ملکی سیاست میں نیا رجحان


کسی بھی ملک کی تقدیر بدلنے میں نوجوان اہم کردار ادا کرتے ہیں اور اس سلسلے میں ان کا بہترین راستہ جمہوری راستہ ہوتا ہے۔ ملک میں اس بار نوجوان طبقے نے بڑھ چڑھ کر ووٹ ڈالا اور فیصلہ سازی کی کوشش کی لیکن دو ہفتے ہونے کو ہیں اس بار اب تک یہ فیصلہ نہیں ہو سکا کہ حکومت کون بنائے گا؟ یہ بات واضح ہے کہ کوئی بھی جماعت اس بار نہ تو خود خوشی سے حکومت بنانے کو تیار ہے اور نہ ہی اس بات پر آمادہ ہے کہ اس کی مخالف جماعت حکومت بنائے۔

ہر جماعت اس بات سے واقف ہے کہ مخلوط حکومت در اصل مفلوج حکومت ہوگی۔ کسی بھی جماعت کے پاس واضح اکثریت نہیں لہذا سیاسی جماعتوں کے اتحاد میں بننے والی حکومت پی ڈی ایم سیزن ٹو ثابت ہوگی۔ سیاسی جماعتوں میں اس بات کا بھی خوف ہے کہ ملک کی سیاسی فضا و صورتحال کے مطابق جس کی بھی حکومت بنی وہ مخالفین کے خلاف سیاسی انتقامی کارروائیاں ضرور کرے گی۔

یہ الیکشن ماضی کے انتخابات سے اس لئے بھی مختلف تھے کیوں کہ اس بار جیتنے اور ہارنے والے دونوں ہی دھاندلی کا رونا رو رہے ہیں۔ ان انتخابات میں دیکھا جائے تو تمام تر پابندیوں کے باوجود تحریک انصاف کو عوام نے اکثریتی مینڈیٹ دیا ہے۔ بانی تحریک انصاف کے جیل میں ہونے کے باوجود انہوں نے اور ان کے ووٹرز نے سب کا حیران کر دیا۔ آج کئی دن گزر جانے کے بعد بھی ایسا لگ رہا ہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے جو نتائج جاری کیے گئے ان میں کہیں نہ کہیں جھول ضرور ہے جبھی تو اب تک وزیراعظم کون ہو گا یہ فیصلہ نہیں ہوسکا۔ پیپلز پارٹی بھی حکومت کا حصہ بننے کو تیار ہے لیکن وزیراعظم کا امیدوار اپنی پارٹی سے لانے کی ان کی کوئی خواہش نہیں۔ اسی طرح میاں محمد نواز شریف بیٹی اور بھائی کے آگے مجبور تو ہیں لیکن خود وزیراعظم بننے کو تیار نہیں ہیں۔

اس بار عوام گھروں سے نکلے ہیں انہوں نے نتیجے کی فکر کیے بغیر ووٹ کاسٹ کیا ہے اور اب ملک کی تقدیر بدلنے کے انتظار میں ہیں۔ سوال یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں اب کیا کرنے جا رہی ہیں؟ کیا ایک بار پھر ملک میں بدلے کی سیاست ہوگی؟ کیا پھر مقدس ایوان میں مچھلی بازار کا ماحول پیدا کیا جائے گا؟ اگر اس کا جواب سیاسی جماعتوں کی جانب سے ہاں میں ہے تو پھر اس ملک کا، اس کی معیشت کا اس کے عوام کا خدا ہی حافظ ہے، پھر بھول جائیں کسی بہتری کو، بھول جائیں کسی ترقی کو۔ ہاں ایک راستہ سیاسی جماعتوں کے پاس اور ہے۔ محبت کا راستہ، اتحاد کا راستہ، اپنی ہار تسلیم کرنے کا راستہ، دوسروں کا مینڈیٹ تسلیم کرنے کا راستہ اور یہی راستہ اب بقا کا راستہ ہے۔

