الیکشن کے دن اسلام آباد کے ایک رپورٹر نے کیا دیکھا؟
8 فروری تڑکے جاگا، نیلگوں آسمان پر گاہے ستارے پوری آب کے ساتھ چمک رہے تھے، سورج مقررہ وقت پر مشرق سے طلوع ہوا۔ یہ معمول کی صبح ہر گز نہیں تھی۔ کیونکہ اس دن ملک کے طول و عرض میں انتخابات ہونا تھے۔ 12 کروڑ ووٹروں نے اگلے پانچ سالوں کے لیے نئی قیادت کا انتخاب کرنا تھا۔
بعض روایات کے مطابق انتخابات میں تین بار وزیراعظم رہنے والے میاں نواز شریف نے عجیب شرط رکھی تھی کہ میرے سب سے بڑے سیاسی مخالف کو باندھ دیا جائے ان کی سیاسی جماعت کا شیرازہ بکھیر دیا جائے ان سے انتخابی نشان تک لے لیا جائے انھیں انتخابی ریلیوں، جلسے، جلوسوں اور کارنر میٹنگز کی اجازت تک نہ دی جائے ریاستی مشینری پوری جانفشانی کے ساتھ خودساختہ منصور حلاج کے احکامات پر عمل پیرا تھی۔
تحریک انصاف کی صف اول کی لیڈر شپ یا تو جیلوں میں تھی یا پھر پہاڑوں، میدانوں اور جنگلوں میں روپوش، تحریک انصاف سے وابستگی رکھنے والے نوجوانوں نے سائنسی بنیادوں پر انتخابی مہم چلائی، روایتی طریقوں کو شہ مات دیتے ہوئے قریہ قریہ، گلی کوچوں، شہروں، میدانوں کے باسیوں کو تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدواروں کے انتخابی نشان ازبر کروا چکے تھے۔
دفتر کی اور سے میری صحافتی ذمہ داریوں میں اسلام آباد کے حلقہ 47 کی کوریج کرنا تھا میرا ووٹ بھی اسی حلقے میں تھا۔ میں کوئی آٹھ بجے اپنے پولنگ اسٹیشن پر چلا گیا تاکہ اپنے ووٹ کا استعمال کر سکوں۔ میں جب پولنگ اسٹیشن پر پہنچا تو وہاں پی ٹی آئی کے امیدوار شعیب شاہین، نون لیگ کے ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کے انتخابی کیمپ لگے ہوئے تھے۔ پی ٹی آئی کے امیدوار شعیب شاہین کے کیمپ میں عوام کا جمع غفیر تھا جو پرچیاں لے رہے تھے جبکہ طارق فضل چوہدری کے کیمپ میں پرچیاں دینے والے چار بندوں کے علاوہ کوئی نہیں تھا۔
اپنا فریضہ ادا کرنے کے بعد خبر کے حصول کے لیے حلقہ 47 کے مختلف پولنگ اسٹیشنز پر جانا ہوا پولنگ پرامن ہو رہی تھی۔ ووٹروں کا رجحان دیکھ کر اندازہ ہو گیا تھا کہ اگر منظم دھاندلی نہ ہوئی تو تحریک انصاف کلین سویپ کر جائے گی۔
کوئی تین بجے دفتر سے کال کر کے کہا گیا کہ پولنگ کا وقت ختم ہونے میں دو گھنٹے رہ گئے آپ مرکزی الیکشن کمیشن دفتر چلے جائیں تاکہ نتائج آنے پر ہم بروقت اپنے ناظرین کا آگاہ کرتے رہیں۔ میں جب مرکزی الیکشن کمیشن دفتر پہنچا تو جان پایا کہ دفتر نے الیکشن سٹی بنایا ہوا ہے اب کی بار الیکشن کمیشن کے سائنسدانوں نے آر ٹی ایس کی جگہ ای ایم ایس یعنی الیکشن منیجمنٹ سسٹم بنایا ہے جس میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے جیتنے والے امیدواروں کا ملک بھر سے فارم 45 کے حصول کے بعد کانسلیڈیشن کر کے فارم 47 کا اعلان کیا جائے گا۔
