فیصلہ کن پینتیس سیکنڈ
کچھ سال پہلے ایک انگریزی فلم ”سلی“ دیکھی جسے کچھ لوگ ”sully، the miracle on Hudson“ کے نام سے جانتے ہیں۔
اس سے پہلے یہ وضاحت کر دوں کہ میں بہت کم فلمیں دیکھتی ہوں اور میاں صاحب اب اتنے مزاج آشنا ہو چکے ہیں کہ بس وہی فلم دکھاتے ہیں، جو پسند آتی ہے۔ سو، ٹام ہینکس کی اداکاری اور ایک خوبصورت مرکزی خیال کے گرد گھومتی یہ فلم واقعی قابل ذکر ہے۔
یہ ایک امریکی کپتان سلی سلنبرجر کی سر گزشت ہے جس نے دریائے ہڈسن پر جہاز اتار کر جہاز کے عملے اور مسافروں سمیت 155 انسانوں کی جان بچائی۔ جب حادثہ وقوع پذیر ہوا اس وقت سلی کو ایک ہیرو گردانا گیا، لیکن جیسا کہ کچھ تجزیہ کاروں کو بخیہ گری کی عادت ہوتی ہے، سو انہوں نے نیا نکتہ اٹھایا کہ جہاز کا ایک انجن کام کر رہا تھا سو اسے قریب ترین ائرپورٹ پر اتارا جا سکتا تھا۔
اب وہی سلی انکوائری کے عتاب کا شکار ہو گیا۔ اس کی عمر بھر کی عزت اور محنت داؤ پر لگ گئی۔ تحقیقات شروع ہوئیں، کمیٹی بیٹھی، جس میں امریکہ بھر کے ایوئیشن ماہرین شامل تھے۔ کمپیوٹر سمیولیشن کی مدد سے ٹیسٹ لئے گئے اور پائلٹس کو وہی وقت دے کر جہاز رن وے پر اتارنے کا امتحان دیا گیا۔ جہاز واقعی رن وے پر اتر گیا۔ یہی ثابت ہوا کہ جہاز اتارا جا سکتا تھا۔ جہاز کی انشورنس کا معاملہ بھی لپیٹ میں آ رہا تھا۔ سارا ملبہ سلی پر ہی ڈالا جاتا۔
جہاز ایک پرندوں کے جھنڈ سے ٹکرایا تھا جب اس کے انجن ناکارہ ہوئے۔ انسان جب تازہ تازہ کسی حادثے سے گزرے تو یوں بھی پریشان ہوتا ہی ہے۔ ایک ”ٹراما“ یا اذیت کا شکار ہوتا ہے۔ سلی کے ساتھ بھی ایسا ہی تھا۔ وہ راتوں کو سو نہیں پا رہا تھا۔ پھر یہاں تو الٹا دلیری گلے پڑ گئی تھی۔ لیکن آخر سلی نے تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے ایک بات کہی جس نے بازی پلٹ کر رکھ دی۔
سلی اس وقت کہتا ہے کہ میں انسان ہوں اور انسان کی قوت فیصلہ کچھ وقت لیتی ہے۔ وہ تمام جہاز کے کپتان جو کمپیوٹر سمیولیشن پر جہاز کو رن وے پر اتار رہے ہیں، ان کی زندگی پر وقت کی قید لگائیں۔ انہیں یہ بتائیں کہ اگر کچھ لمحوں میں جہاز نہیں اترا تو تم اور تمہارے ساتھ 155 زندگیاں ختم ہوجائیں گی۔ اور پھر انہیں فیصلہ کرنے دیں کہ جہاز موڑ کر دریائے ہڈسن پر اتارنا ہے یا قریبی ائرپورٹ پر؟ کمیٹی کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ سلی نے پینتیس سیکنڈ لیے یہ فیصلہ کرنے میں کہ وہ زندگیاں بچائے گا، جہاز نہیں۔
سلی کی منطق تسلیم کی گئی اور سمیولیشن کو پینتیس سیکنڈ کا وقفہ دے سے کر دوبارہ چلایا گیا۔ جہاز رن وے پر اترنے سے پہلے کچھ بلند عمارتوں سے ٹکرا گیا۔ سلی واقعی ایک ہیرو تھا یہ تسلیم کر لیا گیا۔
زندگی میں جب آپ پر کوئی کٹھن وقت آتا ہے، لمحوں میں فیصلہ کرنا ہوتا ہے، تو آپ اپنے حوصلے اور صورتحال کو پیش نظر رکھ کر ہی فیصلہ کرتے ہیں۔ آپ کے کاندھے پر جن زندگیوں کا بوجھ ہوتا ہے وہ آپ ہی جانتے ہیں۔ لہذا اپنے تئیں بہترین فیصلہ کرنے کے بعد مطمئن ہو جائیں۔ اگر آپ کا ضمیر مطمئن ہے، آپ اپنے تمام وسائل کو بروئے کار لائے ہیں، اپنی صلاحیتیں مثبت طریقے سے استعمال کر چکے ہیں تو لوگوں کی باتوں سے پریشان نہ ہوں۔ اور یہ پیغام عمومی طور پر سب کے لئے لیکن خصوصی طور پر ایسے بچوں کی ماؤں کو دے رہی ہوں جن پر معاشرہ ناکارہ یا معذور ہونے کا لیبل لگا دیتا ہے۔
وہ وقت گزر جانے کے بعد سینکڑوں ”دوست“ ”رشتے دار“ ”خیر خواہ“ ”دانش ور“ اور ”کامیاب“ لوگ آپ کو مشورے دینے آئیں، تو وہی کریں جو سلی سلنبرجر نے کیا۔ مفت مشوروں کی بوچھاڑ سے پریشان ہو کر خود کو ناکام نہ سمجھیں۔ کامیابی کیا ہے، یہ وہی سمجھ سکتا ہے جو خود فیصلہ کن پینتیس سیکنڈ گزارے۔ تنقید یا تعریف صرف اسی انسان سے قبول کیجیے جو اس جہاز میں آپ کا ہمسفر ہو، اور جس سے آپ خود مشورہ طلب کرنے جائیں۔



