کے ایف سی کی تشہیر اور ’عمران خان‘ کے نعرے۔۔۔ پی ایس ایل کھیل کی بجائے دیگر چیزوں کی وجہ سے سرخیوں میں


ایک بڑی افتتاحی تقریب اور اس کے بعد متعدد ہائی سکورننگ میچز بھی رواں سال پاکستان کی سب سے بڑی کرکٹ لیگ پی ایس ایل میں جان ڈالنے سے قاصر رہے ہیں۔ بظاہر لگتا ہے کہ عوام کے لیے تفریح کا یہ موقع ملک میں جاری سیاسی عدم استحکام اور تفریق کا شکار ہو رہا ہے۔

پاکستان سپر لیگ میں باصلاحیت اور نوجوان پاکستانی کھلاڑیوں کے علاوہ دنیا بھر سے آنے والے بہترین کرکٹرز حصہ لے رہے ہیں تاہم ایک طرف انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی صورتحال نے ماحول کو چارج کر رکھا ہے تو دوسری طرف غزہ میں جاری جنگ کی وجہ سے شائقین نے پی ایس ایل کے دوران نظر آنے والے اشتہارات اور برانڈز پر نظر رکھی ہوئی ہے۔

چاہے افتتاحی تقریب کے دوران ’عمران خان‘ کے نعروں کی گونج ہو یا ایکس پر آئے روز ’بائیکاٹ پی ایس ایل‘ کی بازگشت، 18 مارچ تک جاری رہنے والا یہ ایونٹ فی الحال میچز سے زیادہ دوسری چیزوں کی وجہ سے خبروں کی زینت بن رہا ہے۔

تو آئیے دیکھتے ہیں کہ اب تک پی ایس ایل میں ایسا کیا ہوتا رہا کہ شائقین آف دی فیلڈ باتوں پر زیادہ دھیان دے رہے ہیں۔

کے ایف سی سے اشتراک جس پر پی ایس ایل کے بائیکاٹ کی مہم چلی

’بائیکاٹ پی ایس ایل‘ کے ٹرینڈ کی بنیاد یہ تھی کہ ایونٹ شروع ہونے سے قبل پاکستان سپر لیگ نے اپنے فیس بک اور ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹس پر لکھا تھا کہ اس کا آفیشل سنیکس پارٹنر ’کے ایف سی‘ ہے۔

اکتوبر 2023 میں حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد سے اسرائیل کی غزہ میں فضائی اور زمینی کارروائیاں جاری ہیں۔ اس وقت سے مشرق وسطیٰ سمیت کئی مسلم ممالک میں عالمی فاسٹ فوڈ برانڈز کے بائیکاٹ کی مہم چلائی جا رہی ہے۔ عالمی برانڈز پر اسرائیل کی حمایت کا الزام لگایا جاتا ہے۔

یوں کے ایف سی سے اشترک کے معاملے پر بعض پاکستانی صارفین اب تک پی ایس ایل کے بائیکاٹ کا مطالبہ کر رہے ہیں مگر پی ایس ایل نے اب ’ایکس‘ اور ’فیس بُک‘ سے آفیشل پارٹنر سے متعلق پوسٹیں ہٹا دی گئی ہیں۔

فی الحال اس معاملے پر پی ایس ایل نے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ بی بی سی نے اس معاملے پر کے ایف سی سے اُن کا موقف جاننے کے لیے رابطہ کیا تاہم اب تک کوئی ردعمل نہیں دیا گیا۔

مگر بعض شائقین کا غصہ اپنی جگہ موجود ہے۔ جمشید نامی ایک صارف نے لکھا کہ ’میں پی ایس ایل کا ایک بھی میچ نہیں دیکھوں گا جب تک کے ایف سی اس کا سپانسر ہے۔‘

https://twitter.com/JamshaidMsandhu/status/1759478581279813701

غزہ جنگ کے بعد کئی مسلم ممالک میں بائیکاٹ مہم شروع ہوئی جس کے نتیجے میں عالمی کمپنیوں کے کاروبار متاثر ہوئے ہیں۔