ایک لمحے کو سوچیں کراچی کے حافظ نعیم الرحمان نے کھل کر کہا میں ہار گیا ہوں مجھے خیرات میں سیٹ نہیں چاہیے، جو جماعت فاتح ہے یہ سیٹ اسی کا حق ہے اسی کو دی جائے کیا ایسا کرنے سے حافظ نعیم الرحمان کی عزت یا شہرت میں کوئی کمی آ گئی؟ ہر گز نہیں ہارا ہوا حافظ نعیم لوگوں کے دل جیت گیا۔ خواجہ سعد رفیق نے ہار کو قبول کیا، شاید ٹویٹ کرنے میں جلدی نہ کرتے تو جیت جاتے لیکن بڑے دل سے اپنی ہار کو قبول کیا اور مخالف کو مبارکباد دی، بلور خاندان نے بھی اپنی شکست کو دل سے لگایا اور ثمر بلور نے جیتنے والے کو گلدستہ پیش کر کہ ملک کے سیاستدانوں کو بتا دیا کہ ایک راستہ یہ بھی ہے۔ اس بدنما سسٹم کے ان خوبصورت چہروں نے تمام سیاستدانوں کو سیاست کا ڈھنگ سکھا دیا ہے۔

صرف بناوٹی فتح سے ہی کامیابی حاصل نہیں ہوگی۔ آخر کب تک اس ملک میں سیاست کا بدنما ٹرینڈ چلتا رہے گا؟ کب تک ایک دوسرے کی حکومت کو ناکام بنانے کے لئے کوشش کی جاتی رہے گی۔ کبھی سازش تو کبھی دھرنا۔ کبھی انتقامی مقدمات تو کبھی کردار کشی۔ کبھی نجی زندگی پر کیچڑ اچھالنا تو کبھی بہن بیٹیوں کو بھی انتقام کا نشانہ بنانا۔ اب یہ ملک اس قسم کی سیاست کا مزید متحمل نہیں ہو سکتا ۔ اب تبدیلی کا وقت ہے ملکی سیاست میں اب نیا ٹرینڈ متعارف کرانا ہو گا وہی ٹرینڈ جس کی بنیاد حافظ نعیم الرحمان، خواجہ سعد رفیق، ثمر بلور اور ان جیسے کئی سیاستدان ڈال چکے ہیں۔

سیاسی جماعتوں کو اب رسہ کشی کی سیاست کو ایک طرف رکھنا ہو گا۔ نواز شریف جیسے تجربہ کار سیاستدان، زرداری جیسے مفاہمت کے بادشاہ، سراج الحق جیسے صادق و امین، مولانا فضل الرحمان اور پیر صاحب پگارا جیسے روحانی لیڈروں اور بانی تحریک انصاف جیسے نوجوانوں کے نمائندہ لیڈران کو اب ایک ساتھ بیٹھنا ہو گا۔ اس ملک کی خاطر اب ایک دوسرے کو اور ایک دوسرے کی جیت کو تسلیم کرنا ہو گا۔ اپنی ہار کو قبول کرنا ہو گا۔ قوم کا پیسہ ہارس ٹریڈنگ میں لگانے سے انکار کرنا ہو گا اور عوام جس کو منتخب کریں اسے ایوان تک پہنچا کر اس کے ہاتھ مضبوط کرنا ہوں گے۔ اپوزیشن میں جو بیٹھے اسے بھی کھل کو اپوزیشن کرنا ہوگی یہی اب اس ملک کی ترقی و بقا کا راستہ ہے۔ سسٹم کی تبدیلی کی جو ابتدا ہوئی اسے انجام تک پہنچانا اب سب کی ذمہ داری ہے۔ اب کی بار اگر ملک سے وفا نہ کی گئی اور سیاست کے بدنما چہرے کی سرجری نہ کی گئی تو ہم بہت پیچھے رہ جائیں گے۔

Facebook Comments HS