سب کچھ ہے نا تمام میری جاناں تیرے بغیر
یہ زندگی بھی ایک عجیب گورکھ دھندا ہے اور انسان اس کائنات میں مظلوم ترین مخلوق ہے۔ اپنے ازل سے نا بلد، انجام سے بے خبر، منبع نا معلوم اور منزل ناپید۔ وہی صبح ہے، وہی آسمان ہے، وہی چاند اور ستارے ہیں، وہی سورج ہے، وہی ہوائیں ہیں، وہی فضائیں ہیں، مگر اس سارے منظر سے اگر ہوئی اپنی جگہ سے ہٹ رہا ہے تو وہ صرف انسان ہے کہنے کو افضل ترین، احسن تقوم پر بنایا گیا لیکن سمندر کے مد و جذر کی طرح اٹھتا ہے، بلند ہوتا ہے، گرتا ہے، ٹوٹ جاتا ہے۔ یہ دھرتی اور آکاش اسی طرح موجود رہتے ہیں مگر انسان دیکھتے دیکھتے اس سارے منظر کی تہ میں ڈوب جاتا ہے اور ہمیشہ کے لیے گم ہو جاتا ہے۔
میڈم کی ان گنت یادیں، ان کا فرشتوں جیسا صبیح چہرہ، ہنستا مسکراتا کبھی درد میں ڈوبا میری آنکھوں کے سامنے رہتا ہے۔ گھر میں داخل ہوتے ہوئے، گھر سے نکلتے ہوئے، شاہراہوں پر ، پہاڑوں میں، وادیوں میں، ہر طرف نظر دوڑاتا ہوں جہاں جہاں ان کے ساتھ وقت گزرا یا اس سے کوئی یاد وابستہ ہے وہ میرے دل پر نقش ہے اگرچہ یہ تمام نقش آج بھی موجود ہیں مگر وہ نہیں ہیں۔
میڈم ایک قادر الکلام خاتون تھیں۔ زبان پر انہیں اس قدر عبور تھا کہ الفاظ دست بستہ ان کے سامنے کھڑے ہوتے۔ مشکل سے مشکل بات کر لیں، ہنستا مسکراتا جواب حاضر۔ بات کرتیں تو سماں باندھ دیتیں۔ اپنائیت، محبت اور ان کا خلوص دلوں میں گھر کر جاتا۔ وہ اپنی ذات میں ایک انجمن تھیں۔ جہاں بیٹھ جاتیں محفل سج جاتی۔ جاپانیوں کا ماٹو ہے، برائی مت دیکھو، برائی مت سنو، برائی کا اظہار مت کرو۔ یہ تینوں باتیں میڈم میں بدرجہ اتم موجود تھیں۔ ہم نے پنجاب بھر میں سروس کی ہے اور سچ تو یہ ہے کہ گیارہ بجے کے بعد تمام ضلعی افسران کی بیگمات اپنی رہائش چھوڑ کر ہمارے ہاں آ جاتیں اور وہاں گھنٹوں رہتیں۔ ایک دن مجھے ایک سیشن جج صاحب کہتے ہیں، لعلوانی صاحب آپ لوگوں نے ہماری بیگمات کو اغوا کیا ہوا ہے۔
جب ہماری فیملی نے اوکاڑہ میں تعلیمی ادارہ کی بنیاد رکھی اور تدریسی سٹاف رکھ لیا گیا تو ہمارے کرم فرماؤں نے مشورہ دیا یہاں فیملی ممبر کے علاوہ کوئی اور ادارہ کو کامیابی سے نہیں چلا سکے گا تو قرعہ میڈیم کے نام پڑا۔ چونکہ وہ سوشیالوجی میں ماسٹر ہیں وہ احسن طریقے سے اسے کامیابی سے ہمکنار کر دیں گی لیکن ان کو راضی کرنا کون سا آسان کام تھا۔ دوسری طرف کوٹ لکھپت جیل کے سپرٹینڈنٹ کو جیل کے اندر سپاہ صحابہ کے قیدیوں نے جب وہ پارک میں سیر کر رہے تھے قتل کرا دیا تھا اب کوئی وہاں جانے کو تیار نہیں تھا اور قرعہ میرے نام پڑا میں پرموشن پر بیٹھا تھا جب میں نے ایکشن لینا تھا کچھ بھی ہو سکتا تھا بہرحال متعلقہ وزیر کی یقین دہانی پر مجھے لاہور جانا پڑا اور میڈم کے لیے گھر چھوڑ کر ساہیوال سے روزانہ اوکاڑہ آنا بہت مشکل امر تھا۔ میڈم آزاد فضاؤں میں رہنے والی گھریلو خاتون تھیں آخر کار مان گئیں لیکن ادارے کی اٹھان اس شاندار طریقے سے کی اور یہ ان کی محنت کا ثمر تھا کہ جب میٹرک کا رزلٹ آیا تو پورے ضلع اوکاڑہ میں ہماری فرسٹ پوزیشن تھی۔ اس طرح جب کچھ عرصہ بعد کالج کی کلاس شروع کی اور ایف ایس سی کا رزلٹ آیا تو پھر ضلع میں ہماری فرسٹ پوزیشن تھی اور جس کالج نے نتائج کے لحاظ سے پورے پنجاب میں فرسٹ پوزیشن حاصل کی وہ اوکاڑہ میں ہمارے ادارے کے سامنے نہ ٹھہر سکا۔
شاہ لطیف بھٹائی کہتے ہیں کہ: جس چاند کو دیکھنے کے لیے دنیا کوٹھوں پر چڑھ جاتی ہے اور بڑی مشکل سے دکھائی دیتا ہے وہی چاند ایک روز چودھویں کا چاند بن کر دھرتی پر جگمگاتا ہے۔ ابتدا میں تو ہمیں بھی پتہ نہ چلا لیکن آہستہ آہستہ معلوم ہوا کہ خدا نے میڈم کو کن کن خوبیوں سے نوازا ہے۔ ان سے ہمارا سمبندھ ایک خوش قسمتی تھا۔ لیکن افسوس کہ جب یہ چاند ڈوب جاتے ہیں تو کس طرح ہماری زندگیوں میں اندھیرا چھا جاتا ہے۔ مجھے جدائی اور موت کا فوبیا تو تھا۔
میری زندگی میں موت اور جدائی کا فوبیا کس قدر شدید تھا۔ اس سے اندازہ کریں جب تعلیم سے فارغ ہو کر پی آئی اے میں ٹریفک افسر بھرتی ہوا تو جب فلائٹ ڈسپیچ کرتا اور مسافر اپنوں سے جدا ہو کر طیارے کی طرف رخ کرتے تو دونوں طرف آنکھوں سے آنسو رواں ہوتے اور مجھے یہی محسوس ہوتا جیسے میں اپنوں سے جدا ہو رہا ہوں۔ اس زمانے ائرپورٹ کو بس تین چار فٹ اونچے جنگلے سے احاطہ کیا ہوتا تھا مسافر چیکنگ کرانے کے بعد اندر چلے جاتے اور پھر جہاز پر سوار ہونے سے قبل ایک مرتبہ دوبارہ جنگلے کے نزدیک آ کر اپنے عزیزوں سے ملتے، باتیں کرتے اور پھر ان سے بغل گیر ہو کر جہاز کر طرف چل پڑتے اور ہر روز جدائی کا خیال مجھ پر اتنا گراں گزرتا کہ ایک دن میں نے استعفیٰ دے دیا۔
استعفیٰ دیکھ کر میرا بگ باس بہت حیران ہوا ور کرسی سے اچھل پڑا۔ یہ تم کیا کر رہے ہو؟ یہ وہ پوسٹ ہے جس کے لیے دنیا ماری ماری پھرتی ہے اور تم نے جس طرح استعفیٰ دیا ہے اس طرح تو کلرک بھی استعفیٰ نہیں دیتے وہ بھی سو بار سوچتے ہیں۔ پانچ چھ سال بعد تم کسی ائرپورٹ کے انچارج ہو گے تم پاگل تو نہیں ہو گئے؟ اور واقعی یہ کام کوئی پاگل ہی کر سکتا تھا۔
