آنے والا وقت بہت سے سوالات کا جواب دے گا


پہاڑوں کا کیلوں کی طرح زمین میں ٹھونکا ہونا، سمندروں کا ایک مخصوص راستے پر اپنا سفر جاری رکھنا، دن اور رات کا ایک ترتیب سے ظاہر ہونا، چرند، پرند، حیوانات اور نباتات کا حکم ربی پر سر تسلیم خم کرنا، یہ سب اس کرہ ارض پر خدائی نشانیاں ہیں۔ وقت کا داروغہ ہر دم دہائی دے رہا ہے کہ زمانے کی چند سال کی کامیابی پر خوشی نہ مناؤ۔ یہ تو محض ایک دھوکا ہے مگر افسوس آج میرا پیارا وطن کچھ ایسے لوگوں کے نرغے میں ہے جو اس دنیا کی کامیابی کو ہی منزل مقصود سمجھ بیٹھے ہیں اور بد قسمتی سے انہوں نے اپنی ساری طاقت اس عارضی جہان کی آسائشوں کو سمیٹنے میں خرچ کر دی۔

”مال و دولت میں ڈھونڈیں، وہ آرام و سکوں۔ کس قدر نادان ہیں، وہ میں کیا کروں“ ۔ وہ لوگ اس بات کو تقریباً بھول چکے ہیں کہ انسانی زندگی کی سب سے بڑی حقیقت ”موت“ ہے اور انسانی زندگی کا سب سے بڑا دھوکہ ”زندگی کا دائمی ہونا“ ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ انسانی زندگی کی سب سے بڑی کمزوری ”غرض“ کو قرار دیا گیا ہے۔ ملک میں انتخابات کے بعد سے سیاسی میدان میں اغراض کا بازار گرم ہے چنانچہ الیکشن کے بارہ دن بعد بھی کوئی جماعت ابھی تک حکومت بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔

پچھلے کئی دنوں سے مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کی سینئر قیادت اپنے ساتھیوں کے ساتھ مشاورتی مراحل سے گزر رہی ہے۔ حکومت سازی کے حوالے سے بھی دونوں جماعتوں کی اعلیٰ قیادت کی کئی نشستیں ہو چکی ہیں مگر تاحال ”دلی دور است“ ۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق آئینی عہدوں کی بندر بانٹ میں پیپلز پارٹی کامیاب ہونے کے بعد چند وفاقی وزارتوں کو بھی شرف قبولیت عطا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کو ایک بار پھر ملک و قوم کے نازک دور کے پیش نظر حکومتی اقتدار قبول کرنا پڑ رہا ہے۔

ساری قوم دعاگو ہے کہ یہ اشتراک اقتدار، پی ڈی ایم کا سیزن ٹو ثابت نہ ہو۔ انتخابی نتائج کی تلخی مستقبل کی ممکنہ اشتراکی حکومت کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے لہذا ”پوری قوم امید سے ہے“ کہ اس بار عوامی بہتری کے فیصلے کیے جائیں گے ورنہ شاید مسلم لیگ کے لیے یہ اقتدار کا آخری جھولا ثابت ہو۔ البتہ سندھ میں پیپلز پارٹی کے پاس چند سال ہیں اگر وہ سنبھل گئے تو بچے رہیں گے۔ ملکی سیاسی منظر نامہ میں ایک خوشگوار تبدیلی آئی ہے اگرچہ الیکشن کے فوراً بعد پی ٹی آئی کے جارحانہ عزائم ایک اور 09 مئی کا بتا رہے تھے مگر حالیہ دنوں میں بیرسٹر گوہر خان اور نامزد امیدوار برائے وزیر اعظم عمر ایوب کی جانب سے دیے گئے بیانات ایک اچھا منظر نامہ پیش کر رہے ہیں۔

انہوں نے عمدہ سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے انتخابی دھاندلیوں پر پرامن مظاہروں کے ساتھ ساتھ عدالتوں سے رجوع کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ عوامی رجحان کو سمجھتے ہوئے پی ٹی آئی نے مذہبی ٹکراؤ سے بچتے اور جمہوری رویہ کو اپناتے ہوئے حکومت سازی کے لیے سنی اتحاد کونسل سے الحاق کر لیا ہے تاکہ وہ مخصوص نشستوں کے حصول کے لیے قانونی جواز بنا سکے۔ اس بات کا حتمی فیصلہ عدلیہ کرے گی کہ کیا پی ٹی آئی مخصوص نشستیں حاصل کر سکتی ہے یا نہیں۔

اگر ان نشستوں کو پی ٹی آئی حاصل کرنے میں ناکام ہوئی تو بظاہر آئینی طور پر قومی اسمبلی میں ارکان کی تعداد مکمل نہیں ہوگی جبکہ دوسری جانب عدالتوں نے ملک کے مختلف حلقوں کے نتائج کا نوٹیفکیشن روکا ہوا ہے لہذا یہ وقت ہی بتائے گا کہ کیا موجودہ قومی اسمبلی اپنے پورے کورم کے ساتھ جلوہ افروز ہوگی یا ارکان کی مقررہ تعداد کے بغیر ہی یہ اسمبلی اپنی کارروائی جاری رکھے گی۔

انتخابات کے نتائج نے اہل اقتدار کو بتا دیا ہے کہ پاکستانی لوگ اب اپنے فیصلے خود کریں گے مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا یہ فیصلے پسند و ناپسند سے بالا ہو کر کیے گئے اور کیا کیے گئے فیصلوں کے نتائج ملک و قوم کی تقدیر بدلنے میں معاون ہوں گے؟ ان سوالات کا جواب آنے والا وقت دے گا۔ الیکشن کے نتائج اس بات کا ضرور اظہار کرتے ہیں کہ اس قوم کو احساس ہے کہ وہ اپنے ملک کی سلامتی اور اپنی آئندہ آنے والی نسلوں کے روشن مستقبل کی نہ صرف ضامن ہے بلکہ امین بھی ہے اور اگر آج یہ قوم اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے انجام نہ دے سکی تو پھر تقدیر کا قاضی اس کے مستقبل میں انتشار اور بربادی لکھ دے گا۔

یاد کرو! وہ وقت جب قوم عاد نے اپنے رب کے فرمان کو چھوڑ دیا اور اپنے نبی کی تعلیمات کو بھلایا تو ان پر خدائی عذاب نازل کیا گیا۔ تیز ہواؤں کا عذاب اور آندھی طوفانوں کا عذاب۔ سر پٹخ دیے گئے، جسم اڑا دیے گئے۔ یوں حکم ربی سے ٹکرانے والوں کا قصہ تمام ہو گیا۔ اے باشندگان پاکستان! سچ کو جان لو اور جھوٹ کو رد کر دو ۔ انسانوں کو سجدے بند کرو۔ زندگی کے معیار بلند کرو۔ زانی، بدکردار، چور اور لٹیرے کو اپنا امام نہ بناؤ ورنہ قوم عاد و ثمود کا حشر یاد کر لو۔

عوام کے ساتھ ساتھ سیاسی لیڈران سے بھی گزارش ہے کہ اب بھی وقت ہے آپ سب سنبھل جاؤ۔ دائرہ اسلام میں آ جاؤ، اخلاقیات کے زیور سے آراستہ ہو جاؤ، قوم کی امانت میں خیانت نہ کرو۔ ذاتی مفادات سے باہر نکلو اور اپنے ترکش کے زہر آلودہ تیر کمانوں پر نہ چڑھاؤ۔ اگر یہ تیر چلے تو ضرور واپس لوٹیں گے اور لوٹیں گے بھی خون آلودہ۔ جس پر تم یقیناً خوش ہو جاؤ گے مگر تمھاری خوشی یقیناً عارضی ہوگی۔ ”اور تجھے کیا خبر! کیا ہے کھڑکھڑانے والی۔

جس دن لوگ بکھرے ہوئے پتنگوں کی طرح ہوں گے اور پہاڑ دھنکی ہوئی رنگین اون کی طرح ہوں گے“ ۔ یاد رکھو! اٹل ہیں میرے اور تیرے رب کے فیصلے۔ سو عقل مندی اسی میں ہے کہ رب کے فیصلوں کو من و عن مان کر تعلیمات رسول ﷺ کو اپنی زندگیوں میں داخل کر لیا جائے۔ تیری قدرتوں کا شمار کیا۔ تیری وسعتوں کا حساب کیا۔ تو محیط عالم رنگ و بو۔ تیری شان جل جلال ہو

 

Facebook Comments HS