8 فروری کو ملک بھر میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس بند کر دی گئی تھی مگر چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ ای ایم ایس کا نیٹ سے کوئی تعلق نہیں اس کا ہمارا اپنا سرور ہے فارم 45 کے حصول میں کوئی رکاوٹ نہیں آئے گی۔ چیف الیکشن کمشنر کے اس اعلان کے بعد آئی ٹی کے ماہرین سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔
خیر کوئی چھ بجے انتخابی نتائج کا سلسلہ آنا شروع ہوا اور ٹی وی چینلز فارم 45 کے مطابق اس کا اعلان بھی کرنے لگے جس تیزی سے نتائج آ رہے تھے لگ رہا تھا کہ رات دو بجے تک تمام نتائج مکمل ہو جائیں گے۔ نتائج کے رجحان سے لگ رہا تھا کہ نواز شریف سمیت تمام بڑے بڑے خودساختہ برج الٹنے جا رہے ہیں۔ ابتدائی انتخابی نتائج کے بعد کئیوں کے دانتوں میں پسینہ آ گیا۔ کوئی سات بجے کے قریب چیف الیکشن کمشنر اپنے دفتر سے نکلتے ہیں اور بتایا جاتا ہے کہ وہ ادھے گھنٹے میں واپس آ جائیں گے۔
چیف الیکشن کمشنر کا نکلنا تھا کہ انتخابی نتائج کا سلسلہ آنا رک گیا۔ الیکشن سٹی میں موجود قومی و بین الاقوامی میڈیا سے تعلق رکھنے والے لوگ سرگوشیاں کر رہے تھے کہ اب خفیہ ہاتھ سرگرم ہو گئے ہیں ادھ گھنٹہ پانچ گھنٹوں میں بدلا چیف الیکشن کمشنر رات بارہ بجے واپس آئے ان کی واپسی تک حتمی نتیجہ کا اعلان تک نہیں کیا گیا ای ایم ایس کا بھٹہ بیٹھ گیا۔ الیکشن کمیشن کا کوئی بھی ذمہ دار بات کرنے کو تک تیار نہ تھا رات دو بجے الیکشن کمیشن کے کسی عہدیدار نے پہلا سرکاری نتیجہ کا اعلان کیا۔ شکوک و شبہات کے بادل سیاہ سے سیاہ ہو رہے تھے۔ انتخابات پر انگلیاں اٹھ چکی تھی۔ صبح عجب تماشا تھا ہارے ہوئے جیت گئے اور جیتے ہوئے ہو ہار گئے۔ دھاندلا کے نئے ریکارڈ بنائے گئے۔
نو فروری کی صبح دس سال سے 15 سال کے بیچ عمر والے بچے گفتگو کر رہے تھے کہ رات کو جب ہم سوئے تو ہم نے دیکھا کہ تحریک انصاف والے جیت رہے تھے ہمیں یہ بتایا گیا کہ نواز شریف سمیت ان کا پورا خاندان ہار گیا کیا کرشمہ ہوا کہ نواز شریف سمیت سب جیت گئے۔ دسویں جماعت کے ایک بچے نے مجھ سے پوچھا کہ سلمان اکرم راجہ کیسے ہار گیا کیا لاہور کے اس حلقے کے ووٹروں کو یہ نہیں معلوم تھا کہ عون چوہدری کس قبیل سے تعلق رکھتا ہے۔ وہ تو ہار چکا تھا اس کی ہار کو عون چوہدری کے لیول کے لوگوں نے جیت میں بدلا ہے۔
یہ بچہ دو سال بعد ووٹر بن جائے گا اور جب بھی انتخابات ہوئے تو کیا یہ ان لوگوں کو ووٹ دے گا جنہوں نے یہ سب کیا۔ جواب ہے نہیں حضور آپ شکست کھا چکے ہیں بلکہ عبرت کا مقام بن چکے ہیں۔ عافیت اسی میں ہے کہ عوام کی رائے کا احترام کیا جائے عوام نے جنھیں مسترد کیا ان کو زبردستی نافذ نہ کیا جائے آپ عوام میں سے ہیں عوام آپ میں سے نہیں جس دن یہ نکتہ آپ کی سمجھ میں آ گیا پاکستان ترقی کی راہ پر چل پڑے گا بار دیگر تباہی مقدر ہے

