چیخوف کے ناولٹ ”تین سال“ کا کرداری مطالعہ (قسط 02 )

فیودر استیپانچ بھاری پاٹ دار آواز کا حامل ایک اسی سالہ خود پسند بوڑھا شخص ہے جو عورت اور مرد کو برابر نہیں مانتا۔ اس کا ثبوت وہ یوں دیتا ہے کہ اپنی بیٹی کو بیٹوں کے برعکس نہ ہی سکول بھیجتا ہے اور نہ اس کی رائے کو اہمیت دیتا ہے۔ یہ اس بات پر خفا نظر آتا ہے کہ اس کے بیٹے الکسئی فیودرووچ نے شادی کرتے وقت باپ سے اجازت لینا بھی ضروری نہیں سمجھا۔ یہ ایسا کردار ہے جو اپنے ملازمین کو کسی بھی صورت کھلی آزادی دینے کے حق میں نہیں۔
حتیٰ کہ اس کے ملازمین شادی کرنے سے بھی ڈرتے ہیں کہ کہیں ان کا مالک ناراض نہ ہو جائے اور انہیں نوکری سے برخواست نہ کر دے۔ ملازمین کے لئے نوکری کے ساتھ ساتھ عبادت کی بھی پابندی لازم ہے۔ یہ کردار اپنی بیٹی کی بچیوں (ساشا اور لیدا) کو اس وجہ سے اپنانے سے انکار کر دیتا ہے کہ ان کی ماں نے اس کی اجازت کے بغیر شادی کر لی تھی۔
الکسئی فیودرووچ کی بہن نینا فیودروونا کا کردار بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ اس کی وجہ یوں سمجھئے کہ نینا فیودروونا کینسر کی مریض ہے۔ اور جو ڈاکٹر اس کا علاج کر رہا ہے وہ یولیا سرگئی ونا کا باپ ہے۔ اظہار محبت سے قبل الکسئی فیودرووچ اور یولیا سرگئی ونا کی بات چیت کا موضوع نینا فیودروونا کی بیماری ہی ہوا کرتی تھی اور الکسئی فیودرووچ بہن کے علاج کے بہانے یولیا سرگئی ونا سے بات کرنے کا موقع تلاش کرتا رہتا تھا۔ ناولٹ کا ابتدائی منظر بھی یہی ہے کہ الکسئی فیودرووچ، یولیا سرگئی ونا کا چرچ کے باہر انتظار کر رہا ہے۔ اور جب دونوں ملتے ہیں تو بات نینا فیودروونا کی بیماری کے متعلق ہوتی ہے۔ یوں الکسئی فیودرووچ، یولیا سرگئی ونا پر عاشق ہوا اور بہن کے علاج کے بہانے شادی کے خواب دیکھنے لگا۔
نینا فیودروونا بیماری میں مبتلا ہونے سے قبل نہایت ہی حسین لڑکی تھی۔ اس کے متعلق کہا جاتا تھا کہ ”نینا کا چہرہ کوئی پاک آسمانی روپ ہے اور اگر نینا پوز دے دے تو روسی حسینہ کی تصویر اتار لی جائے۔“ یہ کردار مذہبیت پسند اور سخی ہے۔ مذہب کے کاموں میں بے دریغ پیسہ لگانے والا، ناداروں کی ضروریات پوری کرنے والا۔ اس کا باپ اسے بید کی چھڑی سے مارا کرتا تھا اور اس کے سکول جانے پر بھی پابندی تھی۔ مگر ایک روز اس نے بغاوت کرتے ہوئے باپ کی مرضی کے خلاف محبت کی شادی کر لی۔ مگر وہ شادی بھی کامیاب نہ ہو سکی اور اس کے شوہر نے دوسری شادی کر لی۔ تب سے وہ اپنے بھائیوں کے گھر بیمار پڑی زندگی کی سانسیں گن رہی ہے۔ آخر دو بچیوں کا بوجھ بھائیوں پر ڈال وہ سفر آخرت کو نکل جاتی ہے۔ اور اس کا شوہر اس کی آخری رسومات کی ادائیگی بھی دوسروں پر ڈال، راہ فرار اختیار کرتا ہے۔
ناول میں ایک شخص ایسا بھی موجود ہے جو خود کو دنیا کے ہر مضمون کا ماہر گردانتا ہے اور ہر چیز کی تشریح سائنسی تناظر میں کرتا ہے۔ اس کا تکیہ کلام ہے ”زرا غور فرمائیے“ اور اس کے بعد بھاری بھرکم سائنسی لیکچر جھاڑنے لگتا ہے۔ یہ ہے نینا فیودروونا کا شوہر پناوروف۔ وجیہہ شکل، دلکش بدن اور عمر پچاس برس سے کچھ پرے۔ نہ شراب پیتا ہے اور نہ ہی جوا کھیلتا ہے مگر اس کے باوجود اپنی ساری دولت پھونک چکا ہے جس کی وجہ اس کا شاہانہ طرز زندگی ہے۔ دو شادیاں کر رکھی ہیں، اور اپنی شخصیت کا دلدادہ ہے۔ اس کا نظریہ ہے کہ دنیا کی ہر عورت اول یا آخر بے وفائی کر کے رہتی ہے۔ اس کے باوجود ہر عورت پر عاشق ہو جانا اس کی عادت ہے۔ یہ کردار یولیا سرگئی ونا پر بھی عاشق ہوجاتا ہے اور تنہائی میسر آنے پر شدت سے اس کے بوسے لیتا ہے اور کہتا ہے کہ میں اسے اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ تمہارے چاہنے والوں میں اپنا نام لکھوا لوں۔
محبت کے اس کھیل میں ایک تیسرا کردار بھی موجود ہے جس کا نام ہے پولینا نکولائی ونا راسودینا۔ عمدہ سیاہ آنکھیں، چہرے پر ذہانت، شرافت اور بے ربطی لیے یہ ایک تیس سالہ دبلی پتلی اور سادہ وضع عورت ہے۔ اس کا ماننا ہے کہ وہ صنف نازک نہیں بلکہ مردوں کی طرح مضبوط کردار ہے۔ اس کا ثبوت اس کا رویہ ہے کہ وہ اپنی گزر بسر ٹیوشن پڑھا کر اور سنگیت سکھا کر کرتی ہے، بجائے اس کے کہ وہ کسی مرد کے تابع ہو۔ الکسئی فیودرووچ سے بے پناہ، سچی اور پر خلوص محبت کرتی ہے، اور بغیر شادی کیے وہ ایک عرصہ اس کے ساتھ تعلقات میں رہ چکی ہے۔ اس کا نظریہ یہ ہے کہ مرد عورتوں میں دماغ تلاش کرنے کے بجائے بدن تلاشتے ہیں۔ جب اسے معلوم ہوا کہ الکسئی فیودرووچ نے شادی کر لی ہے تو اس نے اسے ایک پرزہ بھیجا جس پر لکھا تھا ”بس“ ۔
کرداروں میں تضاد موجود ہو تو جہاں ان کی زندگی کی تفہیم مشکل ہو جاتی ہے وہاں ناول بھی پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ شدید تضادات کا شکار، ایک ایسا ہی کردار کوستیا کوچیوائے کے نام سے ناولٹ کے منظر نامہ پر ابھرتا ہے۔ یہ ایک یتیم لڑکا تھا جس کی پرورش الکسئی فیودرووچ کے خاندان نے کی اور اسے اعلیٰ تعلیم دلوا کر بیرسٹر بنایا۔ دراز قد اور مہندی رنگ کی موچھوں کا حامل یہ ایک ایسا شخص ہے جس کی ٹانگیں غیر معمولی لمبی ہیں۔
