جاوید احمد غامدی بھی نون لیگی نکلے


 

مضمون کا یہ عنوان مس لیڈنگ یا مبالغہ پر مبنی ہے۔ غامدی صاحب کبھی کبھار پاکستان کے موجودہ سیاسی حالات پر کمنٹری تو کرتے ہیں لیکن کبھی کسی سیاستدان کا نام نہیں لیتے ؛ یہ مضمون ان کے حالیہ دیے گئے انٹرویوز پر مبنی ہے۔ میں نے اس مضمون میں البتہ سیاستدانوں کے نام اس لئے بھی لے لیے چونکہ غامدی صاحب کا انٹرویو کرنے والا سوالوں میں شک کی کوئی گنجائش نہی چھوڑتا۔ انہوں نے عمران خان کے طرز سیاست یا لیڈر شپ اسٹائل کے بارے میں جو اپنے ایک انٹرویو میں اشارتاً کہا مجھے لگتا ہے کہ وہ بہرحال کچھ لوگوں کی نظر میں ان کے نون لیگی ہونے کے بارے میں کم از کم شک کی گنجائش تو پیدا کر دے گا جبکہ وہ اپنے مذہبی خیالات پر ہمیشہ ایک طبقہ کی طرف سے تنقید کا ہدف تو رہتے ہی ہیں۔

مجھ پر بھی یہ تنقید ہو سکتی ہے کہ یہ صوم و صلاۃ سے غافل شخص وقت آنے پر اب ایک مذہبی عالم کی دی گئی دلیل کو اپنی سیاسی سوچ کے حق میں استعمال کرنا چاہتا ہے، اور یہ بات ٹھیک بھی ہو گی۔ مگر میں نے سوچا کہ ایک طرف تو لامتناہی معافی دے دینے والا اور درگزر کرنے والا، بے نیاز ہے اور دوسری طرف وہ ہے جو اپنی مخالفت کو شرک سے تشبیہ دیتا ہے، مخالفوں کو دھمکی دیتا ہے کہ تمہارے بچوں سے کوئی شادی نہیں کرے گا، جس کے چاہنے والے کھیل کے میدان سے لے کر مسجد نبوی اور حرم کعبہ تک اس کے مخالفوں کا پیچھا کرتے اور ان پر آوازیں کستے ہیں، سیاسی مخالفوں کے گھروں کا گھیراؤ کرتے ہیں اور جن کے بچے اپنے اسکولوں میں اس کے مخالفوں کے بچوں کو دھمکاتے ہیں وغیرہ، تو پھر اس زمینی خدا کی مخالفت میں غامدی صاحب کی مدد لے ہی کیوں نا لی جائے؟

غامدی صاحب نے اپنے ایک انٹرویو بتاریخ بارہ فروری میں دو تین اہم چیزوں کو نقطہ بحث بنایا ہے۔ جن نکات کو یوں پیرافریز کیا جا سکتا ہے ؛ اول تو اسٹیبلشمنٹ کی سیاست میں عدم مداخلت کی ضرورت، حالیہ الیکشن کے رزلٹ کا اس طرح تسلیم کیا جانا جیسے عوام کی اکثریت نے اظہار کیا یعنی یہ کہ شفاف الیکشن کا انعقاد اس کے رزلٹ کا مانا جانا جمہوری عمل کے چلنے کے لیے ایک ناقابل تردید شرط ہے۔ اور یہ کہ اس وقت پاکستان میں اس بات پر شک کرنا کہ عوام کی اکثریت نے کس سیاسی لیڈر کے حق میں ووٹ دیا ہے اپنے آپ کو دھوکا دینے کے مترادف ہے۔ مزید یہ کہ اس حقیقت کے باوجود کہ جذبات کے تحت یا کسی شخصیت کے سحر میں ہوئے فیصلے بعض اوقات غلط ثابت ہوں ان کا ایک جمہوری عمل کے تسلسل میں تسلیم کیا جانا ہی وقت گزرنے کے ساتھ ملک و معاشرے کی ترقی اور بہتری کا باعث ہے بشرط یہ کہ تمام حریف جمہوریت کے اصولوں پر کاربند رہنے کا ٹھان چکے ہوں۔

