یوسف امام کی کتاب "نقوشِ حیات رفتہ” پر تبصرہ


مبصر: ڈاکٹر تہمینہ عباس
کتاب: نقوش حیات رفتہ (یادداشتیں )
مصنف: یوسف امام
پبلشر: فضلی سنز پرائیویٹ لمیٹڈ
سن اشاعت: فروری 2024 ء

”نقوش حیات رفتہ“ یوسف امام کی یادداشتوں پر مشتمل ان کے سوانحی مضامین اور شاعری کا مجموعہ ہے۔ یوسف امام صاحب زمانہ ٔطالب علمی سے ہی فعال شخصیت تھے۔ ہم نصابی سرگرمیوں اور ترقی پسند مصنفین کی ادبی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیتے تھے۔ کالج کے طلبہ یونین میں انتخاب جیت کر نائب صدر اور ( صدر پرنسپل ) کے عہدے پر فائز ہوئے۔ اچھے مقرر بھی تھے انھوں نے دشواریوں سے بھری زندگی میں اپنی ذہانت اور محنت سے یونیورسٹی میں اول پوزیشن حاصل کی۔

فسادات نے انھیں رانچی سے ڈھاکہ اور ڈھاکہ سے کراچی اور کراچی سے دبئی پہنچا دیا جہاں انھوں نے زندگی کا طویل ترین عرصہ مشہور اخبار ”خلیج ٹائمز“ میں مختلف محکموں کی سربراہی کرتے ہوئے گزارا۔ اس سے قبل ڈھاکہ کے اردو روزنامے ”پاسبان“ کی انتظامیہ کے سربراہ بھی رہے۔ یوسف امام کی کتاب ”نقوش حیات رفتہ“ صرف چند ہستیوں کی تاریخ نہیں ہے بلکہ ایک عہد کی آئینہ دار ہے۔ اس کتاب کے ذریعے ہم بے شمار تاریخی شخصیات سے ملتے ہیں۔ یوسف امام صاحب ان چند خوش قسمت لوگوں میں سے ہیں جنھوں نے تاریخ ساز شخصیات کے ساتھ وقت گزارا اور ان شخصیات کے ساتھ گزرے ہوئے وقت کو قلم بند کر دیا۔

” نقوش حیات رفتہ“ ایک سو بہتر صفحات پر مشتمل یوسف امام کی یادداشتوں کا مجموعہ ہے۔ جس میں ان کے بارہ مضامین اور ان کا منظوم کلام شامل ہے۔ اس کتاب کا سرورق ڈاکٹر خالد پراچہ نے بنایا ہے۔ سرورق پر کلکتہ کے مشہور ”ہاوڑہ برج“ کی تصویر ہے۔ اس کتاب کا پہلا مضمون ”کلکتہ کی یادیں“ کے عنوان سے ہے۔ ”کلکتہ کی یادیں“ میں وہ لکھتے ہیں

پر شکوہ ہاوڑہ برج آرکیٹکچر اور عمارت سازی کا ایسا اعلیٰ نمونہ ہے جو شہر میں ریلوے اسٹیشن سے نکل کر داخل ہونے والوں کو مرعوب اور حیرت زدہ کر دیتا ہے۔ لاکھوں ٹن کا وزن اٹھائے، کسی درمیانی سہارے کے بغیر، دریائے ہگلی پر کیسے کھڑا ہے۔ کئی سال پہلے امریکہ کے شہرہ آفاق ”گولڈن گیٹ برج“ کا نظارہ کرتے ہوئے مجھے احساس ہوا تھا کہ دلکش سیر گاہوں اور قابل دید عمارتوں کی عالمگیر شہرت کا انحصار اس ملک کی عظمت اور پرفضا مقامات کی سیر و سیاحت کی اعلیٰ سہولتوں کی تشہیر پر ہوتا ہے ورنہ ”ہاوڑہ برج“ بھی عالمی شہرت رکھتا۔

