پاکستان کی جمہوری تاریخ


پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو اپنی غیر مستحکم سیاسی صورتحال کی وجہ سے ہمیشہ جانچ کے سیاسی پیمانوں کی زد میں رہا ہے۔ سیاسی تاریخ کے جھروکوں میں دیکھا جائے تو ملک میں کئی بار سویلین اور فوجی حکومتیں قائم اور ختم ہوتی رہیں۔ آمروں کے سائے میں بننے والوں حکومتیں تو اندرونی اور بیرونی دباؤ کے آگے اپنی موت آپ مرتی رہیں لیکن پاکستان میں جمہوریت کی ایک منفرد تاریخ ہے۔ ملک 14 اگست 1947 کو معرض وجود میں آیا اور تب سے جمہوریت ملک کی ترقی کے لیے ایک اہم عنصر رہی ہے۔ تاہم جمہوری حکومتیں بھی کوئی نیا ریکارڈ یا مثالی دور قائم کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ ملک نے آمرانہ فوجی آمروں، بدعنوان سیاست دانوں اور انتہا پسند گروہوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی صورت میں اپنی جمہوریت کو بہت سے چیلنجز کا سامنا بھی تاریخ کا حصہ ہے۔

چورہ اگست انیس سو سینتالیس کو ملکی آزادی کے بعد کے ابتدائی سالوں میں پاکستان نے برطانوی ماڈل کی پیروی کرتے ہوئے پارلیمانی نظام حکومت کو اپنایا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ ملک میں سیاسی قیادت میں کسی ایک فارمولے پر اکتفا نہ ہونا اور بانی پاکستان کی جلد موت بھی تھی۔ بہر حال پاکستان کا پہلا آئین 1956 میں منظور کیا گیا جس نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کو ایک وفاقی پارلیمانی جمہوریہ کے طور پر قائم کیا۔ پاکستان پر ابتدا میں پاکستان مسلم لیگ کی حکومت تھی جس کی سربراہی ملک کے بانی محمد علی جناح کرتے تھے۔ بدقسمتی سے جمہوری نظام قلیل مدتی تھا کیونکہ 1948 میں قائد اعظم کی وفات نے سیاسی عدم استحکام اور غیر یقینی صورتحال کو جنم دیا۔

قائد کی رحلت کے بعد پاکستانیوں کو پہلی فوجی بغاوت کا سامنا کرنا پڑا جب جنرل ایوب خان نے مارشل لاء کا کامیاب نفاذ کیا اور 1958 میں حکومت پر براجمان ہو گئے۔ وہ 1969 تک اقتدار میں رہے اور شدید عوامی دباؤ کا سامنا کرتے ہوئے انہوں نے اقتدار یحییٰ خان کو سونپ دیا جس نے 1971 میں مارشل لاء کا اعلان بھی کر دیا اور پاکستان کو ایک سیاسی بحران میں ڈال دیا جس کی وجہ سے مشرقی پاکستان ٹوٹ کر بنگلہ دیش بن گیا۔ مشرقی پاکستان کا سانحہ پورے ملک کے لئے ایک انوکھا المیہ تھا جس سے آج تک ہر باشعور پاکستانی باہر نہیں نکل سکا۔ 16 دسمبر کا دن ہر پاکستانی کو سوگوار کر جاتا ہے اور ایک سبق دے جاتا ہے کہ سیاسی معاملات میں شدید فوجی مداخلت المیے کو جنم دیتی ہے۔

پاکستانی سیاسی نظام نے جمہوریت کی ایک اور جھلک 1970 میں دیکھی جب پہلے عام انتخابات ہوئے جس کے نتیجے میں ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں سویلین حکومت قائم ہوئی۔ بھٹو کی حکومت کو پاکستانی جمہوریت میں ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو اکثر پاکستان کے مقبول ترین اور کرشماتی رہنماؤں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ بھٹو نے پاکستانی عوام میں سیاسی شعور پیدا کرنے اور ملک میں جمہوریت کی پنیری لگانے کی خاطر پاکستان پیپلز پارٹی قائم کی۔