لیکن میرے اوپر ابھی اپنوں سے جدائی کی نا قابل برداشت واردات نازل نہیں ہوئی تھی۔ اور میں نے ابھی انسان کی بے چارگی نہیں دیکھی تھی۔ میں نے میڈم کی زندگی کا جوش و خروش بھی تھا۔ لیکن آخری دنوں میں جب کینسر ان کے تمام جسم و جان میں سرایت کر گیا اور ان کی بیماری بہت بڑھ گئی۔ وہ انتہائی تکلیف دہ دور سے گزر رہی تھیں۔ سوکھ کر کانٹا ہو گئیں تھیں اور پینتالیس سال میں 70 سال کی عمر رسیدہ خاتون دکھائی دیتی تھیں۔
اکثر بے ہوش ہو جاتیں تھیں اور درد کی شدت سے بے کل ہو جاتی تھیں۔ ہائی پوٹینسی انجکشن کے باوجود درد سے ان کی چیخیں نہیں رکتی تھیں اور میں پریشان ہو کر کمرے سے باہر نکلتا، ہسپتال کے مین گیٹ پر جاتا لیکن ان کی چیخیں وہاں بھی آ رہی ہوتیں۔ میں باہر نکلنے کی کوشش کرتا تو بارش ہو رہی ہوتی اور ادھر میرے اندر غم کی بارش میرے جسم و جان کی دیواروں کو منہدم کر رہی ہوتی۔ میری آنکھوں سے اشک رواں ہوتے۔ محکمے والے مجھے مین آف سٹیل کہتے تھے مگر اس وقت مین آف سٹیل کی ٹانگیں کانپ رہی ہوتی تھیں۔
میڈم کو سب سے چھوٹے بیٹے عمران خان سے بہت پیار تھا اور پیار سے اسے مانی کہتی تھیں اور مانی کو بھی ماں سے بہت لگاؤ تھا اس نے ماں کی اتنی خدمت کی کہ ایک دن ڈاکٹر شہریار کہتے ہیں : سنا تھا لڑکیاں اپنی ماؤں کی بہت خدمت کرتی ہیں لیکن اس بچے نے تو لڑکیوں سے کہیں زیادہ ماں کی خدمت کی ہے۔ ہم کتنا عرصہ میڈم کے ساتھ رہے۔ عمران اپنی امی کی چارپائی کے ساتھ لگا بیٹھا رہتا۔ کئی کئی ماہ گزر جاتے ہم باہر نہیں نکلتے تھے۔
کھڑکی کے باہر سے گرتے پتوں اور پھوٹتی کونپلوں سے ہمیں موسموں کے تغیر کا پتہ چلتا۔ ہم دنیا و مافیا سے بے خبر تھے۔ اور ایک کمزور اور نحیف آواز کے ابھرنے کے منتظر رہتے۔ ”مانی میری کروٹ بدل دو ، مانی مجھے اٹھا کر بٹھا دو ، مانی مجھے لٹا دو “ ۔ مانی اگر ماں کی چارپائی سے اٹھتا تو مسجد چلا جاتا، خدا کے حضور سجدہ ریز ہوتا اور ماں کے لیے دعا کرتا وہاں سے ہسپتال واپس آ جاتا اور ماں کی چارپائی سے لگ کر بیٹھ جاتا۔ کئی مہینے اس کی یہی سعی رہی۔ ایک ماں کی سعی صفا و مرویٰ کی سعی تھی اور ایک بیٹے کی سعی ادھر ہسپتال میں ماں کے بیڈ سے خدا کے گھر تک سعی تھی۔ دونوں جا ری رہیں۔ ایک گھر آباد ہوا۔ ایک گھر سے ماں کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان اپنے آپ کو لاچار اور بے دست و پا سمجھتا ہے۔
جب ڈیوٹی کے دوران میں نہ دن دیکھتا نہ رات کبھی جہلم کی پہاڑیوں میں کبھی موٹروے پر موبائل کی گھنٹی بجتی تو میڈم پوچھ رہی ہوتیں کہ آپ کہاں ہیں اور اپنے آپ کو خطرات میں کیوں ڈالتے ہیں آپ کو روزانہ دھمکیاں ملتی ہیں آپ پر قاتلانہ حملے ہو چکے ہیں آپ کو معلوم ہونا چاہیے آپ کا ایک گھر بھی ہے آپ کی فیملی ہے اگر خدانخواستہ آپ کو کچھ ہوا تو ہمارا کیا بنے گا اب یہی سوال میں کس سے کروں جواب دینے والا ہی ہم سے دور چلا گیا۔ میرے دل سے یہ الفاظ نکلے۔
جاہ و حشم یہ تمکنت عہدہ یہ افسری
سب کچھ ہے نا تمام میری جاناں تیرے بغیر
ایک مرتبہ میں میڈم کے ساتھ ایک مریض کی بیمار پرسی کے لیے میو ہسپتال گیا تو وہاں ساتھ والے بیڈ پر بیس بائیس سال کا نوجوان لڑکا بھی داخل تھا اس کی بوڑھی دیہاتی ماں ساتھ بیٹھی تھی۔ اتنے میں اس نوجوان کا سانس اکھڑنے لگا اور لگتا تھا کہ ماں کا سانس بھی ساتھ ساتھ جواب دے رہا ہے اتنے میں محسوس ہوا جیسے نوجوان نے دم توڑ دیا ہے ڈاکٹر اور نرس دوڑے آئے ماں بیٹے کی حالت دیکھ کر بے تاب ہو کر اٹھی ”مکھن مکھن“ پکارتی کوریڈور کے طرف بھاگی پھر واپس وارڈ میں داخل ہوئی کئی مرتبہ اندر سے باہر اور باہر سے اندر مکھن مکھن پکارتی بے چینی سے پاگلوں کی طرح بھاگتی چکر لگاتی رہی۔
میڈم نے مجھ سے پوچھا کہ ”اس عورت کی بے چینی اور بھاگ دوڑ دیکھ کر آپ کے ذہن میں کوئی نقشہ ابھرتا ہے“ میں نے کہا نہیں۔ میڈم نے کہا ”اس کو دیکھ کر آپ کے ذہن میں حضرت ہاجرہ کا نقشہ نہیں ابھرتا کہ وہ کس طرح مامتا کا دکھ لئے بیتابی اور بے چینی سے صفا مروہ کی پہاڑیوں کے درمیان بھاگتی تھیں یہ سن کر میرے سامنے وہ نقشہ کھنچ گیا“ ۔ میڈم نے کہا ہر ماں حضرت ہاجرہ کا مقدر تو نہیں رکھتی ہوتی لیکن ہر ماں ہاجرہ کی طرح مامتا کے ایثار اور دکھوں کا پہاڑ سر پر اٹھائے کھڑی ہوتی ہے۔ ایک دن اچانک میڈم خود بھی دکھوں کی گٹھڑی اٹھائے ہم سے دور چلی گئیں۔
وہ گیا تو ساتھ ہی لے گیا سبھی رنگ اتار کے شہر کا
کوئی شخص تھا میرے شہر میں کسی دور پار کے شہر کا
وہ میرے شہر دل کی شہ نشین تھیں جسے ویران کر کے چلی گئیں ہر مرد شہنشاہ ہوتا ہے نہ ہر عورت ملکہ ہوتی ہے لیکن ہر مرد کے دل میں ایک تاج محل ضرور ہوتا ہے وہ اسی تاج محل کی مکین تھیں البتہ وہ جس طرح وقت سے بہت پہلے چھوڑ کر چلی گئیں میں ان کی روح سے شکوہ ضرور کیا کرتا ہوں
ٹوٹی ہے میری نیند مگر تم کو اس سے کیا
بجتے رہیں ہواؤں سے در تم کو اس سے کیا
تم نے تو تھک کے دشت میں خیمے لگا لئے
تنہا کٹے کسی کا سفر تم کو اس سے کیا