دوسرا انہوں نے جہاں اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ ملک میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نے ووٹ کے استعمال سے اپنی رائے کا اظہار کیا وہاں یہ سوال بھی اٹھایا کہ ان نوجوانوں کو لیڈرشپ سبق دے کیا رہی ہے؟ غامدی صاحب کے خیال میں یہ سبق نفرت کا سبق ہے ؛ ان کے الفاظ یوں ہیں ؛ ”اگلا سوال اصل میں یہ ہے کہ آپ نے ان نوجوانوں کو پیغام کیا دینا ہے، جھوٹ بولنے کا، بددیانتی کرنے کا، دوسروں پر کیچڑ اچھالنے کا، اخلاقی تقاضوں کو پامال کرنے کا؟“ اور ”اتنی بڑی تعداد میں اگر لوگوں کو آپ نے جھوٹ بولنا سکھا دیا ہے، بددیانتی سے بات کرنا سکھا دی ہے، الزام لگانا سکھا دیا ہے، بدگمانیاں پھیلانا سکھا دیا ہے، افواہیں اڑانا سکھا دیا ہے اگر آپ نے ان کے سامنے کوئی آدرش نہیں رکھا، ان کو آپ نے کسی منصب کسی نصب العین کے لئے تیار نہیں کیا تو آپ اندازہ کرتے ہیں کہ پھر آپ بارود بھر رہے ہیں“ ۔

غامدی صاحب کی یہ باتیں کہ عمران کا پیغام یا اس کی لیڈرشپ معاشرے میں نفرت پھیلانے کا باعث بن رہی ہے بہت سے لوگوں کے لیے بجا طور پر حیرت کا باعث ہوں گی اور بلاشبہ زیادہ تر لوگوں کے بارے میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے مکمل اخلاص سے اپنی حمایت عمران کے پلڑے میں ڈال رکھی ہے۔ وہ ملکی حالات سے تنگ آ چکے ہیں اور اسٹیبلشمنٹ کے لامتناہی تجربات، سیاستدانوں کی مبینہ کرپشن اور نتیجتاً ملک کی بگڑتی معاشی حالت سے نجات حاصل کرنے کے لیے عمران کو ایک بہترین چانس کے طور پر دیکھتے ہیں۔ غامدی صاحب اپنے انٹرویو میں نواز شریف کی سیاست کے بارے میں بھی کہتے ہیں کہ اس کا ”ووٹ کو عزت دو کا نعرہ“ بھی بس ایک سٹریٹیجی ہی ثابت ہوا۔

لیکن مذکورہ بالا پر غامدی صاحب کی سوچ کا اندازہ ان کے ایک اور حال ہی میں دیے گئے انٹرویو سے ہو جاتا ہے اور اس زمن میں ان کی کہی ہوئی باتوں کو اس طرح پیرافریز کیا جا سکتا ہے کہ جہاں پاکستان میں ایک طرز کی سیاست انقلاب لے آنے کے بیانیہ پر کی جا رہی ہے وہاں ملک کی روایتی سیاست ہی کو اگر پالیسیاں بنانے، ان کو نافذ کرنے کا بلا روک موقعہ دیا جائے تو وہ معیشت کو صحیح سمت میں ڈالنے، ہمسایہ ممالک سے تعلقات کو بہتر حالت میں لے آنے اور معاشرے کو توازن میں رکھنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔ جبکہ انقلابی سیاست لوگوں کے جذبات کو تحریک دے کر معاشرہ میں ہیجان تو برپا کر دیتی ہے مگر کسی طویل مدتی مثبت تبدیلی کا باعث نہیں بن سکتی اور ماڈرن قومی ریاستوں میں ایسی لیڈرشپ عام طور پر بس انتشار کا باعث اور اپنے حامیوں سمیت جیلوں میں ہی پہنچتی ہے۔

