نظریاتی کارکنوں کی فروخت شدہ قربانیاں!


1983 اور 1985 کی ایم آر ڈی تحریک کا لاڑکانہ شہر کی حد تک نہ صرف میرا روز کا مشاہدہ رہا بلکہ گرفتاریاں دینے والے کئی سیاسی کارکنان سے میری ملاقات بھی ہوتی تھی۔ گرفتاریاں دینے کے لئے کارکنان کو ذہنی طور پر تیار کرنے والے لوگوں سے بھی گفتگو ہوتی تھی اور کبھی کبھار ان کے رہنماؤں سے بھی بات چیت ہوتی تھی۔ سیاست کے علاوہ ادبی لحاظ سے بھی سندھ میں وہ بہت متحرک دور تھا۔ عوامی تحریک اور بعض دوسری سیاسی جماعتوں کے اسٹڈی سرکلز بھی ہوتے تھے، جن میں نظریاتی کتب کے ساتھ ادبی کتابیں بھی پڑھی اور پڑھائی جاتی تھیں۔

زمانہ طالب علمی سے آج تک میری کسی بھی سیاسی پارٹی سے عملی طور پر وابستگی نہیں رہی۔ دراصل 1981 میں، میں نے لاڑکانہ میں ایک اشاعتی ادارہ قائم کیا تھا اور 1982 میں اپنے ادارے کی کتابوں کی ترسیل کے لئے بک شاپ کی ابتداء بھی کی تو سندھی اور اردو کتابیں شائع کرنے والے کئی اداروں نے کتابیں بھیجنا شروع کر دیں۔ کچھ ہی عرصہ میں کراچی، حیدرآباد، لاہور اور راولپنڈی کے مشہور اداروں کی کتابوں کا بھی بالائی سندھ میں وہ بڑا مرکز بن گیا۔

کاروباری سوچ کی بجائے دل میں یہ بات ہوتی تھی کہ ایسی معیاری کتب کو عام لوگوں تک پہنچایا جائے، جو فکر و سوچ میں تبدیلی کا باعث بنیں۔ یہی وجہ تھی کہ وہاں غیر معیاری کتابیں رکھنے کے لئے کوئی جگہ نہیں تھی۔ صرف اعلٰی معیار کی علمی، ادبی اور نظریاتی کتابیں ہی موجود ہوتی تھیں۔ عام لوگوں تک معیاری کتابیں پہنچانے کے خیال کا نتیجہ یہ نکلا کہ نہ صرف کتابوں سے دلچسپی رکھنے والے عام قارئین پورے سندھ سے خاص طور پر کتابوں کی خریداری کے لئے لاڑکانہ آنے لگے، بلکہ لمبائی چوڑائی کے لحاظ سے اشاعتی ادارے کی وہ چھوٹی سی جگہ ادبی اور نظریاتی کتابیں پڑھنے والوں کا بڑا مرکز بن گئی۔ قوت خرید نہ ہونے والے نوجوانوں کو کتابیں پڑھ کر واپس کرنے کی بلا معاوضہ سہولت حاصل تھی۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے ورکرز تو کتابیں لے کر تھوڑی کی گفتگو کے بعد چلے جاتے تھے لیکن لاڑکانہ شہر کا وہ چھوٹا سا ادارہ پورے سندھ کے ادیبوں کا مرکز بن گیا۔

شہر میں موجود ادبی تنظیموں کی بیٹھکیں تو ہفتہ وار یا ماہانہ دو چار گھنٹے ہوتیں تھیں لیکن میرے اشاعتی ادارے پر روزانہ دن بھر ادبی، سیاسی اور نظریاتی بحث مباحثے ہوتے رہتے تھے۔ ادیبوں اور شاعروں کے علاوہ کچھ سیاسی رہنما بھی اکثر آتے تھے، جن میں ایم آر ڈی تحریک کے کنوینر حسین بخش ناریجو اور نثار کھوڑو خاص طور پر شامل تھے۔ جب ایم آر ڈی تحریک شروع ہوئی تو عوامی تحریک سے وابستہ ورکر عزیز سومرو اپنی پارٹی کے گرفتاری دینے والے کارکنان کے ساتھ آ کر بیٹھ جاتے تھے۔ وہ ان کارکنوں کی گرفتاری کے لئے مقررہ وقت اور جگہ سے پہلے اٹھائے جانے سے بچانے کے لئے میرے اشاعتی ادارے میں آ کر چھپا کر بٹھا دیتے تھے۔ گرفتاری دینے کا وقت ہوتا تھا تو وہ کارکن وہاں سے اٹھ کر اپنی جماعت کا جھنڈا لہراتے ہوئے، آمریت کے خلاف نعرے لگاتے پاکستان چوک پر پہنچ کر گرفتاری پیش کرتے تھے۔

آمریت کے دور میں، میں ان سیاسی جماعتوں کے ورکرز کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا تھا، جو جمہوریت کی بحالی کے لئے خود کو پابند سلاسل کرانے چلے آتے تھے۔ اس لئے میں نے ان سیاسی کارکنان کی آمد اور گرفتاری سے پہلے وہاں آ کر چھپنے پر کبھی بھی اعتراض نہیں کیا۔ یہ بات زیادہ عرصہ چھپی نہیں رہ سکی۔ ایک دن عوامی تحریک، پیپلز پارٹی اور جمیعت علماء اسلام کے گرفتاری دینے والے کارکنان کو تھانے پر چھوڑ کر ایک پولیس موبائل آئی اور مجھے بھی پولیس اسٹیشن لے جایا گیا۔

گرفتاری دینے والے تین سیاسی کارکن تھانے میں ایک بینچ پر بیٹھے ہوئے تھے۔ میں بھی ان کے ساتھ جاکر بیٹھ گیا۔ سچ یہ ہے کہ میں کسی بھی سیاسی جماعت کے کھاتے میں جیل جانا نہیں چاہتا تھا اور نہ ہی مجھے جیل جانے اور سیاست کرنے کا شوق تھا۔ اس لئے میں بہت بیزاری محسوس کر رہا تھا۔ تین گھنٹے کے بعد لاڑکانہ کے اس وقت کے اے ایس پی واجد درانی آئے۔ انہوں نے بینچ پر بیٹھے لوگوں کی جانب دیکھتے ہوئے ہیڈ محرر سے پوچھا، ”آج تین کی بجائے چار نے گرفتاری دی ہے کیا؟“

اس سے پہلے کہ ہیڈ محرر کچھ کہے، میں نے واجد درانی سے کہا، ”میں نے گرفتاری نہیں دی۔ میرا ایک اشاعتی ادارہ ہے۔ دو افراد گرفتاری دینے سے قبل وہاں موجود تھے اور کتابیں دیکھ رہے تھے۔ اشاعتی ادارے پر کتابیں خریدنے کے لئے تو کوئی بھی آ سکتا ہے۔ گرفتاری دینے والے ان لوگوں کو تھانے پہنچانے کے بعد مجھے اٹھا کر تھانے لایا گیا ہے۔“ اے ایس پی واجد درانی نے مجھ سے کوئی معذرت کیے بغیر کہا، ”آپ جائیں۔“ اور یوں تین گھنٹے بعد مجھے رہائی ملی۔

سندھ میں ایم آر ڈی تحریک پر کچھ نہ کچھ لکھا جاتا رہا ہے۔ اس موضوع پر مزید تفصیل سے لکھنے کی ضرورت ہے کہ وہ تحریک ہمارے ماضی قریب کی تاریخ کا اہم حصہ ہے۔ ایم آر ڈی تحریک کے ان کارکنوں پر بھی لکھا جانا چاہیے جنہوں نے اپنی زندگیاں قربان کیں۔ ان گمنام کارکنان کو بھی یاد کرنا چاہیے، جنہوں نے نظریات کو اپنے گھر اور بیوی بچوں پر ترجیح دی اور پھر جب سیاسی جماعتوں کی ترجیحات بدل گئیں تو وہ کارکنان نظریاتی موت کا شکار ہو کر مایوسیوں گمنامیوں کے اندھیروں میں کھو گئے۔

لاڑکانہ شہر سے تعلق رکھنے والا ایسا ہی ایک سیاسی کارکن عزیز سومرو بھی تھا، جس کے لئے میں نے بہت بعد میں سنا تھا کہ عمر رسیدہ ہو کر وہ باعث علالت بستر نشین تھا اور اب نجانے کس حال میں ہے۔ عزیز سومرو کا تعلق سوشلسٹ پارٹی سے تھا اور چھوٹی سی سرکاری ملازمت کرتا تھا۔ وہ اپنی پارٹی کے لئے نوجوانوں کو تیار کرنے کے لئے ہر ماہ اپنی آدھی تنخواہ سے نظریاتی کتابیں خرید کر نوجوانوں میں تقسیم کرتا تھا اور آدھی تنخواہ گھر لے جاتا تھا۔

جب اس انقلابی نظریہ رکھنے والی پارٹی کی ترجیحات بدل گئیں تو عزیز سومرو منظر سے غائب ہو گیا۔ کچھ سال پہلے مجھے لاڑکانہ میں راہ چلتے ملا تھا تو میرے ایک سوال کے جواب میں سڑک کنارے اس کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے تھے۔ اس نے اپنا سر پیٹ کر شدت غم سے کہا تھا، ”مجھے نہیں معلوم کہ مجھ جیسے کارکنوں کی قربانیوں کو پارٹی نے کتنی قیمت پر فروخت کر دیا!“

Facebook Comments HS