الکسئی فیودرووچ کی طرح یہ کردار بھی مذہب سے بیزار ہو چکا ہے اور مذہبی علوم کو درست تسلیم نہیں کرتا۔ شراب کے ایک ایک جام پر لمبی تقریریں کرنا اس کی عادت ہے جس وجہ سے یولیا سرگئی ونا اسے پسند نہیں کرتی تھی مگر بعد میں وہ اس کی قربت سے لطف اندوز ہونے لگی۔ یہ شخص، اس یقین کے ساتھ کہ ایک دن وہ مشہور مصنف کے روپ میں دنیا کے سامنے آئے گا، دیہاتی موضوعات پر ناول لکھتا ہے مگر خود اس نے دیہی زندگی کا تجربہ نہیں کیا۔ اس کا خیال ہے کہ اس کا اصل میدان عدالت نہیں بلکہ ادب ہے۔
اگر اس کردار کے اس نظریہ کا موازنہ چیخوف کی اپنی زندگی سے کیا جائے تو بڑا اہم نکتہ سامنے آتا ہے۔ چیخوف مصنف ضرور تھا مگر وہ اپنا اصل میدان ڈاکٹری کو قرار دیتا تھا۔
According to Anton Chekhov:
”Medicine is my lawful wife, and literature is my mistress.“
اس رویہ کے باوجود چیخوف کا نام، ادب کی وجہ سے مشہور ہوا۔ یہی معاملہ اس کردار کے ہاں بھی ملتا ہے۔ وہ ایک بہت اعلیٰ پائے کا بیرسٹر ہے اور روز مرہ کے معمولی واقعات کو عدالت میں گمبھیر صورت بنا کر پیش کرنے کا ماہر مگر ادب میں تیسرے درجے کا لکھاری۔
کوستیا کوچیوائے نہ ہی گانا گا سکتا ہے اور نہ ہی کن رسیا ہے مگر اس کے باوجود موسیقی کے ہر پروگرام میں شرکت کرتا ہے اور خود بھی ان پروگراموں کا اہتمام کرتا ہے۔
ایک اور رنگا رنگ کردار، کسرتی بدن، سیاہ بالوں اور ذہین چہرے کا مالک یارتسیف نامی ایک ایسا شخص ہے جو الکسئی فیودرووچ کا یونی ورسٹی کا ساتھی ہے اور طبیعت میں ہر فن مولا۔ لسانیات میں ایم اے کرنے کے بعد نیچرل سائنس کی طرف گیا اور کیمسٹری میں ڈگری حاصل کی۔ جب سائنس کے موضوع پر بولتا ہے تو مورخ معلوم ہوتا ہے اور تاریخ پر بات کرے تو نیچرل سائنس کا ماہر۔ گانا گانا اور وائلن بجانا اس کا مشغلہ ہے۔ اس کردار کی اہمیت اس لحاظ سے ہے کہ الکسئی فیودرووچ سے محبت کرنے والی لڑکی پولینا نکولائی ونا راسودینا، الکسئی کی شادی کے بعد اس سے محبت کر بیٹھتی ہے اور اس کے گھر رہنا شروع کر دیتی ہے۔ اس کردار کو اس لڑکی سے محبت نہیں مگر اس کے دل میں اپنے لیے محبت کو غیبی تحفہ خیال کرتا ہے جو اسے بڑا سائنسدان بننے میں مدد دے گا اور اس کی زندگی کو اطمینان سے بسر کرنے کے قابل بنائے گا۔
ان کرداروں کے علاوہ کچھ ایسے بھی کردار موجود ہیں جو ایک آدھ منظر کو مضحکہ خیز بنانے یا کہانی میں ایک آدھ نکتہ کا اضافہ کرنے کے لیے نمودار ہوتے ہیں مگر وہ اتنے مجہول ہیں کہ ان کے متعلق علیحدہ علیحدہ لکھنا مضمون کو طول دینے کے مترادف ہو گا۔ (اختتام)