خبر رساں ادارے ’روئٹرز‘ کے مطابق میکڈونلڈز اور ’سٹار بکس‘ کی طرح کے ایف سی کی مالک کمپنی یم برانڈز کی سیلز بھی غزہ جنگ کی وجہ سے متاثر ہوئی ہیں۔

سات فروری کو کمپنی نے اعتراف کیا تھا کہ 2023 کی چوتھی سہ ماہی (اکتوبر، نومبر، دسمبر) کے دوران مشرق وسطیٰ، ملائیشیا اور انڈونیشیا میں اس کے کاروبار کو نقصان پہنچا۔

https://twitter.com/amir_pakiza/status/1759302665257816242

پی ایس ایل کے دوران ’عمران خان‘ اور ’پی ٹی آئی‘ کے نعرے

مگر کے ایف سی وہ واحد وجہ نہیں جس کی بنیاد پر سوشل میڈیا صارفین پی ایس ایل کے بائیکاٹ کی باتیں کر رہے ہیں۔

ایسی متعدد ویڈیوز شیئر کی جا رہی ہیں جن میں سٹیڈیم میں بیٹھے شائقین ’عمران خان‘ اور ’آئی آئی پی ٹی آئی‘ کے نعرے لگا رہے ہیں۔ بعض صارفین نے دعویٰ کیا کہ یہ نعرے لگانے پر پولیس اہلکاروں کی جانب سے بعض لوگوں کو حراست میں بھی لیا گیا۔

نامہ نگار عمر دراز ننگیانہ پی ایس ایل کے اوپننگ ڈے پر لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں موجود تھے جب اسی قسم کی نعرے بازی ہو رہی تھی۔

وہ بتاتے ہیں کہ ’ایک انکلوژر میں لڑکوں کے گروپ نے ’پی ٹی آئی‘ کے نعرے لگائے تو وہاں تعینات پولیس اہلکار گروپ میں سے ایک، دو لڑکوں کو اپنے ساتھ لے گئے۔ پھر نعرے رُک گئے تو انھوں نے لڑکوں کو ایک جانب لے جا کر چھوڑ دیا تھا۔‘

ایسے متعدد واقعات کی ویڈیوز اور دعوے سوشل میڈیا پر گردش کر رہے ہیں تاہم پولیس نے اب تک کراؤڈ میں سے کسی کو گرفتار کرنے یا سٹیڈیم سے باہر نکالنے کی تصدیق نہیں کی۔

https://twitter.com/bissmahmehmud/status/1758946538712133953

افتتاحی تقریب پر ملا جلا ردعمل

اور جیسا کہ ہر سال ہوتا ہے، اس بار بھی پی ایس ایل کی افتتاحی تقریب پر گلوکاروں کی پرفارمنس اور آتش بازی پر لوگوں کی رائے منقسم نظر آئی۔

سوشل میڈیا پر بعض لوگوں کی رائے تھی کہ لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں علی ظفر، آئمہ بیگ، عارف لوہار اور دیگر نے اپنی پرفارمنس سے سماں باندھ دیا جبکہ افتتاحی تقریب کے دوران آتش بازی کے ساتھ ساتھ لیزر شو نے بھی کئی لوگوں کو متاثر کیا۔

مگر دوسری طرف ایسے لوگ بھی تھے جنھیں یہ تقریب زیادہ پسند نہیں آئی۔

https://twitter.com/kammo_ji/status/1758852444472111353

عمر دراز بتاتے ہیں کہ سٹینڈز پوری طرح بھرے تو نہیں ہوئے تو مگر وہاں لوگوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ اس بار افتتاحی تقریب کو مختصر کر کے صرف آدھے گھنٹے کا وقت دیا گیا تھا۔

بسمہ نے ایکس پر افتتاحی تقریب کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ آتش بازی سے سٹیڈیم روشن ہو گیا تھا مگر ایک صارف نے لکھا کہ اس بار ’نہ پی ایس ایل کے گانے میں جان ہے نہ افتتاحی تقریب میں۔‘

جبکہ ماہو نامی صارف نے طنزیہ کہا ’میں کیوں دیکھوں پی ایس ایل کی افتتاحی تقریب، ادھر میرا امیدوار اٹھا کر لے گئے۔‘

https://twitter.com/mahobili/status/1758848202500088123


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 32515 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments