تبصرہ: شاکا

کہتے ہیں کہ انسانی دماغ اگر اپنی پوری صلاحیتیں استعمال کر لے تو وہ کون کون سے محیر العقول کارنامے انجام دے سکتا ہے اس کے بارے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا۔ شاید اسی لیے کہتے ہیں کہ تخیل حقیقت سے زیادہ حقیقی بن کر سامنے آتا ہے۔ تخیل کو بیان کرنے کے لیے لفظوں کا سہارا لینا قرنوں سے چلا آ رہا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ قصے سننے سنانے کا رواج اور انسانی تاریخ کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ جب تفریح کے دیگر ذرائع نہیں تھے تب بھی لوگوں کو دل بہلانے کے لیے اپنے تخیل کی اڑان کو اونچی پرواز دیتے ہوئے کہانیاں سنانے کا رواج عام تھا۔
اس وقت لوگوں کو اتنی آزادی ہوتی تھی کہ وہ جیسے دل چاہے کہانی کو موڑ سکتے تھے۔ عقل سے ماورا کردار اپنی کہانی میں متعارف کروا سکتے تھے۔ پھر انگریزی ادب اور فلموں میں سائنس فکشن کے نام پر ایسی ایسی اصطلاحات اور ایسی ایسی محیر العقول چیزوں کا ذکر ہوا کہ لگتا تھا یہ سب محض خیالی باتیں ہیں لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان میں سے کچھ باتیں سچ ثابت ہوئیں۔
اگر اردو ادب میں دیکھا جائے تو ابن صفی وہ واحد مصنف تھے جنھوں نے اپنے جاسوسی ناولوں میں جاسوسی کے لیے ایسے ایسے آلات اور حربے استعمال کرتے تھے کہ اس دور میں ان کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ لیکن اب اگر وہ ناول پڑھے جائیں تو لیزر سے نشانہ لینا بعید از قیاس نہیں۔ اردو ادب میں جہاں مختلف اصناف پر طبع آزمائی کی گئی ہے وہیں سائنسی موضوعات پر کم ہی لکھا گیا ہے۔ اس کی وجہ شاید مضمون کا خشک ہونا ہو لیکن چند مصنفین نے جب بھی طبع آزمائی کی انھیں زیادہ کامیابی نہیں ملی۔
لیکن اگر ہم آج سے دو سال پہلے کی بات کریں تو ادبی حلقوں میں ایک نئی مصنفہ کا ذکر عموماً کیا جانے لگا۔ جس نے اپنے متنوع موضوعات سے جلد ہی ناقدین اور قارئین کو اپنی جانب متوجہ کر لیا۔ گو ان کا پہلا ناول تو عام سی رومینٹک کہانی پر مبنی تھا لیکن اس کے یکے بعد دیگر آنے والے ناولوں نے انھیں بہترین مصنفین کی صف میں لا کھڑا کیا۔ جی ہاں میں بات کر رہی ہوں جانی مانی مصنفہ نازیہ کامران کاشف کی جنھوں نے دیکھتے ہی دیکھتے اردو ادب میں ایسی انمٹ نقوش چھوڑ دیے ہیں کہ ان کے جیسا لکھنا تو دور کی بات ان کی نقل کرنے کے لیے بھی عقل کی ضرورت پڑے گی۔ نازیہ کے قلم کو اگر جادو کا قلم کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ یوں تو ان کے قلم سے کئی لازوال ناول نکلے ہیں جن میں بر مودا ٹرائی اینگل، مکلی اور عشق زاد شامل ہیں لیکن آج میں بالخصوص ان کے نئے شائع ہونے والے ناول شاکا پر اظہار خیال کروں گی۔
شاکا، اپنے نام ہی کی طرح جدت اور نیا پن لیے ہوئے ہے۔ شاکا کی کہانی ہماری دنیا کے ساتھ ساتھ متوازی دنیا کے گرد بھی گھومتی ہے جہاں آپ کو ایسے ایسے عفریت کے بارے میں پڑھنے اور جاننے کا موقع ملے گا جن کا نام بھی آج سے پہلے اردو قارئین نے کبھی سنا نہیں تھا۔ یہ صرف نازیہ کے قلم کی بدولت ہی ہوا کہ اردو ادب میں ان عفریت کا نہ صرف تفصیلی ذکر ہوا بلکہ جہاں جہاں کی یہ ماورائی کہانیاں تھیں وہاں ان کے خاتمے کے لیے کیے جانے والے عمل بھی اس ناول میں بڑی خوبصورتی سے پیش کیے گئے ہیں۔