”مضمون“ کلکتہ کی یادیں ”میں فورٹ ولیم کالج، بنگال کی تہذیبی اور معاشرتی زندگی، رقص، موسیقی، مصوری، شاعری، نثر نگاری اور ڈراموں کے ساتھ اس دور کی مشہور سیاسی سماجی اور فنون لطیفہ سے وابستہ شخصیات مثلاً ودیا ساگر، رام موہن رائے، بنکم چٹر جی، ٹیگور، نذرالاسلام، آغا حشر کاشمیری، ملکہ ترنم نور جہاں، کا ذکر بھی موجود ہے۔ اس مضمون میں مظہر امام، اختر حسین رائے پوری، ل احمد، افسر ماہ پوری اور شہزاد منظر کا حوالہ بھی موجود ہے۔ “ کلکتہ کی یادیں ”یوسف امام کی زندگی کے مختلف نشیب و فراز کی عکاسی کرتا ہے۔ ابتدائی دور میں یتیم ہو جانا اور زندگی کی جدوجہد میں متحرک رہنا، علمی اور ادبی حلقوں میں اپنی جگہ بنانا، خاص طور پر مشہور شاعر مظہر امام صاحب سے دوستی اور طویل رفاقت کا ذکر موجود ہے۔

کہیں کہیں اس دور کے مشہور مصنفین اور شاعروں سے وابستہ قصے بھی بیان کیے گئے ہیں۔ مضمون ”کلکتہ کی یادیں“ میں یوسف امام نے تنقیدی نقطہ نظر اپنایا ہے۔ وہ مظہر امام کی بابت لکھتے ہیں کہ ”مظہر امام کی شاعری میں آپ کبھی تو یقین سے ابہام کی طرف جاتے ہیں اور کبھی ابہام سے یقین کی طرف یہ دو رویہ حرکت مظہر امام کی شاعری کی خصوصیت ہے اور انھیں دوسرے شاعروں سے ممتاز کرتی ہے تو ہمیں یوسف امام کے گہرے تنقیدی شعور کا احساس ہوتا ہے“ ۔

اس کتاب کا دوسرا مضمون ”آئینہ سخنوری“ ادیب سہیل کا شخصی خاکہ ہے۔ ادیب سہیل اپنے دور کے ایک نام ور افسانہ نگار تھے جن کے ابتدائی افسانوں نے ہی انھیں علمی اور ادبی حلقوں میں واضح شناخت دے دی تھی۔ ادیب سہیل نے 1943 میں قحط بنگال کے دوران کلکتہ کی گلیوں میں لوگوں کو بھوک سے مرتے ہوئے دیکھا۔ 1947 میں تقسیم کے نتیجے میں بنگلہ دیش میں آ گئے اور سقوط مشرقی پاکستان کے کچھ عرصے کے بعد پاکستان آ گئے۔ ان کے افسانوں کے موضوعات اور ان کی نظمیں، ان کے علمی اور ادبی رجحانات کی واضح عکاس ہیں۔ اس مضمون میں یوسف امام نے ان کی شاعری اور خصوصاً ًنظموں کے حوالے سے واضح تنقیدی نقطۂ نظر اختیار کیا ہے۔ ان کی نظموں میں، ہیولا، اجلی لکیر، قلعہ کم فراز، پانی کا اسرار، حقیقت کل، کو ان کی بہترین نظمیں قرار دیا ہے۔

اس کتاب کے تیسرے مضمون کا عنوان ہے ”مجاز کلکتہ اور رانچی“ ۔ اس مضمون میں مشہور شاعر مجاز کی زندگی کے مختلف واقعات کا ذکر موجود ہے۔ اس مضمون سے مجاز کی ادبی زندگی، مشاعروں اور ذاتی زندگی کے حوالے سے مختلف حقائق سامنے آتے ہیں۔ مجاز کی ذہنی بیماری، ذہنی بیماری کا علاج، کثرت مے نوشی اور ان کی ناگہانی موت کا تذکرہ موجود ہے۔

مجازؔ کی موت کے حوالے سے یوسف امام لکھتے ہیں کہ ”دسمبر کی ایک کڑاکے کی سردی میں دیر تک شراب نوشی میں مشغول رہے۔ بعد میں سبھی مے خوار اٹھ کر چلے گئے مگر مجازؔ اتنے بدمست تھے کہ اٹھ کر جا نہیں سکے۔ اسی کھلی چھت پر جسم پر کچھ اوڑھے بغیر سو گئے۔ صبح دم فالج زدہ پائے گئے۔ انھیں برام پور کے اسپتال میں داخل کر دیا گیا۔ جہاں سے دوسرے دن ان کا جنازہ اٹھا۔ اور انھیں“ نشاط گنج ”قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔“ ”نقوش حیات رفتہ“ کا اگلا مضمون ”پرویز شاہد“ ہے۔ اس مضمون میں مشہور شاعر پرویز شاہد کی زندگی کے مختلف ادوار ان کی شاعری اور ان کے شعری مجموعوں کے اشاعت کا حال بیان کیا گیا ہے۔ خاص طور پر ان کے انتقال کے بعد ان کے مجموعے ”تثلیث حیات“ کی از سر نو ترتیب و اشاعت کا ذکر ہے۔ جو یوسف امام کی کوششوں سے عمل میں آئی۔

