طاہرہ کی فریاد

یہ ایک دم قیامت کیسے آ گئی؟
طاہرہ تو سو رہی تھی کہ آسمان پھٹ جانے کی آواز آئی، زمین کانپنے لگ گئی، اور پھر وہ نیچے جا رہی تھی ٹوٹی ہوئی چھتوں اور دیواروں کے ساتھ، کھڑکیوں اور کواڑوں کے ساتھ، خوفناک آوازوں اور چیخوں کے ساتھ۔
طاہرہ پتا نہیں کہاں گری۔ اس کے چاروں طرف ملبہ ہی ملبہ تھا اور فضا میں صرف گرد ہی گرد۔ اس کے سر سے خون بہہ کر ماتھے پہ آ رہا تھا اور وہ ہاتھوں سے خون کو پرے کر رہی تھی تا کہ وہ اس کی آنکھوں تک نہ پہنچ پائے۔ آس پاس سے کچھ لرزتی ہوئی جانی پہچانی آوازیں آ رہی تھیں، یہ آریا نہ کی سسک تھی، پھر منظور کی چیخ، اور خالد کی مدد کے لئے پکار۔ ان سب آوازوں نے مل کر کیسا بھیانک ماحول پیدا کیا ہوا تھا! دم توڑتے لوگوں کی آخری سانسیں بھی کبھی کبھی سنائی دے رہی تھیں۔ موت کا فرشتہ تیزی سے پھڑپھڑاتا پھر رہا تھا۔
پینتیس سال کی خوبرو طاہرہ خود درد کے مارے کراہ رہی تھی۔ کچھ دیر تو اسے سمجھ میں ہی نہیں آیا کہ یہ قیامت کا سماں کیسے بندھ گیا تھا۔ جب اسے کچھ ہوش آیا تو اس نے حرکت کرنے کی کوشش کی۔ اس کی دائیں ٹانگ کسی چیز میں پھنسی ہوئی تھی۔ طاہرہ نے اس کو ہلانے کی کوشش کی تو انگ انگ درد سے لرز گیا جس کی شدت سے وہ نیم بے ہوش ہو گئی۔
ملبہ اب بھی ادھر ادھر گر رہا تھا، اپنے چہرے کو بچانے کے لیے اس نے گرد سے اٹی ہتھیلیؤں سے اسے ڈھانپا ہوا تھا۔
طاہرہ خدا کو اور تراب کو پکار رہی تھی۔ سائرن کی آوازیں اب قریب آ گئی تھیں۔ پھر اسے اچانک تراب کا چہرہ نظر آیا، لیکن آج اس کا منہ خلاف معمول پیلا تھا، بالکل زرد پتے کا رنگ۔
” تراب تراب۔ میرے پاس آؤ۔ میں تمہیں اتنے دنوں سے ڈھونڈ رہی ہوں۔ تم کہاں تھے؟ میری ٹانگ کو ملبے میں سے نکال دو۔ میں مر رہی ہوں! “
” تراب، تم کہاں چلے گئے؟ ہائے یہ کیا ہے؟ یہ کس بچے کی نحیف سی آواز ہے، کتنی معصوم۔ کوئی ننھا فرشتہ خدا کو پکار رہا ہے! “
طاہرہ نے بہت مشکل سے گردن کو موڑا۔ ملبے میں دبا ہوا ایک چھوٹا سا بچہ، گرد اور اندھیرے میں وہ ایک ہلکی سی شبیہ کی مانند تھا جو زخموں سے چور شاید تڑپ بھی نہیں سکتا تھا۔ طاہرہ تھوڑی دیر کے لئے ماتھے پہ بہتے ہوئے خون کو بھول گئی، وہ اپنی ٹانگ کے کرب سے بھی لا علم ہو گئی۔ اس نے پوری قوت کو جمع کیا۔
” ابھی ایمبولینس اور دوسرے لوگ آنے والے ہیں تمہیں ملبے سے نکالنے کے لئے۔ “ ایمبولینس کی آواز قریب تر آ رہی تھی۔ ”تمہارا نام کیا ہے؟“
” آں، ہائے۔ “ بچہ صرف اتنا ہی کہہ سکا۔
” کتنی دیر ہو چکی! کوئی نہیں آیا مدد کے لئے۔ “ پھر اس نے گردن کو سیدھا کیا۔
” کیا ایمبولینس اور دیگر عملہ بھی اب ملبے میں ہی دب کے رہ گئے ہیں! “
گرد، تاریکی، بھیانک خاموشی کے بھوت ہر سو چھا رہے تھے۔ ملبے کے اندر سے آتی ہوئی آہ و بکا کے ساتھ دم توڑتی سانسیں زندگی کو کبھی کبھار پکار رہی تھیں۔
پھر اچانک بھاری بھاری بوٹوں کا شور، کسی غیر ملکی زبان میں باتیں کرتے ہوئے کچھ لوگ، اور گولیوں کی بوچھاڑ۔ طاہرہ نے کسی طرح اپنے جسم کو کھینچ کر اس بچے کو اوپر ڈال دیا۔ بوٹوں کی آواز اب بالکل قریب آ گئی تھی۔ گولیوں کی بوچھاڑ نے کانوں کے پردے پھاڑ دیے تھے۔
طاہرہ کو پھر تراب نظر آیا۔ اس نے اپنے ہاتھ بلند کیے ۔ ”تراب، اس بچے کو یہاں سے نکال کر لے جاؤ۔“
اور پھر طاہرہ کسی اور عالم میں چلی گئی۔