انیس سو اکہتر سے انیس سو ستتر تک بھٹو اقتدار میں رہا اور ملکی اداروں سے ٹکراتا رہا۔ 1977 میں بھٹو کی حکومت کا خاتمہ ہوا جب ایک اور فوجی جنرل ضیاء الحق نے بغاوت کر کے مارشل لاء لگا دیا۔ اس مارشل لاء کے پیچھے وہ بیرونی قوتیں تھیں جنہیں اب پاکستان کے مغربی بارڈر پر مکمل حمایت اور لوجسٹک سپورٹ چاہیے تھی۔ جنرل ضیاء نے آہنی ہاتھوں سے حکومت کی اور ملک میں سیاسی عمل کو آگے بڑھانے کے لئے مختلف پیوند کاریاں کرتے رہے۔ ضیاء نے پاکستانیوں میں مذہبی سیاست کا پلاؤ تیار کیا جو 1988 تک چلتا رہا۔ ان کی حکومت 1988 میں اس وقت ختم ہو گئی جب وہ بہاولپور کے قریب طیارے کے حادثے میں جاں بحق ہو گئے۔

ان کی موت کے بعد پاکستان نے اپنی دوسری جمہوری حکومت دیکھی جس کی قیادت ایک بار پھر ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی بے نظیر بھٹو نے کی۔ بے نظیر کی حکومت بھی قلیل مدتی رہی، کیونکہ ان کی حکومت کو 1990 میں بدعنوانی اور خراب حکمرانی کے الزامات کے تحت برطرف کر دیا گیا تھا۔

1990 کی دہائی میں فوجی اور سویلین حکومتوں کا ایک سلسلہ دیکھا گیا جن میں سے ہر ایک کو اپنے اپنے چیلنجز کا سامنا تھا بشمول بدعنوانی، فرقہ واریت اور سیاسی عدم استحکام۔ ملک نے اس عرصے کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور پاکستان مسلم لیگ (نواز) (پی ایم ایل۔ این) جیسی سیاسی جماعتوں کا عروج دیکھا۔

1999 میں ایک اور فوجی بغاوت ہوئی جس کی قیادت جنرل پرویز مشرف نے کی۔ ان کی حکمرانی 2008 تک جاری رہی جب وہ بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ اور اپوزیشن کے اتحاد کے نتیجے میں استعفیٰ دینے پر مجبور ہو گئے جس نے انہیں اقتدار سے الگ کر دیا۔ ان کی جگہ جمہوری طور پر منتخب حکومت نے آصف علی زرداری کی قیادت میں لے لی۔

پاکستان میں جمہوری حکمرانی کی حالیہ ماضی کی مثال عمران خان کی سربراہی میں حکومت تھی جس نے 2018 میں اپنی پارٹی، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے عام انتخابات میں کامیابی کے بعد اقتدار سنبھالا۔ پی ٹی آئی کی حکومت کو انتخابات میں دھاندلی کے الزامات، سلیکٹڈ حکومت جیسے الزامات، مہنگائی اور لڑکھڑاتی معیشت سمیت کئی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔

اپریل 2022 میں عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد ان کی حکومت کو ہٹانے کا باعث بنی۔ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 58 کے تحت اگر پارلیمنٹ کے ایوان زیریں قومی اسمبلی میں 342 میں سے 172 ارکان عدم اعتماد کے حق میں ووٹ دیں تو وزیر اعظم عہدہ نہیں رکھ سکتا۔ اس تحریک میں کئی سیاسی جماعتوں کے گٹھ جوڑ پی ڈی ایم نے مل کر پی ٹی آئی کی حکومت کو گھر جانے پر مجبور کر دیا۔

آخر میں پاکستان کی جمہوری تاریخ صرف 40 چالیس سالوں کی قلیل مدت پر مبنی ہے۔ ان سالوں میں عوام اور فیصلہ ساز قوتوں کے ملاپ سے منتخب ہونے والی حکومتوں نے بھی اپنی معینہ مدت ٹھیک طریقے سے پوری نہیں کی۔ ملک نے تبدیلی لانے کے لیے ایک موثر جمہوری نظام کی طاقت دیکھی ہے لیکن اس نے فوجی آمریتوں کے تباہ کن نتائج بھی دیکھے ہیں۔ اگرچہ موجودہ الیکشن میں دھاندلی کے الزامات تواتر سے دیکھے اور سنے جا رہے ہیں لیکن جمہوری عمل کا آگے بڑھنا ایک اچھا عمل ہے۔ اگر جمہوری عمل کو اسی طرح چلنے دیا گیا اور تو آہستہ آہستہ عوام، سیاست دان اور فیصلہ ساز قوتیں اپنی حدود کے اندر رہ کر ملکی ترقی میں اپنا حصہ ڈالتے رہیں گے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments