نہاتی دھوتی رہ گئی تے نک اتے مکھی بہہ گئی
میاں صاحب کی سیاسی ولادت با سعادت تو جنرل جیلانی اور جنرل ضیا الحق کی عسکری چھتری تلے ہوئی، لیکن یہی چھتری بار بار چھن جاتی رہی، ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ قسمت کے دھنی ہیں، اقتدار کی راہداریوں سے بار بار نکالے جانے کے باوجود کچھ عرصے بعد اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان ہو جاتے رہے۔ 2024 کا الیکشن انہی کی خواہش پر دو چیف کی رضا مندی سے شرمندۂ تعبیر ہوا، انہیں باور کرایا گیا کہ آپ کے بغیر الیکشن کمپین نہیں چلے گی۔
مقتدر حلقوں کا اشارہ پاتے ہی میاں صاحب کشاں کشاں کھچے چلے آئے جیسے ”پکے“ دھاگے سے بندھے سرکار چلے آتے ہیں۔ ویسے تو میاں صاحب نے کئی بار اسٹبلشمنٹ سے چوٹ کھائی ہے، جیسے ڈھیٹ عاشق محبوبہ کی گلی میں مار کھانے کے باوجود بار بار چکر لگانے سے باز نہیں آتا اسی مصداق میاں صاحب بھی بار بار اسی کے در پر جاتے ہیں بقول میر تقی میر
بار بار اسی کے در پر جاتا ہوں
حالت اب اضطراب کی سی ہے
اس بار جیسے ہی خاص اشارہ ہوا میاں صاحب سمجھے یہ ”نکے ہندیاں دا پیار اے“ (یہ بچپن کا پیار ہے ) یعنی اسٹبلشمنٹ اپنی غلطیوں، کوتاہیوں اور نا انصافیوں کا ازالہ کرنا چاہتی ہے اور انہیں اس بار بڑی آن بان شان سے اقتدار کی بر مالا پہنائی جائے گی۔ پھر موصوف اپنا حصہ لینے ساڑھے چار سال بعد لندن سے تشریف لے ہی آئے۔ نون لیگ کے رہنماؤں اور میڈیا کمپین نے یہ باور کرا دیا تھا کہ الیکشن کی بساط ہی ظل سبحانی کے چوتھی بار وزیر اعظم بننے کے لیے بچھائی گئی ہے۔
میاں صاحب سہانے خواب اور رنگین سپنوں کی فضا میں بہت اونچا اڑتے ہوئے اقتدار کے سنگھاسن پر قدم رنجہ فرمانے کی جانب اس لیے گامزن ہوئے تھے کہ عمران خان کو مختلف مقدمات میں پابند سلاسل کر کے لیونگ پلینگ فیلڈ قائم کر دی گئی تھی لیکن بڑی عدالت کے ایک فیصلے بقول غالب
پھر کھلا ہے در عدالت ناز
گرم بازار فوجداری ہے
کی بدولت نہ صرف ان کی مخالف جماعت کو انتخابی نشان سے یک جنبش قلم محروم کیا بعد ازاں مقبول رہنما کو پے در پے مقدمات کی بنا پر سزاؤں میں بھی جکڑ دیا گیا۔ ان عوامل نے میاں صاحب کی مشکلات کو ایسا آسان کیا کہ تحریک انصاف کے امیدوار آزاد حیثیت سے قسم قسم کے انتخابی نشان پر الیکشن لڑنے پر مجبور کر دیے گئے۔ میاں صاحب کے لیے میدان کھلا تھا۔ سیاسی مبصرین کے ساتھ ساتھ مقتدرہ کا خیال تھا کہ اب مرزا یار سنجیاں گلیوں میں دیوانہ وار نہ صرف چلے گا بلکہ دوڑتے ہوئے پہلی پوزیشن بھی حاصل کر لے گا۔
پھر 8 فروری کا دن بھی آن پہنچا۔ نون لیگ اپنے تئیں دو تہائی کا راگ الاپ کر اور ساڈی گل ہو گئی ہے کہ حوالے سے یہی سمجھ بیٹھی کہ اس بار دو تہائی سے اوپر کامیابی ان کے حصے میں لکھ دی گئی۔ نون لیگ خوش گمانی کی فضا میں اڑ ہی رہی تھی کہ آزاد روش کی ایسی آندھی چلی کہ جس نے اس کے قدم ہی اکھاڑ کے رکھ دیے، نہ صرف قدم اکھڑے بلکہ اوندھے منہ زمیں کے بل آ گری۔ ابتدائی نتائج کے آتے ہی وکٹری سپیچ کی حسرت لیے میاں صاحب اور دیگر نون لیگی قیادت دبک کر بیٹھ گئی۔
نون لیگ عوامی غیض و غضب کا شکار ہو ہی جاتی لیکن 8 فروری کی رات ”غیبی“ مدد کی بدولت نتائج کی تبدیلی سے اگلے دن کچھ حوصلہ پیدا ہوا، میاں صاحب مانسہرہ کے ساتھ ساتھ لاہور سے بھی اڑ کر فضا میں ہی معلق ہو جاتے اگر خلائی مخلوق ہاتھ نہ تھام لیتی۔ 9 فروری کو غیبی مدد پا کر نون لیگ کی کچھ جان میں جان آئی۔ رات گئے دوسرے نمبر پر آنے کے باوجود طوعاً و کرہاً وکٹری سپیچ تو کر ڈالی مگر میاں صاحب کے دل سے ایک ہی صدا نکلی۔
”عادت ہی بنا لی ہے تم نے تو منیر اپنی“
اخبارات میں جہازی سائز کے فرنٹ پیج کے اشتہارات اور ٹی وی کمپین پر چوتھی بار وزیر اعظم کا اتنا واویلا کیا گیا کہ میاں صاحب کی جماعت انہیں چوتھی بار وزیراعظم بنا چکی تھی ایسے میں اقتدار کا ہما جو ان کے سر پر بیٹھنا تھا وہ اس سے محروم رہ گئے۔ میاں صاحب تو یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ ”میں لٹی گئی جے“ (میں برباد ہو گئی) ۔ بہر حال اقتدار کی اس محرومی پر میاں صاحب کی کیفیت اس پنجابی محاورے جیسی ہو گئی ہے
” نہاتی دھوتی رہ گئی تے نک اتے مکھی بہہ گئی“
نہاتی دھوتی رہ گئی اور ناک پر مکھی بیٹھ گئی


