دیہی ترقی: اربنائزیشن کے مسائل کا ایک ممکنہ حل
اس کا نام کینڈی ہے۔ گورا چٹا، درمیانہ قد، تھوڑا فربہ، باہر کو ہلکی نکلی توند جو اس کی خوش خوراکی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ خوش اخلاقی اور تواضع انگریز ہونے کے باوجود اس کی اضافی خوبی ہے۔ مجھے وہ لندن میں دفتری کاموں کے دوران ملا تھا۔ انگلستان کے دیہی علاقے سے اس کا تعلق ہے جو اس مہنگے شہر سے دو سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ سمجھئے اپنے ملک میں ملتان سے ساہیوال یا لاہور سے نارووال۔ اس کی نوکری لندن میں ہے لیکن وہ وہاں مستقل سکونت اختیار کرنے کی بجائے ہر روز آنا جانا پسند کرتا ہے۔ تیز رفتار، ڈرائیور لیس ریل گاڑیوں اور بہترین ٹرانسپورٹیشن نیٹ ورک کے ذریعے اسے پورے دن میں دو گھنٹے سفر کرنا پڑتا ہے۔ جو اس کے مقابلے میں کافی کم خرچا ہے جو وہ گھر سے دور، اس مہنگے شہر میں بسنے پر خرچ کرتا۔
سٹوک آن ٹرنٹ سے لندن دو سو پندرہ کلومیٹر دور ہے۔ وہاں سٹیفورڈ شائر یونیورسٹی میں ایک بنگالی پروفیسر صاحب سے ملاقات طے تھی۔ وہ دفتر ان کی ایک اور خاتون پروفیسر کولیگ کے بھی زیر استعمال تھا۔ جن کے اباؤ اجداد کا وطن یہی شہر تھا۔ شہر کیا؟ ایک قصبہ ہے۔ اور اسی طرح کے چھ قصبے ملائیں تو یہ کاونٹی بنتی ہے۔ پر سکون، کم گنجان، سر سبز، پیدل ماپنے جتنا۔ برتن بنانے کے فن، اس سے متعلقہ صنعتوں اور پرانی ریلوے اسٹیشن کی عمارت کی وجہ سے مشہور ہے۔
وکٹورین طرز کے سرخ اینٹوں سے بنے گھر جن میں سے دھوئیں کی چمنیاں باہر آسمان کی سمت نکلی نظر آتی ہیں۔ بنگالی پروفیسر اپنی یونیورسٹی کے بارے میں بتاتے بتاتے کہنے لگے کہ شہر بہت چھوٹا ہے لیکن ہر سہولت میسر ہے۔ کھانے، کپڑوں اور ضروریات زندگی کے سبھی برینڈز موجود ہیں، اور پھر شہر کا ایک مختصر چکر لگواتے ہوئے ہم نے یہ دیکھا بھی۔ انھوں نے مزید بتایا کہ کیا آپ کو یقین آئے گا کہ ان کی کولیگ کے ابو ستر سال کے لگ بھگ ہیں لیکن ابھی تک ایک دفعہ بھی لندن نہیں گئے۔ یہ بات ہمارے لئے بھی حیران کن تھی۔ ہماری حیرانی ظاہر کرنے پر وہ بولے کہ ان کے والد کو کبھی ضرورت ہی نہیں پڑی۔ اسکول، اسپتال، مذہبی عبادت گاہ، گھر، روزگار سبھی انھیں اس جگہ بہترین کوالٹی کے ملتے ہیں تو پھر بڑے شہر کس لئے جائیں؟
اس سے پہلے کرونا کے دنوں میں جب ’ورک فرام ہوم‘ اور ’آن لائن کلاسز‘ کا رجحان متعارف ہوا تو جہاں لوگوں کو کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ وہاں کچھ فوائد بھی ملے۔ خاص طور پر طریقہ تدریس، تدریسی مواد اور اساتذہ کی جماعتوں میں علمی گفتگو کا اندازہ و ادراک ہوا۔ چہارم کی ایک ایسی ہی سوشل اسٹڈیز کی پیریڈ میں استاد طلباء کو ’رورل اربن ایریاز‘ سے متعلق ابتدائی اور بنیادی باتیں سمجھا رہی تھیں۔ کہ دیہات وہ ہوتے ہیں جہاں سہولیات کا فقدان ہوتا ہے۔ گھر کچے اور مٹی سے بنے ہوتے ہیں۔ غربت ہوتی ہے۔ جبکہ شہروں میں سب کچھ میسر ہوتا ہے۔ بڑا اسکول، کالج، یونیورسٹی، بنک، اسپتال، کشادہ سڑکیں، میٹرو، ہوائی اڈے، تیز رفتار ریل گاڑیاں، پارک، فاسٹ فوڈ، ریستوران وغیرہ وغیرہ۔
