میرے گاؤں میں طریقۂ علاج
آپ کا اصلی نام سید احمد حسن شاہ تھا۔ لیکن آرڈر شاہ کے نام سے پکارے جاتے تھے۔ ساڑھے پانچ فٹ قد، سر پر چھوٹے چھوٹے سفید بال، بڑی بڑی سرخی مائل آنکھوں کے اوپر گھنی، سفید اور درمیان سے آپس میں ملی ہوئی بھنویں، کھلتی ہوئی گندمی رنگت، کتابی چہرہ، بڑی بڑی اور گھنی مونچھوں اور خشخشی سی سفید داڑھی کے درمیان گم ہوتا ہوا چھوٹا سا دہن دبلے پتلے جسم پر اکثر سبز رنگ کا لمبا سا چغہ نما کرتہ اور تہبند پہنے گاؤں میں گھومتے پھرتے دکھائی دیتے۔
آپ کا ہر کام آرڈر کے تحت ہوتا۔ یہ آرڈر کہاں سے جاری ہوتے تھے۔ اور آپ تک کس واسطے سے پہنچتے تھے یہ راز آخری دم تک راز ہی رہا۔ آپ گاؤں کے بچوں، بوڑھوں، نوجوانوں سبھی طبقوں میں یکساں طور پر ایک دلعزیز شخصیت تھے۔ اکثر اوقات آٹھ دس بچے اکٹھے ہو کر انہیں گھیر لیتے اور چیجی لینے کا مطالبہ کرتے چیجی بھی ان دنوں کیا ہوتی تھی۔ علی کی دکان پر مدت دراز سے پڑی ہوئی پھلیاں، مچھیاں، ٹانگریاں، مکھانے، کونڈی میں رکھ کر مطہری کی مدد سے توڑ کر کھائے جانے والے لڈو۔
وہ کمال شفقت کے ساتھ بچوں سے دریافت کرتے کہ بچو کیا اس کے لیے آرڈر ہو گیا ہے۔ بچوں کو اس آرڈر کی حقیقت سے تو قطعاً کوئی آگاہی نہ تھی۔ لیکن وہ اتنا ضرور سمجھتے تھے کہ اس سوال کا اثبات میں جواب دینا ہی چیجی کی فراہمی کو یقینی بنائے گا۔ چنانچہ وہ سبھی بیک زبان آرڈر ہو جانے کی یقین دہانی کروا دیتے اور اب آرڈر شاہ کے لئے اس آرڈر کی بجا آوری لازمی ہو جایا کرتی تھی۔ وہ بچوں کو ساتھ لے کر دکان پر آتے حاضر اسٹاک کا جائزہ لے کر چیجی کے لئے کسی ایک چیز کا انتخاب کیا جاتا اور وہ چیز وافر مقدار میں خرید کر بچوں کی جھولیاں بھر دی جاتیں اور بچے خوشی خوشی اسے کھاتے ہوئے گھروں کو چلے جاتے اور لطف کی بات تو یہ ہے کہ آرڈر شاہ اپنے اس فعل پر بچوں سے بھی زیادہ خوش ہوتے تھے۔
گاؤں سے ملحق تھوڑی سی زمین ان کی ملکیت تھی۔ ایک چھوٹا سا قطعہ بقیہ زمین سے تقریباً تین فٹ اونچا تھا۔ تقریباً پانچ چھ کنال زمین کے اس ٹکرے پر درخت اور جھاڑ جھٹکار اگا ہوا تھا۔ اس جھاڑ جھٹکار کے درمیان ایک 4 میٹر مربع کا چبوترہ سا بنایا ہوا تھا۔ شاہ جی کے مطابق یہ خاک علی شاہ کا مزار تھا۔ وہ جمعرات کی رات کو بڑی باقاعدگی سے وہاں سرسوں کے تیل کے دیے جلا یا کرتے تھے۔ بڑی عقیدت سے منتیں مانگا کرتے۔
اس وقت مزار پرستی ابھی اتنی عام نہیں ہوئی تھی۔ اس لیے پورے گاؤں میں آرڈر شاہ کے علاوہ صرف ایک آدمی بابا سلطان ہی پیر خاک علی شاہ کا معتقد بن سکا کہتے ہیں کہ عقائد کے لحاظ سے مسلمان اس وقت 72 مختلف فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ لیکن شاہ جی تہترویں فرقے سے تعلق رکھتے تھے۔ اور اس فرقے میں وہ اکیلے ہی تھے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ خدا تعالیٰ نے دنیا کو تخلیق کیا ہے۔ اس کی تخلیق کے وقت تمام اختیار اور طاقت صرف اس کی ذات واحد میں مرتکز تھی۔ لیکن بنی آخر الزماں کی بعثت کے بعد یہ اختیارات آپ کو اور بعد میں اہل بیت اور خصوصاً پنجتن پاک کو منتقل کر دیتے گئے اور پنجتن پاک میں سے بھی سب سے زیادہ با اختیار ہستی حضرت علی کرم اللہ وجہ کی ذات کو قرار دیتے۔