سپین کے ایک وزیر المنصور کے بارے میں مشہور ہے کہ جب وہ کسی مہم سے لوٹتا تو اپنے خود پر پڑی گرد راہ کو کونے میں پڑے ایک کوزہ میں جھٹک دیتا تھا جب مہم جوئی ختم ہوئی اور وہ موت سے ہمکنار ہوا تو اس کوزہ کی خاک اور گرد راہ کو اس کفن پر چھڑک دیا گیا کیونکہ یہی اس کی زندگی کا سرمایہ تھا اسی طور میڈم کی گرد راہ بھی میرے لئے زاد راہ ہے۔ مہر و وفا، جہدوجہد، کٹھن راستوں کا سفر، چٹان جیسا عزم، محبت اور ایثار ان کی یادوں کے ہزاروں شکلیں ہیں کلیڈو سکوپ کی طرح رنگین ہر آن بنتی بدلتی بے شمار شکلیں ہیں۔ یہی یادیں میرے ساتھ قبر تک جائیں گی۔
رات کی گہری تاریکیوں میں جب دل انتہائی دکھی اور پریشان ہوجاتا اور غم کی گرفت میں ہوتا ہے تو اس سے برصغیر کی عظیم مغنیہ لتا منگیشکر کی آواز ایسے ابھرتی ہے جیسے آسمان سے نور کی بارش ہو رہی ہو اس آواز کی لے اور میرا دکھ جب ایک فریکوینسی پر آتے ہیں تو آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگ جاتی ہے۔ سامعین! یہ دکھ بہت بڑا دکھ ہوتا ہے کہ جس انسان کو آپ بڑی چاہتوں سے ڈولی میں بٹھا کر لائے ہوں اس کو اپنے ہاتھوں سے قبر میں اتارنا بہت مشکل ہوتا ہے۔
جب تجھے یاد کر لیا صبح مہک مہک اٹھی
جب تیرا غم جگا لیا رات مچل مچل گئی
آخر شب کے ہم سفر فیض نہ جانے کیا ہوئے
رہ گئی کس جگہ صبا صبح کدھر نکل گئی
جب زندگی کی شام آتی ہے اور زندگی ہاتھ سے نکلنے لگتی ہے تو ایک آن انسان کے دل میں سوچ آتی ہے کہ صبح کی سہانی فضا کہاں گئی بہار نے کب ساتھ چھوڑ دیا، دوست کدھر چلے گئے، رم جھم بارشوں کا طوفان کب تھما، زندگی کی قوس قزح کب ماند پڑی، جوانی کی طوفانی یورشیں کیا ہوئیں، بادل جو جھوم کر آتے تھے، ہوائیں جو خوشبو لئے دست بستہ کھڑی ہوتی تھیں، موسموں کی دلفریب ادائیں جو آپ پر جان چھڑکتی تھیں، زندگی کی شام ہوتے ہی سب کچھ آنکھوں سے کہاں اوجھل ہو گیا، انسان اچانک خود کو زندگی کے آخری کنارے پر تنہا کھڑا ہوا پاتا ہے اور پھر آنکھوں میں نمی لئے اور دل میں یادوں اور حسرتوں کا طوفان لئے ان دیکھی دنیاؤں کی گپھاؤں میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے گم ہو جاتا ہے۔
جانے والا ان تمام حسرتوں اور یادوں کو دل میں لیے چپ چاپ چلا جاتا ہے دیکھنے والے دیکھتے رہ جاتے ہیں کوئی کسی کے لئے کچھ نہیں کر سکتا۔ اس سے زیادہ انسان کی بے چارگی، کسمپرسی اور بے وقعتی کیا ہو سکتی ہے۔ میڈم ہم بھی آپ کے لئے کچھ نہیں کر سکے۔ الوداع۔


