نئی وزیراعلیٰ کا وژن
پنجاب کی پہلی خاتون نامزد وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے اپنی جماعت مسلم لیگ نون کے نو منتخب اراکین اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے اپنے والد سابق وزیراعظم میاں نواز شریف اور چچا نامزد وزیراعظم میاں شہباز شریف کی صوبے کے عوام کی بھلائی اور ترقی کے لیے کی جانے والی کوششوں اور خدمات کا ذکر کرتے ہوئے اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کا مختصر خلاصہ پیش کیا۔ وزیراعلیٰ نے گزشتہ دور حکومت کی کارکردگی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کرپشن، بیڈ گورننس و بیڈ پرفارمنس، لا اینڈ آرڈر میں کوتاہی اور ٹرانسفر پوسٹنگ میں میرٹ کی پامالی اور سفارش کو اپنی ریڈ لائن قرار دیا اور واضح لفظوں میں کہا کہ ان کی آنے والی حکومت میں ان سب چیزوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور نئی پنجاب کابینہ کے وزرا سمیت تمام تعیناتیاں میرٹ اور اہلیت پر ہوں گیں۔ ماضی میں تمام جماعتیں ذاتی تعلقات، وفاداری، تابعداری، سماجی رتبے، اعلیٰ حلقوں کے ساتھ قرابت داری اور برادری و عزیز داری کی بنیاد پر وزیروں کا چناؤ اور اعلیٰ عہدوں پر تعیناتیاں کرتی تھیں۔ مسلم لیگ کی طرف سے مخصوص نشستوں پر کامیاب ہونے والی خواتین کی غالب اکثریت لاہور سے تعلق رکھتی ہے جبکہ پنجاب کے ممکنہ صوبائی وزرا کی اکثریت کا تعلق بھی لاہور سے بتایا جا رہا ہے۔ محترمہ مریم نواز کے وژن اور اعلانات کو دیکھتے ہوئے توقع کی جا سکتی ہے کہ نئی کابینہ میں پورے پنجاب سے اہل اور ایماندار وزیر شامل کیے جائیں گے جو ایک مضبوط نامہربان اپوزیشن اور چالاک حلیف کی موجودگی میں حقیقی اختیارات کے ساتھ صوبے کی تعمیر و ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کام کریں گے۔
صحت کے شعبے کی زبوں حالی کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے ہسپتالوں، صحت کے مراکز کی حالت بہتر بنانے اور غریب عوام کو صحت و علاج کے لیے ہر قسم کی مفت سروسز فراہم کرنے کا اعلان کیا۔ ڈاکٹرز نرسز وغیرہ کی اندرون و بیرون ملک ڈیمانڈ پوری کرنے کے لیے ان کی بین الاقوامی اسٹینڈرڈ کے مطابق تعلیم و تربیت بھی ان کی ترجیحات میں شامل ہے جو نہایت خوش آئند بات ہے۔ کینیڈا کی یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا، سکول آف نرسنگ کے ساتھ بھارتی پنجاب کے گرونانک کالج آف نرسنگ کی پارٹنر شپ ہے جس میں کینیڈین یونیورسٹی کا سلیبس اور لینگوئج پڑھائی جاتی ہے اور پنجابی زیر تعلیم نرسز کو ایکسچینج پروگرام کے ذریعے کینیڈین نرسنگ کالج بھیجا جاتا ہے اور گرونانک کالج کی ڈگری یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا جاری کرتی ہے اور کورس مکمل ہونے پر انہیں بھاری مشاہرے پر کینیڈا ملازمت فراہم کی جاتی ہے۔ ہمیں بھی اس طرز کے پروگرام شروع کرنے کی ضرورت ہے۔ چند سال قبل تک سرکاری میڈیکل کالجوں میں بہترین پڑھائی اور ملحقہ سرکاری ہسپتالوں میں اعلیٰ تربیت حاصل کر کے بچے بچیاں ڈاکٹر بنتے تھے پھر پرائیویٹ میڈیکل کالجز کھمبی کی طرح اگنے اور بڑھنے لگے جہاں طالب علم کروڑوں روپے خرچ کر کے ڈاکٹر بنتے ہیں اور چند ہزار کی نو کری کے لیے دھکے کھاتے ہیں ہمارے ملک میں تعلیم کے شعبے کو نظر انداز کیا جاتا رہا ہے، اسکول لیول سے یونیورسٹی تک تعلیم کا معیار انتہائی غیر معیاری ہے۔ صوبائی سطح پر تعلیم کا محکمہ دوسرے سرکاری محکموں کی طرح تنزلی کی آخری حدوں پر ہے جہاں پوسٹنگ ٹرانسفر، سرکاری دوروں اور ٹی اے ڈی اے کلیمز کے علاوہ کوئی کام نہیں ہوتا۔ نجی و سرکاری تعلیمی اداروں پر سرکاری کنٹرول کہیں نظر نہیں آتا۔ مریم نواز صاحبہ نے تعلیم کے شعبے میں جدت اور انقلابی تبدیلیاں لانے کی نوید سنائی ہے دیکھنا یہ ہے وہ نئے تقاضوں اور ضرورتوں کے مطابق حساب، سائنس اور انگریزی جیسے مضامین تمام بچوں کو بلاتفریق بڑھا کر انہیں آگے بڑھنے کا عزم کیسے پورا کرتی ہیں۔ آئی ٹی یا دوسرے جدید علوم میں مہارت کے لیے اسکول لیول سے متعلقہ مضامین میں پڑھائی اور سکلز ڈویلپمنٹ شروع ہوتی ہے جبکہ ہمارے طالب علموں کی اکثریت انٹرمیڈیٹ اور گریجویشن لیول تک پڑھنے کے باوجود اپنی سمت متعین نہیں کر پاتی۔ آئی ٹی اور متعلقہ شعبوں میں ترقی اور نئے اسٹارٹ اپ کے خواب خوش آئند ہیں مگر کیا ہمارے پاس مطلوبہ تعداد میں تعلیم و تربیت یافتہ ہنر مند اور انفراسٹرکچر موجود ہے؟ امریکہ اور یورپ کی تقریباً تمام یونیورسٹیوں میں بھارتی اور چینی طالب علم لاکھوں کی تعداد میں زیر تعلیم ہیں جن کی اکثریت معمولی ملازمتیں کر کے اپنی پڑھائی اور دوسرے خرچے پوری کرتی ہے اور ڈگریاں لینے کے بعد بیرون ملک ہی اچھی ملازمتیں حاصل کر لیتے ہیں جبکہ ہمارے ملک کے لاکھوں نوجوان جان ہتھیلی پر رکھ کر غیر قانونی طریقے سے بارڈر کراس کر کے محنت مزدوری کرنے پر دیس جاتے ہیں۔ احساس ذمہ داری، اخلاقیات اور پروفیشنل رویہ مناسب تعلیم و تربیت کے ساتھ بہت ضروری ہے۔
تبھی ہمارے نوجوان دنیا کے دوسرے ممالک کا مقابلہ کر پائیں گے اور اس کام کے لیے ہمارے حکمرانوں کو رول ماڈل بننا ہو گا۔ محترمہ وزیراعلیٰ صاحبہ نے رمضان کی آمد کے موقع پر غریبوں کے لیے آٹے اور دوسری اشیا پر مشتمل خصوصی پیکیج کا اعلان کیا ہے۔ ہماری گندم ہمسایہ ممالک اسمگل ہو جاتی ہے اور اس کمی کو پورا کرنے کے لیے ہم مہنگے داموں گندم امپورٹ کرتے ہیں۔ پیداواری لاگت میں اضافے اور دوسری وجوہات کی بنا پر ہمارے ملک میں گندم کی قیمت بہت اوپر چلی گئی ہے اور غریب آدمی اور اس کے بیوی بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی کو حصول مشکل ہو گیا ہے۔ حکومت کو چاہیے سڑکوں گلیوں نالیوں کی تعمیر پر اربوں روپے ضائع کرنے کے بجائے غریبوں کے لیے راشن کارڈ کا اجرا کرے تاکہ انہیں ہر مہینے ضرورت کا راشن مفت یا سستے داموں مل سکے۔ اس طرح خیراتی لنگروں پر لگی لائنیں شاید کم ہو جائیں۔ تھانوں کی تعمیر و تزئین ضروری مگر پولیس کے عملے کی تربیت اور میرٹ پر تعیناتیاں کیے بغیر مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکتے۔ ہر قسم کے سیاسی پریشر سے آزاد، ایماندار اعلیٰ افسران لگانے سے محکمہ پولیس کا خوشامدی اور کرپٹ ہونے کا تاثر کم ہو سکتا ہے۔ تھانوں کے فرنٹ ڈیسک اور رپورٹنگ رومز میں پڑھی لکھی خواتین اسٹاف کی تعیناتی سے ماحول اور تھانہ کلچر میں تبدیلی آ سکتی ہے۔ پولیس ریفارم کے لیے اچھی شہرت کے حامل ریٹائرڈ پولیس افسران پر مشتمل ایک مشاورتی کونسل بنا کر وزیراعلیٰ رہنمائی لیں تو عوام کا اعتماد بحال ہو سکتا ہے۔ مریم نواز کا غریبوں کے لیے ایک لاکھ گھروں کی تعمیر کا اعلان قابل ستائش ہے مگر حکومتی وسائل شاید اس میگا پراجیکٹ کے لیے ناکافی ہوں چنانچہ ہر بڑے ڈویلپر اور نجی ہاو¿سنگ اسکیمز کے مالکان کو پابند کیا جانا چاہیے کہ وہ اپنے پراجیکٹ میں کم از کم بیس فیصد رقبے پر غریبوں کے لیے کم قیمت ملٹی اسٹوری فلیٹ تعمیر کریں گے۔ حکومت قانون سازی کے ذریعے ایسے قوانین بنائے کہ ایک کنال اور زائد زمین پر گھر بنانے کے نقشے اور فائنل اپروول کو سولر سسٹم لگانے سے مشروط کر دیا جائے اس کے علاوہ کسانوں کو زرعی ٹیوب ویل اور شہریوں کو چھوٹے گھروں میں سولر پلیٹس لگائے کے لیے سرکاری امداد اور بلاسود قرضے دیے جانے چاہئیں تا کہ بجلی بنانے کے لیے تیل اور گیس کی امپورٹ میں کمی ہو سکے۔ ہر گاؤں میں پانی کا تالاب اور بائیو گیس پلانٹ سرکاری زمین پر حکومتی معاونت سے بنایا جانا چاہیے اس کے علاوہ یونین کونسل کی سطح پر سرکاری گودام اور سیلز ڈپو ہونے چاہئیں جہاں سے کسان زرعی ادویات، کھاد، بیج باردانہ وغیرہ آسانی سے خرید سکیں۔ بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ نوجوان نسل کی فرسٹریشن ختم کرنے کے لیے مقامی انڈسٹری، مینو فیکچرنگ اور ملازمتوں کی فراہمی کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے اس کے علاوہ پرانے بارہا آزمائے ہوئے چہرے الگ کر کے توانائی سے بھرپور عوام کا درد رکھنے والے قابل ترین افراد کو ٹیم کا حصہ بنانا ہو گا، اختیارات کے غلط استعمال، نمود و نمائش اور پروٹوکول کلچر کو ختم کرنا ہو گا اور اگر یہ سب کچھ نہ ہوا تو بلند و بانگ دعوے کرنے والی نئی وزیراعلیٰ بھی روایتی سیاستدانوں کی طرح وقت کی دھول میں گم ہوجائیں گی۔
(صاحب مضمون سابق وزیر اطلاعات پنجاب ہیں )

