جمہوریت اور سیاست دان: پھر وہی ہم ہیں، وہی تیشہ رسوائی ہے


قائد ملت لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد کئی حریص سیاست کاروں نے، سیاست اور جمہوریت کو سرمایہ کاری اور دنیاداری کا ذریعہ بنا لیا۔ چنانچہ 1951 سے 1956 تک پاکستان کے ”منصب و مال“ کے لالچی سیاستدانوں نے پانچ سال میں درج ذیل نئی سیاسی جماعتوں کو جنم دیا۔ (1) عوامی مسلم لیگ (2) پیپلز پارٹی (3) جناح مسلم لیگ (4) کرشک سرامک پارٹی (5) ری پبلکن پارٹی (6) نیشنل عوامی پارٹی۔ یعنی پانچ سال کے اندر چھ نئی لوٹ مار والی جماعتیں،

علامہ اقبالؒ نے جمہوریت پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ :
گریز از طرز جمہوری، غلام پختہ کارے شو
کہ از مغز دو صد خر، فکر انسانے نمی آید

”جمہوری نظام سے پرہیز کر، کسی پختہ کار کا غلام بن کیونکہ دو سو گدھوں کا دماغ ایک انسان کی سوچ پیدا نہیں کر سکتا“

علامہ اقبال کا شعر ایک طرف مگر دیکھا جائے تو برصغیر کے تمام سیاسی رہنماؤں اور جماعتوں نے اسی نظام کے ذریعے آزادی حاصل کی بعد ازاں بھارت اور پاکستان دونوں نے جمہوریت ہی کو ناگزیر قرار دیا اگرچہ پاکستان میں طالع آزمائی کا غلبہ رہا اور جمہوریت کے ساتھ کھلواڑ ہوتی رہی۔

اب یہی دیکھ لیں حالیہ انتخابات کے بعد کچھ ایسی ہی گھڑمس پڑی ہوئی ہے جس میں فی الوقت اونٹ کسی کروٹ بیٹھتا دکھائی نہیں دیتا۔

پھر سے وہی حالات ہیں امکاں بھی وہی ہے
ہم بھی ہیں وہی مسئلۂ جاں بھی وہی ہے
کچھ بھی نہیں بدلا ہے یہاں کچھ نہیں بدلا
آنکھیں بھی وہی خواب پریشاں بھی وہی ہے

بہر حال اقتدار اور مفادات کے اس دور میں کچھ ایسے جی دار بھی سامنے آئے جنہوں نے نہ صرف اپنی شکست تسلیم کی بلکہ اپنے پارٹی عہدوں تک سے استعفا دے دیا۔ اس طرز عمل نے ”لوٹ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو“ کی یاد دلا دی۔ ماضی میں خان عبد الولی خان نے انتخابات میں ”شکست“ کے بعد انتخابی سیاست سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی۔ اب ایک بار پھراے این پی، ہی کے ایک اہم رہنما سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا، امیر حیدر خان ہوتی، نے قومی اور صوبائی نشستوں پر شکست کے بعد پارٹی کے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان جس ”جرات رندانہ“ سے کیا، اس پر ولی خان ہی کے کردار کی چھاپ نظر آتی ہے۔ خواجہ سعد رفیق قبیل کے وضع دار اب کم ہی رہ گئے ہیں۔

ہمارے ہاں اکثر سیاسی جماعتیں جمہوریت کے نام پر ”خاندانی کلب“ بن چکے ہیں اس لئے ان پر قابض سیاسی خانوادے ایسی اخلاقی جرات کا مظاہرہ کریں یہ ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ مقبول عامر نے کہا تھا کہ:

پھر وہی ہم ہیں ’وہی تیشۂ رسوائی ہے
دودھ کی نہر تو، پرویز کے کام آئی ہے

موجودہ صورتحال ایسے لوگوں کو آئینہ دکھا رہی ہے۔ دنیا میں کئی ایسے ممالک ہیں جنہوں نے طویل عرصے تک سیاسی عدم استحکام اور ان سیاسی مسائل کا سامنا کیا، جو ہمیں درپیش ہیں۔ مثلاً جنوبی کوریا 1950 ء کی دہائی میں ایسے ہی سیاسی عدم استحکام کا شکار تھا۔ اس کی معیشت زراعت پر انحصار کرتی تھی۔ 1960 ء کی دہائی میں حکومت نے ایک جرات مندانہ قدم اٹھایا اور برآمدات پر مبنی ترقیاتی حکمت عملی اپنائی۔ اس کے نتیجے میں تیز رفتار معاشی ترقی ہوئی۔

آج جنوبی کوریا کی کئی معروف کمپنیوں کی مصنوعات کی دنیا بھر میں مانگ ہے۔ امریکہ جیسے ممالک بھی جنوبی کوریا کے مقروض ہیں۔ دنیا میں کئی اور ممالک کی مثالیں موجود ہیں جنہوں نے مضبوط سیاسی ارادوں ’دور اندیش حکمت عملیوں سے معاشی ترقی کا سفر طے کیا۔ اس کے برعکس ہم اس جدید دور میں بھی سیاسی انتشار کا شکار ہیں۔ ایک جماعت اقتدار میں نہ آ سکے تو پورا نظام مفلوج کر کے رکھ دیا جاتا ہے۔ انتخابات ہو گئے ہیں تو نظام کے چلنے ہی میں بہتری ہے‘ مگر سیاسی جماعتیں اپنے مفادات سے بالا تر ہو کر سوچنے کے لئے تیار نہیں۔

بچپن میں ہم دیکھتے تھے کہ کچھ ضدی بچے لڈو میں ہار کے وقت پوری گیم الٹ دیا کرتے تھے یا کرکٹ میں آؤٹ ہو جانے پر، وکٹیں یا بلا لے کر بھاگ جاتے تھے ’ایسا لگتا ہے کہ پاکستان کا سیاسی نظام بھی ایسے ہی بچوں کے ہاتھ میں ہے جو کسی دوسرے کی جیت اور شراکت داری پسند نہیں کرتے‘ وہ اپنی انا کے اسیر ہیں جسے آگے سوچ ہی نہیں سکتے۔ جمہوریت کے نام پر پتلی تماشا ہی دکھائی دیتا ہے۔ جب تک سیاست دان دوسروں کے کندھوں پر سوار ہو کر اقتدار میں آئیں گے ’تب تک اس ملک میں جمہوریت نہیں پنپ سکتی۔ اگر اب بھی ان تماشوں کو روکا نہ گیا تو عوام کا سسٹم پر اعتماد کیسے بحال ہو گا اور معیشت اور سیاست میں بہتری کس طرح آئے گی؟

اس وقت معاملہ صرف ریاست اور معیشت کو بچانے کا نہیں بلکہ جمہوریت اور سیاست کو بچانا بھی حالات اور وقت کا تقاضا ہے۔ ’دی اکانومسٹ‘ کے انٹیلی جنس یونٹ کی ایک تازہ رپورٹ ہمارے سامنے ہے۔ ’Age of Conflict ”کے عنوان سے شائع ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2023 ء میں دنیا بھر میں ڈیموکریٹک سٹینڈرڈز کا گراف نیچے گرا جس کی وجہ جنگیں‘ آمرانہ کریک ڈاؤنز اور بڑی سیاسی پارٹیوں پر اعتماد میں کمی ہے۔ پاکستان میں یہ گراوٹ خاصی زیادہ ہوئی ہے۔ اور اس کا سکور محض 3.25 ہے ’جو 2022 ء میں 4.13 تھا۔ اس حوالے سے کی گئی عالمی رینکنگ میں پاکستان سال 2023 ء میں 11 درجے نیچے آمرانہ نظام کے درجے میں آ گیا ہے۔

اکانومسٹ انٹیلی جنس یونٹ کی رپورٹ کے مطابق یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ 3.46 سکور والے ممالک آمرانہ حکومتوں (Authoritarian Regime) میں شمار ہوتے ہیں۔ 5.46 سکور والے ممالک ہائبرڈ رجیم، 7.46 سکور والے ممالک Flawed democracies کہلاتے ہیں ’جبکہ 8 سے 10 سکور والے ممالک Full democraciesکہلاتے ہیں۔ اس رپورٹ میں بھارت کوFlawed democracyقرار دیا گیا یعنی وہ ہم سے کلاسیفکیشن میں دو درجے بہتر ہے۔ یہ بہتری اس حقیقت کے باوجود موجود ہے کہ بھارت میں سیاسی خلفشار، وہاں اقلیتیں مسائل اور مشکلات کا شکار ہیں اور بھارت میں علیحدگی کی تحریکیں بھی چل رہی ہیں۔

یہ بھی جمہوریت کے زوال کی ہی ایک نشانی ہے کہ ملک میں نئے انتخابات ہوئے جن کے بعد عوام توقع کر رہے تھے کہ ان کے منتخب نمائندے نئی حکومت تشکیل دیں گے تو ملک سے بے یقینی کا خاتمہ ہو جائے گا اور معیشت آگے بڑھے گی مگر ہوتا اس کے برعکس نظر آ رہا ہے۔ عام انتخابات میں دھاندلی کی باتیں اور بیانات اس سے پہلے بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ مگر کمشنر، راولپنڈی لیاقت چٹھہ نے ایک نیا پینڈورا باکس کھول دیا ہے۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے کمشنر راولپنڈی کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے بڑی صائب بات کی کہ الزامات کوئی بھی لگا سکتا ہے ’الزامات لگانا ان کا حق ہے مگر اس کے ساتھ ثبوت بھی ہونے چاہئیں اور کمشنر راولپنڈی نے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔

کمشنر راولپنڈی کے انکشافات کے بعد دھاندلی کی آوازوں میں مزید تیزی آئی ہے۔ بے شمار امیدوار انتخابی نتائج کو چیلنج کر چکے ہیں۔ پورے ملک میں دھاندلی کا شور مچا ہوا ہے۔ کئی شہروں میں انتخابات میں دھاندلی کے خلاف دھرنے دیے جا رہے ہیں۔ شاہراہیں بند ہیں، مگر کوئی شنوائی کے لیے تیار نہیں۔ سمجھ نہیں آ رہا کہ ان حالات میں ملک کا نظام کیسے چلے گا؟ اس لیے کمشنر لیاقت چٹھہ کے الزامات کی جامع تحقیقات کی ضرورت ہے۔ ہمارے سیاستدانوں کو مل بیٹھ کر ایسی پالیسیاں وضع کرنی چاہئیں کہ جمہوریت ڈی ریل ہو ’اور نہ ڈی گریڈ ہو۔ آنے والی حکومت جس کی بھی بنے‘ اسے دوسرے چیلنجز کے ساتھ ساتھ اس چیلنج سے بھی نبرد آزما ہونا پڑے گا۔

Facebook Comments HS