ان کا ذکر کرتے وقت عقیدت میں سراپا بھیگے ہوئے ہوتے۔ عجز و انکسار عقیدت، احترام اور نیاز مندی ان کے روئیں روئیں سے پھوٹتی ہوئی محسوس ہوتی۔ خدا کی ذات سے اکثر شاکی رہتے۔ ایک گلہ تو یہ تھا کہ میدان کربلا میں جب یزید کی فوج نے حضرت امام حسین اور ان کے اہل و عیال کا پانی بند کر رکھا تھا اور ان پر ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے تھے۔ بھوکوں اور پیاسوں کو شہید کیا جا رہا تھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان مظلوموں کی مدد کیوں نہیں کی۔
یہ واقعات بیان کرتے ہوئے وہ اکثر رہ بھی دیتے۔ دوسرا گلہ انہیں یہ بھی تھا کہ تمام گاؤں والوں کے حصے کی ساری کی ساری جڑی بوٹیاں انہیں کی زمین میں کیوں اگتی ہیں۔ وہ سارا دن بڑی محنت سے اور دھیان سے ان جڑی بوٹیوں کو تلف کرتے رہتے ہیں۔ اور اگلے ہی دن اس سے بھی زیادہ اگی ہوئی ہوتی ہیں۔ ایک دفعہ رات کے تقریباً دو بجے آپ کے دروازے پر دستک ہوئی۔ گھر سے باہر نکلنے پر شانے وٹو کو وہاں موجود پایا۔ استفسار پر معلوم ہوا کہ اس کی ماں سخت بیمار ہے۔ اور وہ اس سلسلہ میں آپ کی مدد کا خواہاں ہے۔
شاہ صاحب نے خاموشی سے چادر کندھوں پر رکھی۔ اور اس کے ساتھ چل دیے۔ شانے وٹو نے انہیں بیٹھک میں بٹھایا۔ اور خود گھر کے اندر چلا گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد واپس آیا۔ اور بولا کہ ماں کی طبعیت خراب سے خراب تر ہوتی جا رہی ہے۔ بتائیے کیا کروں۔ آپ نے نہایت اعتماد سے تجویز کیا کہ کورے گھڑے کا پانی لے کر کھانڈ کا شربت بنا کر اماں کو پلا دو۔ وہ آہستگی سے منمنایا کہ اماں کو شوگر کی شکایت ہے اور دمے کی مریضہ بھی ہے۔
آپ نے کمال شان بے نیازی سے فرمایا کہ کوئی بات نہیں۔ وہ ان ہدایات پر عمل کرنے کے لئے اندر چلا گیا۔ تھوڑی دیر بعد وہ گھبرایا ہوا واپس آیا اور بتایا کہ اماں کی طبیعت اور بگڑ گئی ہے اور سانس رک رک کر لے رہی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ فکر کی کوئی بات نہیں۔ کھانڈ کا میٹھا شربت ایک بار اور پلا دو ۔ وہ پھر اندر چلا گیا۔ اور دس پندرہ منٹ کے بعد اندر سے عورتوں اور بچوں کے رونے کی آوازیں آنا شروع ہو گئیں۔ شاہ صاحب سمجھ گئے کہ اماں چل بسی ہے۔
انہوں نے نہایت خاموشی کے ساتھ چادر کندھے پر رکھ کر اپنے گھر کی راہ لی اور گھر آ کر بستر پر لمبی تان کر سو گئے۔ اگلے دن مرحومہ کا جنازہ پڑھنے کے بعد لوگ پٹی پر آ بیٹھے۔ کچھ لوگ شانے کے پاس افسوس کے لئے آئے۔ تو کلام بخشنے کے بعد ان میں سے ایک نے دریافت کیا کہ اماں کو کیا ہوا تھا۔ تو شانا نے گزشتہ رات کی مختصر سی کہانی سنا ڈالی۔ ان لوگوں نے شانے کو آڑے ہاتھوں لیا کبھی شوگر اور دمے کے مریض کو کھانڈ کا ٹھنڈا میٹھا شربت بھی پلایا جاتا ہے۔
اب تو گویا آنے والوں کا تانتا ہی بندھ گیا۔ نئے آنے والے اماں کی وجہ مرگ دریافت کرتے۔ شانا نے انہیں بیتی رات کی شاہ صاحب کی حکمیانہ ہدایات پر مبنی کہانی بیان کرتا اور فوری رد عمل کو حوصلے اور تسلی کے ساتھ برداشت کرتا۔
شاہ صاحب کچھ دیر تو لوگوں کی طعن و تشنع سنتے رہے۔ بالآخر ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ اور انہوں نے وہاں پر دعائے مغفرت کے لیے آنے والوں سے مخاطب ہو کر دریافت کیا کہ بھائیو میں نے کبھی ڈاکٹر یا حکیم ہونے کا دعوی کیا ہے۔ لوگوں نے نفی میں جواب دیا۔ تو شانے سے مخاطب ہوئے کہ تم نے کیوں مجھے آدھی رات کو جگا کر اماں کے لیے دوائی تجویز کرنے کو کہا تھا۔ مجھے جو سمجھ آیا وہ میں نے بتا دیا۔ اب ہر اک کو بتاتے پھر رہے ہو کہ شاہ صاحب نے یہ کہا تھا۔ شاہ صاحب نے وہ کہا تھا خبردار جو اس سلسلے میں آئندہ میرا نام لیا اور یوں شانے نے چپ سادھ لی۔