ناول کی کہانی کا آغاز سنہ سترہ سو سے ہوتا ہے جبکہ متوازی دنیا میں بھی ایک کہانی اسی کے ساتھ ساتھ چل رہی ہوتی ہے۔ اس سنہ میں جہاں ڈاکٹر رینزو، لوئس، کافز کے مقامی افراد اور شاکا آپ کو اپنے حصار میں جکڑے رکھیں گے وہیں جیسے جیسے ناول آگے بڑھتا ہے تو سنہ دو ہزار بیس کی کہانی بھی اس کا حصہ بن جاتی ہے اور آپ کو کہیں بھی کسی سطر میں بھی دو الگ الگ دنیاؤں اور برسوں کے درمیان سقم محسوس نہیں ہو گا۔ مانانا انگل، وینڈیگو۔ چوپاکابرا جیسے نام جن کا اردو ادب میں کہیں ذکر ہی نہیں ملتا صرف نازیہ کی بدولت اب اردو قارئین کو پڑھنے ملے ہیں۔
کہانی جیسے جیسے آگے بڑھتی ہے اس میں دیگر کردار جیسے صوفیہ، ڈاکٹر بورس، ڈاکٹر جوشوا، جیکال، شمشیر اور دیگر حکومتی اور فوجی عہدے اور ناموں سے بھی آپ واقفیت کرتے چلے جائیں گے لیکن آپ کو کہیں بھی ایسا نہیں لگے گا کہ مصنفہ نے اپنی علمی برتری آپ پر جھاڑنے کی کوشش کی ہے یا ان کرداروں کا ذکر خواہ مخواہ ناول میں آیا ہے۔ میں یہاں ناول کی کہانی بیان کر کے آپ سب کو اس ناول کو پڑھنے جیسے بہترین تجربے سے محروم نہیں کرنا چاہتی۔ اسی لیے یہاں کہانی کا ذکر نہیں کروں گی۔
شاکا جیسے بہترین شاہکار کے لیے الفاظ ختم ہو جاتے ہیں۔ مجھے سمجھ ہی نہیں آ رہا کہ میں کن الفاظ میں اس ناول کی خوبصورتی، اس کے کردار اور اس کے مناظر آپ سے بیان کروں۔ سائنسی اصطلاحات ہوں یا ڈاکٹر بورس کی جدید لیب، عفریتوں کی ہماری دنیا پر حملہ آوری ہو یا ان کا لرزہ خیز بیان یہ ناول قدم قدم پر آپ کو حیرت کے ایسے ایسے جھٹکے دے گا کہ آپ بے ساختہ دانتوں میں انگلیاں داب لیں گے۔ مجھے تو ہر سطر پر یہ ہی لگا جیسے میں کوئی ہالی وڈ کی فلم دیکھ رہی ہوں جس میں ہر ہر فریم میں ایک نئی دنیا متعارف کروائی جا رہی ہے۔
ناول کی ہر ہر سطر آپ پر کسی فلم کی ریل کی طرح کھلے گی اور آپ اس ناول کے بیانیہ میں ڈوبتے چلے جائیں گے۔ اتنے مشکلات حالات کا ایسا فصیح بیانیہ صرف نازیہ کامران کاشف کے یہاں ہی ملتا ہے۔ اس ناول کے بعد بلاشبہ ان کا شمار موجودہ دور کے اعلیٰ پائے کے مصنفین میں کیا جائے گا کیونکہ کسی خاتون رائٹر کے قلم سے ایسے ایسے سائنسی موضوعات کا لکھا جانا کوئی عام بات نہیں۔
میں خود ایک مصنفہ ہوں لیکن شاکا پڑھنے کے بعد میں ببانگ دہل اس بات کا اعتراف کرتی ہوں کہ ہمارے جاننے والوں میں سے کوئی بھی نازیہ جیسا نہیں لکھ سکتا۔ اسی لیے ہمیں کوئی حق نہیں پہنچتا کہ ہم بلاوجہ صفحات کو کالا کریں۔ اس لیے شاکا پڑھنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ یا تو شاکا جیسا ناول لکھا جائے یا پھر کچھ لکھا ہی نہ جائے۔ میں تو شاید اب کبھی کچھ نہ لکھ پاؤں۔ مجھ پر ابھی کئی برسوں شاکا کا اثر رہے گا۔ لیکن میں اتنا دعویٰ سے کہہ سکتی ہوں کہ ایک بار شاکا پڑھنے کے بعد آپ بھی میری طرح نازیہ کامران کاشف کے قلم کے گرویدہ بن جائیں گے۔ شاکا بلاشبہ ان کی بہترین تخلیق ہے۔ ایک اور اہم بات جو قارئین کو بتانا ازحد ضروری ہے کہ شاکا کے اختتام پر نازیہ کے قلم نے قارئین کو اپنی گرفت سے آزاد نہیں کیا ہے بلکہ شاکا کے دوسرے حصے کی جانب ایک مبہم سا اشارہ بھی کیا ہے۔
ایسا شاہکار لکھنے پر میں نازیہ کو تہہ دل سے مبارکباد دیتی ہوں۔ وہ اپنے وقت کی مایہ ناز مصنفہ ہیں اور میں امید کرتی ہوں کہ وہ اپنے قارئین کو ایسے ہی بہترین ناولز پڑھنے کا موقع فراہم کرتی رہیں گی۔ اگر آپ نے یہ ناول ابھی تک نہیں پڑھا ہے تو جلدی سے اسے خریدیں اور پڑھ ڈالیں۔ میں یقین سے کہہ سکتی ہوں کہ آپ بھی میری طرح شاکا کے سحر میں گرفتار ہو جائیں گے۔