2019 وہ سال تھا جب پوری دنیا کی شہری اور دیہی آبادی کا تناسب برابر نصف ہو گیا ہے۔ اس کے بعد ہر گزرتے برس شہروں کا بوجھ بڑھ رہا ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ اب دنیا کی آدھی سے زیادہ آبادی اب شہروں میں رہتی ہے۔ یہ پشین گوئی بھی ہے کہ 2050 تک پوری دنیا کی آبادی شہروں میں آن بسے گی۔ اس دباؤ کا سب سے زیادہ کا شکار براعظم افریقہ اور ایشیا بالخصوص جنوبی ایشیا ہیں۔ اور کئی وجوہات کے ساتھ، شہری آبادیوں کے پھیلنے کی ایک اہم وجہ ’رورل اربن مائیگریشن‘ بھی ہے۔ جس کی شرح دنیا کی 57 فیصد جبکہ ایشیا میں یہ شرح 53 فیصد ہے۔ مزید یہ کہ سب سے زیادہ دیہاتوں سے شہروں کی طرف ہجرت چائنہ میں ہے۔ جس کا نتیجہ بری ’اربن گورننس‘ ، کوڑے کے ڈھیر، ہاؤسنگ کی مقدار اور معیار کے مسائل، پبلک ٹرانسپورٹ کا نہ ہونا، صاف ہوا و پانی کی کمی، مہنگائی کا عذاب، اشیائے خورد و نوش کی کمیابی، زرعی زمینوں پر رہائشی کالونیوں اور کمرشل پلازوں کا قیام، تازہ ہوا اور سورج کی روشنی کا فقدان، کچی، غیر قانونی، بدبودار بستیوں اور ’سلمز‘ کا کھمبیوں کی طرح پھیلاؤ شامل ہیں۔
سوچنے اور کرنے کو بہت سے سوال ہیں لیکن سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ پچاس فیصد آبادی شہروں میں ہجرت ہی کیوں کرتی ہے؟ اور جب ابھی تک کی نقل مکانی کا ردعمل شہری انتظامیہ کے لئے اتنا مسائل کا سبب ہے تو کیا ان کی اہلیت ایسی ہے کہ مزید لوگ گاؤں، قصبوں سے قریبی چھوٹے، بڑے شہروں کی طرف ہجرت کریں؟ اور کیا ’رورل اربن مائیگریشن‘ کے علاوہ بھی کوئی ممکنہ ہو سکتا ہے؟
تو یقیناً کئی اقدامات ہو سکتے ہیں۔ جن کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی ضرورت ہے :
پہلے تو یہ سمجھئے کہ شہری اور دیہی آبادی میں فرق ’اسکیل اور اکانومی کی نوعیت‘ کا ہے۔ یعنی گاؤں ہوں یا شہر، اسکول، انتظامی ڈھانچے، اسپتال، ذرائع نقل و حمل، پوسٹ آفس، گھومنے، کھانے کی جگہیں، تھانہ اور ایسی سبھی سہولتیں ہر جگہ ہونی چاہیے اور فنکشنل اور بہتر ہونی چاہیے۔ فرق بس آبادی کا ہے اور اسی تناسب سے سہولتوں اور ضرورتوں کے سائز کا ہے۔ پھر دیہی علاقوں کا بنیادی روزگار زراعت اور اس سے ملحقہ صنعتوں سے ہوتا ہے۔ جبکہ شہر تجارت اور سروسز پر چلتے ہیں۔ جس کے لئے مناسب اور متعلقہ ’انفراسٹرکچر‘ دستیاب ہونا چاہیے۔
ہمیں تدریسی نکتہ نگاہ کو بھی بدلنا ہو گا۔ شہری، دیہی زندگی کو غربت و امارت یا محرومی و ترقی یافتہ ہونے کے تناظر میں نہیں پڑھانا چاہیے۔ صحیح ’کانسیپٹ‘ کا بتانا اس کی ابتدا ہو گی۔
دیہاتوں کے شہروں سے ’لنکجز یعنی رابطے‘ بحال اور فعال کرنے ہوں گے۔
بالکل ایسے ہی زراعت اور اس سے متعلقہ انڈسٹریز کو زیادہ ’فارمل‘ انداز میں وہاں کے تعلیمی اداروں میں پڑھانا اور عملاً سکھانے کا عمل شروع کرنا چاہیے تاکہ ’سکلڈ لیبر اور پروفیشنلز‘ تیار ہوں۔
دیہی زندگی کی خوبصورتی اور اہمیت کو میڈیا اور مختلف فورمز پر اجاگر کریں۔
شہروں کی طرز پر حکومتی سطح پر دیہی علاقوں کے لئے بھی پندرہ، بیس سالہ ’گروتھ اور ڈویلپمنٹ پلانز‘ اور ’ریجنل منصوبے‘ بنائے اور نافذ کیے جائیں۔
تاکہ ہمارے ہاں بھی بہت سے کینڈی روز اپنے گھروں کو خوشی خوشی، آرام دہ طریقے سے لوٹیں۔ انھیں مزدوری کرنے، تھوڑی سی بیماری، ذرا سی تفریح، نئی مووی دیکھنے، پاسپورٹ بنوانے، اور ایسے ہی عام روزمرہ کے کاموں کے لئے شہروں کے چکر اور دھکے نہ کھانے پڑیں۔ ورنہ گاؤں کا متوسط طبقہ غریب اور وہاں کا غریب شہر میں غربت کی نچلی سطح پر زندگی گزارتا رہے گا۔ اور شہروں کے امرا ’سسٹین ایبل، کلوز ٹو نیچر، فارم ہاؤسز، اور آرگینگ‘ کے نام پر دیہاتوں کے ’لائف اسٹائل‘ کی دکان بیچتے رہیں گے۔


