یوکرائن کے محاذ پر اب کیا صورت حال ہے؟


یوکرائن میں روسی لشکر کشی کو دو سال مکمل ہونے کو ہیں۔ یہ اس وقت تک کسی حتمی نتیجہ تک نہیں پہنچ سکی عسکری میدان کے بجائے یہ ایک ایک سیاسی محاذ پہ زیادہ شد و مد سے لڑی جا رہی ہے۔ پوٹن میدان جنگ میں فتح نہ ملنے کی وجہ سے ایک تنک مزاج شخص بن گیا ہے جو مخالفین کو سیاسی طور ہرانے میں زیادہ مشغول نظر آتا ہے۔ دو سال کی لاحاصل جنگ کا اب ماحول بدلا بدلا سا دکھائی دیتا ہے امریکی دلچسپی خاصی کمتر ہو گئی ہے، امریکہ محض ہلا شیری ہی دلا رہا تھا اب یورپی یونین تھوڑی متحرک دکھائی دیتی ہے۔

مگر مطلوبہ نتائج دور دور تک نظر نہیں آرہے ظاہر جنگ محض جذبۂ حریت سے ہی جیتی جا سکتی ہے بیرونی امداد اور مصنوعی سہاروں سے نہیں یہی تاریخ کا جبر ہے۔ روس اسے اپنے دامن میں سمونے کے لئے بیقرار ہے جبکہ یوکرائن اپنی آزادی کے لئے آخری گولی تک لڑنے کے عزم سے سرشار ہے مگر اس کے ساتھی خواہ امریکی ہوں یا یورپی ہمسائے وہ کہیں نظر نہیں آرہے۔ روس کو بھی وہ جنگی نتائج نہیں ملے الٹا جانی و مالی نقصان ہو رہا ہے، اندرون ملک بھی جنگ کے خلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں اور مخالفت کرنے والے اگرچہ جلد از جلد دل پکڑ کر راہ عدم کو سدھار رہے ہیں۔

ادھر یوکرائنی فوج بھی دفاعی پوزیشن میں ہے جس کا بے حد مالی و جانی نقصان ہو رہا ہے مگر کسی حتمی فتح و کامرانی کی کوئی نوید نہیں ہے۔ ولادیمیر زیلنسکی کے اپنے افسروں سے پھڈے جاری ہیں اچھی حال میں انہیں اختلافات کے نتیجے میں جنرل ویلاری زالوزینی کو گھر کا راستہ دکھایا گیا ہے۔ روس کے وسائل بھی خاصے وسیع و عریض ہیں وہ ڈرون ایران سے اور میزائل وغیرہ شمالی کوریا سے خرید رہا ہے جبکہ یوکرائن کے آبادی بھی ایک تہائی ہے اور اس کو یورپی و امریکی امدادی سامان کا منتظر رہنا پڑتا ہے۔

دسمبر 2022 میں امریکی کانگریس نے 54 ارب ڈالر کی امداد منظور کی تھی پھر مقامی سیاسی افراتفری کے باعث دوبارہ زیلنسکی کی درخواست پہ کوئی عمل نہیں ہوا جو اس نے 60 ارب ڈالر کی امداد کے لیے کی تھی۔ ادھر یورپی بھی نیم دلی سے امداد دینے میں دلچسپی دکھائی دیتی ہے جس سے ہم سمجھتے ہیں کہ 2024 میں کسی بڑی جیت کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ روس کے ساتھ مذاکرات کرنے میں کہیں کوئی کاوش نظر نہیں آتی۔ پوٹن بھی امریکی صدارتی انتخاب کا انتظار کر رہا ہے جس کے بعد شاید کسی سنجیدہ بات چیت سے فیصلے تک پہنچ سکے۔

یورپ اور چین کے درمیان سفارتی اور سیاسی تعلقات میں بھی فاصلے بڑھ گئے ہیں کہ روس اور چین میں تجارتی تعلقات بڑھے ہیں۔ تیل و گیس کی اور روزہ مرہ کی اشیاء کی باہمی تجارت کی ترسیلات زر اب ڈالر کے بجائے روبل میں کرتے ہیں اس طرح ڈالر پہ ایک عالمی دباؤ بڑھے گا اور کساد بازاری مزید اپنے پنجے گاڑھ کر یورپی و امریکی تجارت کو غیر فعال کر سکتی ہے۔ یورپ ابھی تک سرد جنگ کے اثرات بد سے نکلنے کی کاوش میں مشغول دکھائی دیتا ہے۔

وہ کسی نئی محاذ آرائیوں کے موڈ میں نہیں ہیں اور نہ ہی کسی طور تیار ہیں۔ یورپ جس شاہراہوں ترقی پہ بھگٹٹ رواں تھا اس میں کسی دفاعی تیاری کا خواب و خیال ہی نہ رکھا اور اب جب 2008 میں جارجیا اور 2014 میں کریمیا اور پھر یوکرائن پہ چڑھائی کے بعد اسے اس بارے میں شدید جھٹکا لگا تو احساس جاگزیں ہوا کہ دفاع بھی کسی چڑیا کا نام ہے۔ اب صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کہتا ہے کہ روس کو ناٹو پہ چڑھائی کر دینا چاہیئے۔ ولادیمیر پوٹن ایک نہایت شاطر چالباز ہے وہ سمجھتا ہے کہ وقت اس کے پاس بہت ہے اور وہ یورپی ممالک کو ستا ستا کر مارے گا جو جنگی ماحول کے نام سے بھی خوفزدہ ہیں۔

اسے دوسرا ہم خیال امریکی ڈونلڈ ٹرمپ جلد ملنے کی توقع ہے اور یہی سوچ یورپی لیڈروں کے رونگٹے کھڑے کر دیتی ہے۔ روس اسی صورت میں فاتح ہو سکتا ہے کہ یورپ یوکرائن کی بروقت اور مناسب امداد نہ کرے اور فوج میں لڑنے کا جذبہ پیدا نہ ہو۔ یورپ کو جیتنے کے لئے بس سیاسی و عسکری حکمت اور ہمت درکار ہے جس کا فی الحال شدید فقدان ہے۔ یوکرائن اس وقت ناٹو میں شمولیت کے لئے پر تول رہا ہے جبکہ یورپ مشترکہ دفاعی نظام اور حکمت عملی پہ غور و خوض کر رہا ہے اسے احساس ہے کہ وہ اکیلا خود کچھ نہیں کر سکتا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments