصرعوں کا مفہوم جاننا چاہا تو بولے کہ شاعر کہہ رہا ہے کہ فارسی کی بلندی سے مجھے خطرہ ہے کہ یہ کہیں فطرت سے الجھ نہ پڑے۔ میں نے کہا میرے خیال میں تو شاعر یہ کہہ رہا ہے کہ میرے افکار بلند ہیں اور فارسی زبان کو ان افکار کی فطرت سے بہت مناسبت ہے۔ وہ صاحب کہنے لگے ایک ہی بات ہے، میں نے بھی یہی کہا ہے!
ہال کے نہایت نفیس ماحول میں موجود مقررین کے ارشادات سے بے نیاز ہر کوئی اپنے پیاروں کو دور و نزدیک سے اشارے کرنے میں مصروف تھا یا سیلفیاں اور فوٹو لینے میں۔ میرے ساتھ بیٹھا ایسا ہی ایک دیسی ”دانش ور“ اپنی محبوبہ کو خاصی بڑی سکرین والے موبائل فون پر کال کر کے بڑے اعتماد سے جھوٹ بول رہا تھا:
” پی سی ڈنر تے آیا واں، ایرانیاں نے بہت ای مجبور کیتا سی پئی جرو ر آؤناں“ (پی سی ڈنر پر آیا ہوا ہوں، ایرانیوں نے بہت ہی مجبور کیا تھا کہ ضرور آنا)۔
پھر اس نے جرات رندانہ سے اپنی جانوں مانوں کو ویڈیو کال دے ماری، چونکہ اس کے فون کی سکرین خاصی بڑی تھی اس لیے میں نے بآسانی نقل مار لی۔ نہایت سادہ مگر ڈمپل سے آراستہ رخسار والی کامنی سی مورت والی کم سن دوشیزہ کا دیدار خاصا راحت جاں تھا۔ مجھے اس نازنین پر ترس بھی آیا اور اس کی حماقت پر افسوس بھی ہوا کہ کہ عشق کے لیے اس نے کس قدر غلط انتخاب کیا ہے۔ میری نظروں کا زاویۂ نگاہ سکرین پر مرکوز دیکھ کر اس معشوق فریب انسان نے بس کچھ کہہ کر کال منقطع کر دی
ساتھ والی ایک اور گول میز پر کوئی پیر نما صاحب سر پر مخروطی ٹوپی رکھے اور بھورے خاکی رنگ کی چادر حمائل کیے ہوئے مراقبے کے انداز میں ارد گرد کو متاثر کرنے کے چکر میں آنکھیں بند کر کے فارسی زبان کی تقریروں پر سر یوں سر ہلا رہے تھے، جیسے ان کو سب سمجھ آ رہا ہے۔ ان کے چاروں طرف بیٹھے رنگ برنگی داڑھیوں اور نہایت اوچھے ڈیزائن کی ٹوپیاں سر پر مونڈھے بہت سے عقیدت مندوں نے اس گول میز کو اپنی بے ترتیبی سے ہشت پہلو بنا رکھا تھا۔ میں ایسے ہی تھوڑی دیر ان کے پاس بیٹھا، ایک صاحب سے علیک سلیک ہوئی تو اس بھاری بھر کم توند والے با ریش شخص نے آہستہ سے مجھے پوچھا: آخر اس اکٹھ کا مقصد کیا ہے؟
میں نے وضاحت کی بجائے لاعلمی کے سہارے کو عافیت جانا اور دل میں سوچا کہ اس جیسے دیگر شکم سیروں کے اندر انقلاب کی چھوٹی موٹی حس کو مع معانی اس ساحر نے حشیش زدہ کر رکھا ہے، جس کے ارد گرد بیٹھنا ان کے لیے اعزاز سے کم نہیں۔ تقاریر زیادہ نہیں تھیں البتہ اس کی سمجھ ایرانیوں کے علاوہ ڈاکٹر اقبال شاہد اور ان کے چند دوستوں اور دوستنیوں کو ہی آ رہی تھی۔ البتہ باقی سب لوگوں کو آخر میں فارسی میں کہے گئے اس جملے کا ابلاغ پوری فصاحت سے ہوا، جس کا مفہوم تھا: ”روٹی کھل گئی ہے!“


