میونخ سکیورٹی کانفرنس اور دنیا کے تصفیہ طلب دیرینہ مسائل
میں اپنے قیام کے بعد سے، میونخ سیکیورٹی کانفرنس (ایم ایس سی) بہت سے طریقوں سے تبدیل ہوئی ہے لیکن کچھ چیزیں ایسی بھی ہیں ہوئیں۔ پہلی کانفرنسوں کے پس منظر کی بنیادی دلیل آج بھی موجود ہے۔ پالیسی سازوں اور ماہرین کے لئے ماضی میں بھی اور آج بھی مستقبل کے اہم سیکورٹی امور کے بارے میں کھلی اور تعمیری بات چیت کے لئے یہ ایک پلیٹ فارم ہے۔ لیکن کیا اس نے وہ کامیابیاں حاصل کی ہیں جو حاصل کی جانی چاہیے تھیں یا نہیں؟ یہ ایک بنیادی سوال ہے۔
گزرتے وقت کے ساتھ جیسے جیسے بین الاقوامی سلامتی میں اہم کرداروں اور اقسام کی تعداد میں اضافہ ہوا تو کانفرنس کے شرکاء کا دائرہ وسیع ہوتا گیا۔ آج اس کانفرنس میں دنیا بھر کے تمام ممالک کی شرکت دیکھی جا سکتی ہے لیکن کیا دنیا کو کسی ایسے پلیٹ فارم کی ضرورت ہے جہاں گفتگو محض گفتگو رہے اور فیصلوں کی حیثیت محض اخلاقی عملدرآمد رہے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ اس کانفرنس میں شریک ممالک اپنے مفادات اور ترجیحات کو پس پشت ڈال کر حقیقی موقف اختیار کر سکیں۔
ایک ایسا موقف جس سے واقعی دنیا میں سکیورٹی کے مسائل حل ہو پائیں؟ اور کیا ایسا موقف لینے کے بعد یہ ممکن ہے کہ سارے ممالک اس پر عملدرآمد کر پائیں؟ اس کانفرنس کے آغاز سے اب تک دنیا کے بڑے بڑے مسائل جیسے مسئلہ کشمیر، مسئلہ فلسطین، پاک بھارت تعلقات اور اس سے خطے کو لاحق خطرات، سرد جنگ، افغانستان میں جنگ اور پھر بڑی طاقتوں کی مداخلت، مشرق وسطی اور ایشیا و افریقہ میں موجود کئی دیرینہ مسائل میں اس کانفرنس کا کیا کوئی کردار رہا؟ اس سوال کے جواب میں بس یہی کہا جا سکے گا کہ بات چیت ممکن ہوئی۔ لیکن موجودہ صورتحال اور اس ساٹھویں میونخ سکیورٹی کانفرنس میں ایجنڈا اور نتائج کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا درست ہو گا کہ اس طرح کے پلیٹ فارمز سے دنیا کو درپیش سکیورٹی کے بڑے چیلنجز کا حل نہیں نکالا جا سکتا۔
تین روزہ ساٹھویں میونخ سیکیورٹی کانفرنس 18 فروری کو اختتام پذیر ہوئی جس میں یوکرین بحران اور مسئلہ فلسطین سمیت عالمی سلامتی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا لیکن شرکاء کے درمیان کئی معاملات پر بڑے اختلافات دیکھنے میں آئے۔
روس یوکرین تنازع پر مغربی ممالک میں اختلافات نمایاں دیکھے گئے۔ یاد رہے کہ روس یوکرین تنازع کے اہم حریف روس کو اس میں کس حد تک شامل کیا گیا یا بات کی گئی یہ ایک علیحدہ بحث ہو سکتی ہے لیکن کیا نیٹو کی سیکٹری جنرل کی جانب سے روس یوکرین تنازع پر امریکہ پر یہ زور دینا کہ وہ روس کو ہتھیاروں کی فراہمی سمیت اپنی دیگر ذمہ داریاں پوری کرے کہنے سے یہ پلیٹ فارم جانب دار رہ پایا؟ میری ذاتی رائے میں کسی بھی پلیٹ فارم کی اخلاقی حیثیت بھی اس وقت تک برقرار رہتی ہے جب تک وہ غیر جانب دار رہے کیوں کہ جانب داری سے دنیا نے جن مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی ہے وہ ماضی کی طرح آج بھی دنیا کی سکیورٹی کے لیے خطرات ہیں۔
میونخ کانفرنس میں فلسطین اسرائیل تنازع کے معاملے پر بین الاقوامی تنظیموں اور مختلف ممالک کی شخصیات نے اس بات پر زور دیا کہ صرف ”دو ریاستی حل“ پر عمل درآمد ہی مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کو فروغ دے سکتا ہے۔ یہ بھی اطلاعات آئیں کہ کافی یورپی ممالک نے بھی مسئلہ فلسطین کے فوری حل میں سب سے فائر بندی کی حمایت کی ہے اور اس پر اصرار بھی کیا ہے۔ یہ حمایت یوں تو خوش آئند ہے لیکن اس کا اثر اگر متعلقہ فریقوں پر نہ ہو اور مسئلہ جوں کا توں رہے تو اس اخلاقی حمایت کا اس دیرینہ مسئلہ پر کو یہ اثر نہ ہو گا۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر اس طرح کے پلیٹ فارمز بھی محض پلیٹ فارمز رہیں گے تو پھر دنیا کے دیرینہ بڑے سکیورٹی مسائل کیسے حل ہوں گے۔ اس کا جواب سال 2023 میں ہمیں چین کی جانب سے دیا گیا جہاں افغانستان کے مسائل کے حل اور ایران سعودی عرب تعلقات کے ساتھ ساتھ مشرق وسطی میں قیام امن کے لئے شام کی عرب لیگ میں شمولیت کی کامیاب کوششیں دیکھی گئیں۔ ایک طویل عرصے تک مشرق وسطی اور مسلم امہ کے مابین اختلافات کی وجہ سمجھے جانے والے ایران سعودی عرب تعلقات کی بحالی خالصتاً چین کی ایک ایسی کوشش کہی جا سکتی ہے جس میں ذاتی مفاد اور مداخلت سے ہٹ کر بین الاقوامی امن کے لئے کامیاب سفارتکاری کی گئی۔
ایسی ہی کسی کوشش کے منتظر اس وقت مسئلہ فلسطین، مسئلہ کشمیر اور روس یوکرین تنازع بھی ہیں۔ ان کوششوں کی کامیابی کی اصل وجہ صرف اور صرف حقائق کا ادراک اور غیر جانب داری ہے۔ ایک عام رائے اب اس تناظر میں یہ پائی جاتی ہے کہ دنیا کے با اثر ممالک اگر اس روش پر چلیں تو دنیا کی سکیورٹی کے مسائل کے حل کے لئے کسی کانفرنس کی ضرورت نہ ہو۔


