جزیرہ نما عرب میں مندر اور غامدی صاحب


غامدی گروپ کو آج کل جزیرہ نما عرب میں مندر کی تعمیر کی افتاد پڑی ہوئی ہے۔ داماد صاحب ویڈیو ریکارڈ کروا رہے ہیں کہ جزیرہ نما عرب میں مشرکوں کی عبادت گاہ نہیں بن سکتی۔ یہاں مشرک نہیں رہ سکتے، علاوہ ازیں تحقیق فرما رہے ہیں کہ جزیرہ نما عرب میں کون کون سے ممالک شامل ہیں۔ اس کی حدود کیا ہیں۔ یہاں مشرک رہ سکتے یا نہیں؟

اس پر اتنا جذباتی ہوتے ہوئے وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ جن کا غم انہیں کھائے جا رہا ہے ان میں سے کسی بھی ملک کو انہوں نے پناہ لینے کے لیے نہیں چنا ہے، کیوں؟ انہوں نے پناہ لی تو ایک سیکولر ملک میں۔ جس نے نہ صرف پناہ دی بلکہ ڈیلس میں اتنے بڑے رقبے پر اسٹیٹ آف دی آرٹ اسلامک سینٹر کھولنے کی بھی اجازت دے دی جہاں بیٹھ کر انہیں پوری دنیا اور بشمول سیکولر ریاست میں اسلام کی تبلیغ اور بول بالا کرنے کا موقع ملا ہے۔

متحدہ عرب امارات میں سینا گوگ بھی ہے وہاں جاکر گریہ کر لیجیے۔ گردوارہ بھی ہے وہاں جاکر ماتھا ٹیک لیجئیے، چرچ بھی ہیں اور سبھی مسیحی فرقوں کے ہیں وہاں جاکر ماں میری کی حمد و ثناء بھی بیان کر لیجئیے۔ امام بارگاہ بھی ہے وہاں جاکر مجلس برپا کر لیجئیے اور مسجد بھی وہاں جاکر نماز پڑھ لیجئیے۔ آپ کی مرضی، آپ کی اِچّھا، کوئی روک ٹوک نہیں۔

جب کہ دوسری طرف یہاں قحبہ خانے بھی ہیں، اور نائٹ کلب بھی، یہاں شراب بھی ہے، کباب بھی اور شباب بھی۔ نائٹ کلب جا کر ناچنے کو دل کر رہا ہے تو ناچ لیجئیے، رند ہیں تو پینے پلانے کی محفل سجا لیجئیے۔ انتخاب کا حق آپ سے کوئی نہیں چھینے گا۔

یہاں تقریباً دس لاکھ ہندو ہیں، اور زیادہ تر انتظامی عہدوں پر ہیں۔ اس ملک کو بنانے میں جن کا خون پسینہ ہے۔ اپنے پاکستانی بھائی زیادہ تر یا تو مزدوری کرتے ہیں یا ٹیکسی چلاتے ہیں یا فراڈ کرتے پکڑے جاتے ہیں۔ یا بھیک مانگتے ہوئے اندر ہو جاتے ہیں۔

بہرحال یہ دس لاکھ ہندو اپنے گھروں کے دروازوں پر بھگوان بھی لٹکاتے ہیں۔ گھر میں مندر بنا کر ان کی پوجا بھی کرتے ہیں۔ ہولی میں ایک دوسرے پر رنگ بھی پھینکتے ہیں جبکہ دیوالی میں پٹاخے بھی پھوڑتے ہیں۔ یہاں کیرالہ کے ہندو اونم بھی مناتے ہیں اور وشو کے تیوہار میں ناریل بھی توڑتے ہیں۔

یہ سب کچھ اسی ملک میں ہوتا ہے۔ یہاں، مارکیٹوں سے بہت سارے بھگوان مل جاتے ہیں جب کہ ہر ہندو کے گھر میں ایک چھوٹا سا مندر ہے جہاں سے وہ روز صبح پوجا کر کے اور بھگوان کا آشیر باد لے کر کام پر روانہ ہوتا ہے۔

اس وقت کسی ڈیلس میں بیٹھے مولوی کو اعتراض نہیں ہوتا کہ بھیا توحید کی سرزمین پر اتنے مشرکین کیا کر رہے ہیں؟ لیکن جوں ہی مندر بننے لگتا ہے تو روایات بھی یاد آجاتی ہیں اور قرآن کی آیتوں کو اپنے پہنائے گئے معنی بھی۔

جب خود ڈیلس میں جنت ارضی میں رہنے کا موقع ملتا ہے تو اس وقت کوئی روایت کوئی حدیث یاد نہیں آتی کہ دارالکفر میں نہ جا کر رہو۔ اس وقت کہتے کہ یہ احادیث ضعیف ہیں۔ ان کی سند مشتبہ ہے۔

سعودی عرب جو کہ مسلمانوں کا قبلہ و کعبہ ہے۔ اسلام کی کونپل یہیں سے پھوٹی، وہاں پر تقریباً سات لاکھ ہندو بستے ہیں۔ وہ اپنے گھروں میں پوجا بھی کرتے ہیں۔ بھگوان کے آگے ماتھا بھی ٹیکتے ہیں۔ ہاں سعودیوں نے جو ”جزیرہ نما عرب“ کی حدود متعین کی ہوئی ہیں وہ مکہ اور مدینہ ہیں۔ وہاں پر اگرچہ کوئی ”کافر“ نہیں جا سکتا، نہ رہ سکتا۔

پچھلے دنوں ہمارے ایک دفتری ساتھی کو ایک کمپنی سے ملازمت کی پیشکش ہوئی ان کو مکہ کے لئے ایک مسلمان انجینئر درکار تھا چونکہ مکہ میں غیر مسلم سکونت اختیار نہیں کر سکتا اور نہ ہی مکہ کی حدود میں داخل ہو سکتا ہے۔ اس لیے مسلمان ہی چاہیے تھا۔

اس کے علاوہ سعودی عرب میں آپ قادیانی ہیں، ہندو ہیں، عیسائی ہیں یا سکھ کوئی مسئلہ نہیں شوق سے رہیے۔ آپ پر کوئی آپ کے مذہب کی وجہ سے زندگی تنگ نہیں کرے گا۔

اور جن کا ملک ہے، جن کی ریاست ہے وہ جو چاہیں کریں اور سب سے بڑی بات کہ وہ تو مسلمانوں کے پیشوا بھی ہیں، وہیں سے اسلام نکل کر ساری دنیا میں پھیلا۔ ان کو معلوم ہے کہ ان کے جد رسول عربی ﷺ نے ان کو کیا ہدایت دی ہیں۔ ان کو بہت اچھی طرح پتا ہے کہ کہاں سے جزیرہ نما عرب شروع ہوتا ہے اور کہاں ختم ہوجاتا ہے۔

آپ ڈیلس میں چندوں سے تعمیر شدہ اسٹیٹ آف دی آرٹ اسلامک سینٹر اور ”دارالکفر“ میں بیٹھ کر پچاس پچاس ڈالر کا ٹکٹ بیچ کر دین کی تبلیغ کا کام کریں جزیرہ نما عرب کی حدود جن کا ملک ہے انہی کو طے کرنے دیں۔
آپ اتنی سر دردی مول نہ لیں۔

Facebook Comments HS