غامدی صاحب نے اپنے انٹرویو میں اس سوال کے جواب میں کہ وہ اصولی طور پر ملکی معاملات پر تبصرہ کہاں کھڑے ہو کر یا کس نقطہ نظر سے کرتے ہیں، کہا کہ جہاں میڈیا کے لوگ سیاستدان وغیرہ ان معاملات پر اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہوتے ہیں وہاں انہوں نے اپنے لیے دین کے علم کے شعبے کا انتخاب کر رکھا ہے اور وہ اس کی حدود سے نہیں نکلتے۔ البتہ ایک اخلاقی وجود رکھنے اور بحیثیت پاکستانی وہ ہر اس ریاستی موضوع پر بھی اپنی رائے دیتے ہیں جو یا تو براہ راست دین سے متعلق ہو، جیسے طالبان کے بارے میں رائے اپنی جان کا خطرہ مول لے لینے کے باوجود دی۔

یا جب موضوع اخلاقی معاملات ہوں یعنی جب ”جھوٹ بولا جائے گا، بددیانتی کی جائے گی، فریب دیا جائے گا تو میں اس کو لازما“ موضوع بناؤں گا ”اور“ اس لیے کہ میرے نزدیک انسانیت کی سب سے بڑی خدمت ہی یہ ہے کہ اس کے اخلاقی شعور کو زندہ رکھا جائے، جھوٹ ہو بد دیانتی ہو قوم کو فریب دیا جائے اس کی تہذیب کو خراب کیا جائے لوگوں کو نفرت سکھائی جائے تو یہ چیزیں لازماً میرا موضوع بنیں گی میں اس میں کسی کو بھی معاف کرنے کو تیار نہیں ہوں ساری دنیا مجھے چھوڑ دے میں پیچھے مڑ کر بھی نہیں دیکھوں گا!“

آگے چل کر انہوں نے ریاست مدینہ کے بیانیہ کے بارے جو اشارتاً کہا اس کو سن کر تو مجھے یقین ہے کہ ان کی دینی تعلیمات اب پہلے سے بھی زیادہ تنقید کا نشانہ بن سکتی ہیں۔ ان کے الفاظ یہ تھے ؛“ جب آپ یہ کہیں گے کہ ہم ریاست مدینہ بنانا چاہتے ہیں تو پھر میں رائے دوں گا اور پوری قوت کے ساتھ دوں گا اور اس فریب کا پردہ چاک کر دوں گا ”۔ غامدی صاحب نے اس زمن میں اس انٹرویو میں تو مزید کچھ نہیں کہا لیکن میرا خیال یہ ہے کہ اگر عمران سے پوچھا جائے کہ جب آپ ریاست مدینہ کی بات کرتے ہیں تو کیا آپ کی مراد پاکستان میں شریعت کا نفاذ ہے تو شاید وہ فوری جواب نہ دے سکیں۔

لوگوں کے غامدی صاحب کے ساتھ کسی موضوع پر اختلاف رائے رکھنے پر تعجب نہیں ہوتا اور وہ ایسے اختلاف کو خود ویلکم کرتے ہیں۔ لیکن میرے خیال میں (بھی) وہ ہر معاملے میں اصول اور تاریخی دلیل کو ہی بنیاد بناتے نظر آتے ہیں چاہے معاملہ دینی یا انسانی حقوق سے متعلق ہو یا اخلاقی ہو۔ ان کا نفرت پر مبنی سیاست اور نتیجتاً معاشرتی تقسیم اور اس کے اثرات کا مشاہدہ و تجربہ لازما ”امریکہ میں رہنے کے باعث بھی ہوا ہو گا۔ اب کیا ان کی پاکستان کے سیاسی حالات پر کی گئی اتنی سخت تنبیہ لوگوں کو متاثر کر پائے گی؟ کیا لوگ مان لیں گے کہ عمران کے بنائے مختلف بیانیے بس وقتی ضرورتوں کے تحت ہی ہوتے ہیں اور یہ کہ عمران اپنے مقصد کو حاصل کرنے میں کسی بھی حد سے گزر جانے کو مانع نہیں سمجھتے؟

مجھے ان سوالوں کا جواب اس چیز پر منحصر لگتا ہے کہ غامدی صاحب کو نون لیگی تو نہیں سمجھ لیا جائے گا!

 

Facebook Comments HS