چیف جسٹس پاکستان کا فیصلہ بشپ آزاد مارشل کے مطالبہ کی توثیق ہے
ہر سو عجب بے یقینی اور ابہام کی دھول چھائی ہے۔ الزام تراشی اور دشنام طرازی کے ہتھیاروں سے قومی سیاست کے تالاب کو گدلا کر کے اپنے اپنے مفادات کی مچھلیاں پکڑنے کی مہم جوئی کا بازار گرم ہے۔ موجودہ صورت حال کا حکومت کو ایک فائدہ یہ بھی ہوا ہے کہ اقلیتوں سے جڑے قومی اہمیت کے ایک نہایت سنجیدہ معاملہ کو نظروں سے اوجھل رکھنے کے لئے میڈیا کو کچھ خاص نہیں کرنا پڑا۔ سیاسی گرما گرمی کے ماحول میں کس کو پڑی تھی گزشتہ سال مذہبی اقلیتوں پر تاریخ کے بد ترین ظلم والے کرداروں اور حکومت کے وعدوں کو کھنگالتا پھرتا۔
14 فروری 2024 ء کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں لوگ سرخ گلابوں کے تبادلہ کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ محبت کا اظہار کر رہے تھے تو اسی روز سپریم کو رٹ میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل سہ رکنی عدالتی بینچ کے سامنے پنجاب کی نگران حکومت کی جانب سے سانحہ جڑانوالہ پر پیش گئی رپورٹ پر اپنا رد عمل دے رہی تھی۔ مذکورہ رپورٹ معیار، اپنے جزئیات اور حقائق کی کھوج لگانے کے معاملات میں اتنی ناقص تھی کہ چیف جسٹس نے اسے ردی کی ٹوکری میں پھینکنے کے لائق قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔
عدالت نے رپورٹ کے بارے سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ رپورٹ میں شر پسند عناصر کے خلاف مقدمات کے بارے معلومات فراہم نہیں کی گئیں علاوہ ازیں کارکردگی کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے کہا کہ رپورٹ میں شناخت شدہ حملہ آوروں کے بارے یہ بتانے سے گریز کیا گیا ہے کہ وہ کس پارٹی سے تعلق رکھتے تھے۔ عدالت نے کہا کہ لگتا ہے کہ رپورٹ مرتب کرنے والے اس سانحہ کے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لئے سنجیدہ نہیں ہیں۔ یہ بھی گمان ہے کہ وہ شرپسند عناصر سے خوف زدہ ہیں۔
یاد رہے 16 اگست 2023 ء کو جڑانوالہ میں تکفیر کا ایک مبہم الزام عائد کر کے جب انتہاپسند مسلمانوں کے گروہ نے 9 مسیحی بستیوں میں 26 سے زائد گرجا گھروں اور سینکڑوں مسیحیوں کے گھروں کو جلا کر راکھ کا ڈھیر بنا دیا تو پاکستان سمیت دنیا بھر میں پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف پر تشدد نفرت انگیز واقعات پر شدت سے آواز اٹھائی گئی۔ مذہبی اقلیتوں کے خلاف پاکستان میں اب تک ہونے والا یہ سب سے بد ترین سانحہ تھا۔
ہمیشہ کی طرح حکومت کی جانب سے بین الا اقوامی برادری اور پاکستان میں مسیحی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے لیپا پوتی کے بیانات، ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچانے کے بیانات اور نقصانات کے ازالہ کے اعلانات سے جذبات کو ٹھنڈا کرنے کے لالی پوپ ارزاں کیے گئے۔ دوسری طرف حملہ میں ملوث ایک سیاسی جماعت کی پردہ پوشی اور دلجوئی کے عمل سے حکومت کی منشا واضح دکھائی دے رہی تھی۔ تو بھی مسیحی برادری اور سیاسی و مذہبی رہنماؤں نے حکومت اور ریاستی اداروں سے انصاف کی توقعات وابستہ کیے رکھیں۔
25 اگست 2023 ء کو چرچ آف پاکستان کے ماڈریٹر بشپ ڈاکٹر آزاد مارشل نے چرچ کی جانب سے عدالت سے اس سانحہ کی جوڈیشل انکوائری کرنے کی درخواست کر دی گئی۔ اس دوران پنجاب انسپکٹر جنرل پولیس (IG) جناب عثمان انور نے انکشاف کیا کہ اس حملہ کے پیچھے ”بھارت کا ہاتھ ہے“ تو جاننے والوں کو پولیس کی حکمت عملی کا واضح علم ہو گیا تھا چنانچہ بشپ آزاد مارشل نے یکم ستمبر 2023 ء کو آئی پنجاب کے بیان کو مضحکہ خیز ( ”ludicrous“ ) کہتے ہوئے اسے ماضی کی طرح حقائق چھپانے کا عمل قرار دیا تھا۔