اگلا مضمون ”پروفیسر ڈاکٹر سید احتشام حسین“ ہے۔ ڈاکٹر سید احتشام حسین اردو ادب کے ایک اہم نقاد ہیں۔ اس مضمون میں ان کی شخصیت اور ملاقات کا احوال بیان کیا گیا ہے۔ اگلا مضمون ”ڈاکٹر ملک راج آنند“ ہے۔ ”کلکتہ میں امن کانفرنس“ میں یوسف امام کی ڈاکٹر ملک راج آنند سے ملاقات ہوئی اور اس کے بعد کئی ملاقاتیں ہوئیں۔ یہ مضمون ان ہی ملاقاتوں کے احوال پر مبنی ہے۔

اگلا مضمون ”مجروح سلطان پوری“ ہے۔ جس میں مشہور ترقی پسند شاعر مجروح سلطان پوری کا ذکر موجود ہے۔ اس مضمون میں یوسف امام نے مجروح سلطان پوری کے سیاسی نظریات اور ان کی عمدہ گیت نگاری اور انسان دوستی سے متعلق یادداشتیں پیش کی ہیں۔ اس کتاب میں ایک بہت مختصر مضمون ”پروفیسر ڈاکٹر عبدالعلیم“ ہے۔ جس میں انھوں نے علی گڑھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالعلیم سے ایک ملاقات کا ذکر کیا ہے۔ اگلا مضمون ”امرت رائے“ کے نام سے ہے۔

امرت رائے، پریم چند کے صاحبزادے تھے۔ وہ کئی زبانوں پر عبور رکھتے تھے۔ یوسف امام صاحب سے ان کی کئی ملاقاتیں ہوئیں۔ امرت رائے ہندی زبان کے حوالے سے واضح نقطۂ نظر رکھتے تھے ہندی اور اردو تنازعے میں ان کا ووٹ ہندی کے حق میں تھا۔ اس سے اگلا مضمون ”علی سردار جعفری“ ہے جس میں علی سردار جعفری سے ہونے والی کچھ ملاقاتوں کا حال بیان کیا گیا ہے۔

اگلا مضمون ”غلام ربانی تاباں“ ہے غلام ربانی تاباں ترقی پسند شاعروں میں نمایاں مقام رکھتے تھے۔ اس مضمون میں ان سے ہونے والی ملاقات کا ذکر ہے۔ اس کتاب کا اگلا مضمون ”شیر شاہ سید کی افسانہ گری“ ہے۔ جس میں انھوں نے شیر شاہ سید سے واقفیت، ان کی بہترین افسانہ نگاری، ان کے متنوع موضوعات، اور ان کے رفاہی کاموں کا تذکرہ کیا ہے۔ یوسف امام ڈاکٹر شیر شاہ سید کی افسانہ نگاری کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ ”ڈاکٹر شیر شاہ سید کے افسانوں میں صرف پر آشوب اور انتشار گزیدہ معاشرے کی تلخ حقیقتیں ہی نہیں ہوتی۔

ان میں رومانس، محبت، بے وفائی کے موضوعات بھی ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر شیر شاہ سید کو اپنی عملی زندگی میں مشاہدات اور تجربات کے وسیع مواقع ملتے رہے۔ امراض نسواں کے شعبے سے ان کی وابستگی نے اچھوتے اور دلچسپ موضوعات قدم بہ قدم فراہم کیے۔ جس سے ان کی فطری تخلیقی صلاحیتیں خوبصورت کہانیاں تشکیل دیتی گئیں۔“ یوسف امام صاحب نے ڈاکٹر شیر شاہ سید کی کہانیوں کو بہت اعلی معیار کا قرار دیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ بہت سی کہانیاں اتنے بلند معیار کی ہیں کہ بہترین افسانوں کے ہر انتخاب میں شامل ہونے کا حق رکھتی ہیں۔

کتاب کے آخر میں ان کا کچھ کلام شامل ہے۔ جس میں غزلیں، نظمیں، قطعات وغیرہ شامل ہیں۔
حائل رہے ہر چند تری چشم تغافل
اترے گی ترے دل میں مری بات کبھی تو
۔
صحرا میں مرے پاؤں تھے خاروں سے بہت خوش
گھر آ کے وہ محروم ہیں اب لطف نمی سے
۔

Facebook Comments HS