ڈیجیٹل نوجوان مستقبل کے معمار


نوجوان معاشرے کا چہرہ اور سرمایہ ہیں، یہ کسی بھی معاشرے کی اساس ہوتے ہیں۔ پاکستان ان خوش قسمت ملکوں میں شامل ہے جہاں نوجوان آبادی کا 60 فی صد سے بھی زیادہ ہیں۔ یو این ڈی پی کی ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت پاکستان کی کل آبادی کا 64 فی صد نوجوانوں پر مشتمل ہے، جن کی عمر 30 سال سے کم ہے جب کہ کل آبادی کا 29 فی صد وہ ہیں جن کی عمر 15 سے 29 سال ہے۔ یہ نوجوان ہمارے مستقبل کی ضمانت ہیں۔ یہ ہمارے مستقبل کے معمار ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ ہمارے مستقبل کے معمار بننے کے لیے تیار ہیں؟ کیوں کہ اگر انسان کا حال درست نہیں تو اس کے بہتر مستقبل کی امید کیسے کی جا سکتی ہے۔

البرٹ آئن سٹائن نے کہا تھا، پاگل وہ ہوتا ہے جو روز روز ایک ہی جیسا کام کرتا ہے، مگر چاہتا ہے کہ نتیجہ الگ ہو۔

معروف موٹیویشنل اسپیکر ٹونی رابنز نے تو اس بات کو بڑے عمدہ انداز میں بیان کیا ہے، اگر تم وہی کرو گے جو تم ہمیشہ کرتے آئے ہو، تو تمہیں وہی ملے گا جو تمہیں ہمیشہ ملتا رہا ہے۔

اب آ جائیں حاصل مضمون کی طرف جہاں ان ہی ڈیجیٹل نوجوانوں نے ایک تاریخ رقم کردی، یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ الیکشن 2024 کس کے بیانیہ کی شکست یا کس کے بیانیہ کی جیت ہے مگر وہ جملہ جو ایک نوجوان نے اپنی ماں کی شہادت پر بولا تھا جی ہاں بلاول کا وہ بولا ہوا جملہ کہ جمہوریت ہی بہترین انتقام ہے آج ثابت ہوا ہے، آپ مانیں یا نہ مانیں مینڈیٹ تسلیم کریں یا نہ کریں لیکن یہ تو مانیں گے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان انتخاب میں نہیں تھے وہ اڈیالہ جیل میں تھے مگر نواز شریف، بلاول بھٹو، آصف زرداری، مولانا فضل الرحمان، ایمل ولی اور خالد مقبول سب میدان میں موجود تھے۔

دفعہ 144 کا نفاذ ہوتا رہا جلسہ جلوس پر پابندیاں رہیں، انتخابی نشان واپس لے لیا گیا، الیکشن مہم صفر رہی اس کے باوجود یہ ڈیجیٹل نوجوان ہر مسئلہ کا حل اپنی صلاحیتوں سے نکالتے رہے، یہ جانتے تھے کہ زوم، ایکس، ٹک ٹاک پر دفعہ 144 نہیں ہے انہوں نے اس ٹیکنالوجی کا استعمال بڑی مہارت سے کیا اور یوں بڑے بڑے جلسے کر ڈالے اور سچ پوچھیں تو ہم نے اپنی زندگی میں سیاست کو اس ڈھب میں پہلی بار دیکھا۔ حالاں کہ آج سے چند برس ماضی میں سیاست پر نظر ڈالیں تو ایم کیو ایم پاکستان واحد سیاسی جماعت تھی جس نے سوشل میڈیا کو بہترین انداز میں استعمال کیا تھا مگر موجودہ حالات میں ان نوجوانوں نے سب کو پچھاڑ کر رکھ دیا۔

امجد اسلام امجد نے کیا خوب کہا ہے
اندھیرے سے لڑائی کا یہی احسن طریقہ ہے
تمہاری دسترس میں جو دیا ہو وہ جلا دینا

یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ یہ تو ممکن ہے کہ ان نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کی وابستگی کسی ایک سیاسی جماعت سے ہو لیکن یہ ممکن نہیں کہ کسی دوسری جماعت میں ان نوجوانوں کی تعداد بالکل نہ ہو، ہر پارٹی سے نوجوان ان انتخابات میں نکلے ہیں اور انہوں نے اپنے پسندیدہ امیدواروں کو ووٹ دیا ہے۔ اب ان نوجوانوں کو مایوسی سے بچانے کا واحد طریقہ یہی ہے کہ ان انتخابی نتائج کے خلاف جو درخواستیں آ رہی ہیں تو ان کو ایمانداری سے دیکھا جائے اگر کسی سے بھی زیادتی ہوئی ہے تو اس کا ازالہ کیا جائے جو کچھ غلط ہو چکا اسے درست ثابت کرنے سے کہیں بہتر ہے جو غلط ہو گیا اسے درست کر لیا جائے۔

Facebook Comments HS