بعد ازاں یکم ستمبر 2023 ء کو لاہور ہائی کورٹ نے چرچ کی جانب سے جڑانوالہ سانحہ کی عدالتی تحقیقات کرنے کی درخواست پر پنجاب کے انسپکٹر جنرل پولیس کو اپنی رائے دینے کے لئے کہا۔ 15 ستمبر 2023 ء کو پنجاب حکومت نے لاہور ہائی کورٹ میں جسٹس عاصم حفیظ کو مطلع کیا کہ سانحہ جڑانوالہ پر جوڈیشل کمیشن بنانے کی ضرورت کے بارے طے کرنے کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ چنانچہ جسٹس حفیظ نے سماعت 22 ستمبر 2023 ء تک ملتوی کر دی۔ 3 اکتوبر 2023 ء کو پنجاب کی نگران حکومت نے عدالت کو بتایا کہ حکومت سانحہ جڑانوالہ کی تحقیقات کے لئے جوڈیشل کمیشن بنانے کا ارادہ نہیں رکھتی۔ حکومتی نمائندے غلام سرور نے بتایا کہ حکومت نے پہلے ہی کئی جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیمیں (JITs) تشکیل دے رکھی ہیں جو معاملات کی جانچ پڑتال کر رہی ہیں۔
یکم دسمبر 2023 ء کو جڑانوالہ میں سالویشن چرچ کی جانب سے منعقد کردہ ایک اکٹھ میں بشپ آزاد مارشل نے حکومت کی جانب سے جوڈیشل انکوائری کی درخواست کو رد کرنے پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ جوڈیشل انکوائری کروانے کی درخواست کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سانحہ کے اسباب کا تعین کرنا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے اپنے فیصلہ پر نظر ثانی کر نے کا وعدہ کیا ہے اور امید کا اظہار کیا کہ جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ تسلیم کر لیا جائے گا۔
سچ تو یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے جس رپورٹ کو ردی کی ٹوکری میں پھینکنے کے لائق ٹھہرایا ہے اس سے مراد یہ ہے کہ اس رپورٹ کو مرتب کرنے والے اور اس کو پیش کرنے کے لائق سمجھنے والے ’‘ ردی کی ٹوکری ”میں پھینکنے لائق ہیں۔ تعجب ہے شانتی نگر اور گوجرہ کے واقعات میں کسی مطالبہ کے بغیر ہی جوڈیشل انکوائری عمل میں لائی گئی تھی۔ گوجرہ کی رپورٹ عوام کے لئے عام کر دی گئی تھی تاہم شانتی نگر کی رپورٹ کو آج تک ہوا نہیں لگنے دی گئی۔ گوجرہ کی رپورٹ میں دی گئی سفارشات پر عمل درآمد ہو جاتا تو حالات مختلف ہوتے تاہم سرکار کی منشا ایسے واقعات کی روک تھام نہ کبھی تھا اور نہ ہی اب ہے۔
پنجاب کی رپورٹ پر سپریم کورٹ کا رد عمل بشپ آزاد مارشل صاحب کے موقف کی توثیق ہے۔ انہوں نے جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کر کے گویا پہلے ہی پولیس کی انکوائری پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا تھا جو بعد ازاں درست ثابت ہوا ہے۔ اب جب کہ نئی حکومت انتظام سنبھالنے کو ہے تو بشپ آزاد مارشل صاحب بشمول دیگر مسیحی سیاسی و مذہبی قیادت اور تنظیموں کو پنجاب حکومت پر سانحہ جڑانوالہ پر عدالتی انکوائری کروانے کے لئے دباؤ ڈالنا چاہیے۔ اس سے مذہبی اقلیتوں کو انصاف فراہم کر نے کے ضمن میں نئی حکومت کی ترجیحات بھی واضح ہو جائیں گی۔
جوڈیشل انکوائری کے ذریعے مذہبی اقلیتیں کیا حاصل کرنا چاہتے تھیں؟ سانحہ کے اسباب کا تعین ہوتا۔ اتنے بڑے پیمانے پر تباہی کو نہ روکنے (یا نہ روک سکنے ) کی وجوہات معلوم کی جاتیں۔ اس سانحہ میں غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے والوں کے بارے حقائق سامنے آتے۔ دو مسیحیوں کے خلاف تکفیر کے مبہم الزام کی حقیقت کے بارے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جاتا۔ اس سانحہ کے باقاعدہ منصوبہ بندی سے کیے جانے اور اس میں ملوث افراد یا گروہوں کو بے نقاب کیا جاتا۔ علاوہ ازیں اس میں آئندہ ایسے سانحہ کی روک تھام کے لئے سفارشات مرتب کی جاتیں۔ گمان ہے سانحہ جڑانوالہ کے معاملہ میں اقلیتوں کے خلاف اس بھیانک ظلم میں پنجاب حکومت نے اپنا وزن حملہ آوروں کے پلڑے میں ڈال دیا ہے۔


