فلم، بچہ اور قتل


تعلیم کو برا کہوں، تربیت کو روؤں، معاشرے کو گالیاں دوں، یا ان فلم بنانے والوں کو کوسوں، سمجھ میں نہیں آ رہا۔

ایک زمانہ تھا ہارر فلمیں، دہشت ناک فلمیں، سیکس، قتل و غارت سے بھر پور فلمیں بھی بنتی تھیں لیکن سینما میں صرف بالغان کا بورڈ لگا ہوتا تھا، ٹکٹ گھر پہ بھی سختی تھی اٹھارہ سال سے کم عمر کو ٹکٹ نہیں دیتے تھے، پھر زمانہ وی سی آر کا آیا تب بھی دکان والا دیکھ بھال کر کیسٹ دیتا تھا آہستہ آہستہ برائی نے قدم جمایا تو اینڈرائڈ فون کی صورت ہر ہاتھ میں پورن فلم پہنچ گئی اب یہ دیکھنے والے پر تھا کہ وہ کیا دیکھے کیا نہیں، یہاں برائی جیت گئی اور پاکستان پورن دیکھنے میں بازی لے گیا، جنسی جرائم میں بھی اضافہ ہوا، جب معاشرتی پابندیوں میں جکڑے لوگوں کو اپنا گند نکالنے کے لیے نئے نئے ہتھکنڈے دیکھنے کو ملے تو ، کچرا کنڈیوں پہ معصوم بچوں بچیوں کی زیادتی زدہ نچی کھچی لاشیں ملنے لگیں، ہائے واویلا مچا، کچھ قانون بنے لیکن، اصل مجرم آزاد رہے اکا دکا کو سزا کے بعد ۔

موضوع بحث تھا فلمیں، کیبل نے پڑوسی ملک کی ہر طرح کی فلمیں دکھانی شروع کر دیں، اینڈرائڈ ٹی وی کی آمد نے تو گھر گھر سینما کھول دیا، نیٹ فلیکس پر ہر قسم کی فلم دیکھ سکتے ہیں، اسمارٹ ٹی وی پر جب جو دل چاہے دیکھیں بس نیٹ کی سہولت ہونا ضروری ہے، بس پھر کیا تھا سینما کی ضرورت نہیں رہی بچہ، جوان اور بزرگ ہر قسم کی فلم اور تفریح سے لطف اندوز ہونے لگے۔ اس حد تک تو ٹھیک ہے کہ گھر بیٹھے تفریح میسر ہے لیکن یہاں ہم سے چوک ہو گئی ہر قسم کی فلم ہر ہاتھ کی دسترس میں آ گئی اور اس کے بھیانک نتائج تیزی سے پھیلنا شروع ہو گئے اب میں جو خبر آپ کو بتانے جا رہی ہوں اس میں قتل ہونے والا بھی بچہ اور قتل کرنے والا بھی بچہ، یقین کرنا مشکل ہے لیکن یہ واقعہ چودہ فروری کو کراچی فیڈرل بی ایریا میں وقوع پذیر ہوا، جب ایک سات سالہ گمشدہ بچے آہان کی گلا کٹی لاش دھوبی گھاٹ سے ملی۔

پولیس نے تفتیش کا دائرہ مقتول بچے کے گھر تک بڑھایا تو اس کے نتیجے میں معلوم ہوا کہ اس بچے کے کزن پندرہ سالہ سفیان نے اس بچے کو قتل کیا ہے، اس نے اپنے بیان میں کہا کہ آہان میری شکایتیں ماموں سے لگاتا تھا اور ماموں اس کے کہنے پر مجھے مارتے تھے، میں نے قتل کی منصوبہ بندی حالیہ ریلیز ہونے والی بولی ووڈ مووی ”اینیمل“ دیکھ کر کی جس میں رنبیر کپور چھری سے دشمن کا گلا کاٹتا ہے، اس کے علاوہ کرائم پٹرول بھی دیکھتا تھا، جب مجھے موقع ملا میں کزن کو اپنے ساتھ دھوبی گھاٹ کی سونی جگہ پر لے گیا اور اس کا گلا بالکل اسی طرح کاٹا جیسے فلم میں رنبیر کپور کاٹتا ہے، چھری باورچی خانے سے چھپا کر لے گیا تھا، پھر چھری کو دھو کر واپس رکھ دیا، اتنی سفاکی کیسے ایک پندرہ سالہ لڑکے نے دکھائی اسے ہمت فلم دیکھ کر ہوئی۔ رونگٹے کھڑے کردینے والا واقعہ۔

سوچیں حالات کس نہج پر پہنچ گئے ہیں ایک زمانہ تھا ماں باپ، گھر والے، بچوں کو شکایت لگانے اور چغلی کرنے پر سمجھاتے تھے اور خود تحقیق کرتے تھے کہ آیا یہ جھوٹ ہے یا سچ، شرارت کرنے والے، یا شکایت کرنے والے دونوں میں سے جو جھوٹ بولتا اس کی باز پرس ہوتی تھی پھر سزا دیتے وہ بھی تعمیری کہ خوشخطی کرو دس صفحے، یا فلاں سورۃ یاد کرو۔

معاشرتی روایات تباہ ہو کر رہ گئیں ہیں بس جھوٹ کا بول بالا ہے۔ بچوں پر روک ٹوک کیا کریں خود ماں باپ فلمیں دیکھ رہے ہوتے ہیں اچھی بری جیسی بھی بچے بھی دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ ایک وقت تھا پہلے ابو فلم دیکھتے تھے پھر کہتے تھے کہ یہ اچھی فلم ہے بچے دیکھ سکتے ہیں تب دکھاتے تھے۔

اس لرزہ خیز واقعے کے ذمے دار گھر والے، معاشرہ، معاشی محرومیاں، اور تہذیب و تمدن کا زوال ہے۔ ماں باپ معاشی تگ و دو میں مصروف ہیں، بچوں کو پیدا کرنا آسان ہے لیکن ان کی تعلیم و تربیت مشکل کام۔ اسکول میں اساتذہ اپنے فرائض ذمہ داری سے ادا نہیں کرتے جبکہ استاد کی ذمہ داری طالب علم کو پڑھانا ہی نہیں اس کے اخلاق بھی سنوارنا اور تربیت بھی ہے۔ کہاں گئے ایسے اساتذہ، کہاں ہیں ماں باپ جو گھر سے تربیت شروع کر کے اساتذہ کے حوالے بچے کو کرتے تھے۔ آج کل اس بے راہ روی کو ماں باپ ٹیچرز کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں جبکہ ٹیچرز والدین پر الزام دھرتے ہیں۔

کیا کوئی ایک شخص بھی ہے جس کی آنکھیں اس واقعہ کے بعد کھل گئیں ہوں کہ اس نے اپنے بچوں پر نظر رکھنی شروع کی ہو کہ اس کا بچہ موبائل پر ، کمپیوٹر پر کیا دیکھ رہا ہے، کیا کوئی سنسر بورڈ نہیں جو ایسی پرتشدد فلموں کو نیٹ پر بند کروا دے، کیا نیٹ پر چیک اینڈ بیلنس نہیں ہو سکتا لیکن جناب ہم تو بنا چھت کے مکان میں رہ رہے ہیں جس کا سربراہ ہی طے ہو کر نہیں دے رہا۔ اس افراتفری کے ماحول میں کسے مجرم کہیں کسے محرم بنائیں، آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے، لیکن ہم جیسے حساس لوگ ان واقعات پر ششدر رہ جاتے ہیں کیونکہ

ہماری جان پہ دہرا عذاب ہے محسن
کہ دیکھنا ہی نہیں ہم کو سوچنا بھی ہے

Facebook Comments HS