مدرسہ ہائے للبنین و للبنات، دستار بندیاں اور ہم


سنتے آرہے تھے کہ آخری زمانے میں علم زیادہ ہو گا جبکہ عمل کرنے والے بہت کم۔ مساجد زیادہ ہوں گی مگر خشوع خضوع سے نماز قائم کرنے والے بہت کم ہوں گے۔ آج بہت افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ وہ زمانہ آہی گیا ہے۔ صرف مملکت خداداد پاکستان میں مدرسوں کی تعداد تیس ہزار سے تجاوز کر گئی ہیں۔ ان میں رجسٹرڈ کم اور نان رجسٹرڈ زیادہ ہیں۔ مدرسہ سے فارغ التحصیل طلباء میں وہ استعداد بہت کم ہے کہ بجائے ایک اور مدرسہ کھولنے کے اپنا کاروبار یا مزید سبق پڑھ کر کوئی مقابلے کا امتحان پاس کر کے کسی سرکاری عہدہ پر فائز ہو۔ یہ ہوتا ہے لیکن ہزار میں چند ایک۔ باقی اکثر یا تو دوسرے مدرسوں میں یا اپنے مقامی مسجد یا مدرسہ میں درس و تدریس شروع کرلیتے ہیں جو بہت بڑی دنیوی اور اخروی کامیابی ہے۔

جس بات کی طرف مجھ جیسے کم فہم کا دھیان بار بار جا رہا ہے وہ مدرسہ للبنین کے ساتھ ساتھ مدرسہ ہائے للبنات کی جو بھر مار شروع ہوئی ہے بلکہ ان مدرسوں کی مسابقت شروع ہوئی وہ کسی یلغار سے کم نہیں۔ صاحبو! مجھے خدا واسطے کا کسی سے بیر نہیں ہے، لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ اکوڑہ خٹک میں للبنین مدرسوں سے للبنات مدرسوں کی تعداد کئی زیادہ ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ گلی کے ایک کونے پر بچیوں کا ایک مدرسہ ہے تو گلی کے دوسرے نکڑ پر دوسرا مدرسہ بھی ہے۔

اس پر تضاد یہ کہ ہر سال دارالعلوم حقانیہ میں دستار بندی ہوتی ہے، جبکہ یہ تقریب بھی نہیں ہونی چاہیے کیونکہ اکابرین منع فرماتے ہیں تاہم یہ تقریب ہوتی ہے۔ اور اسی طرز کی تقریبات پھر ان مدرسہ ہائے للبنات میں زور و شور سے منعقد ہوتی ہیں۔ چاہے ان مدرسوں میں بچیوں کی تعداد پانچ دس یا زیادہ سے زیادہ پچاس ہوتی ہے لیکن دستار بندی کی یہ تقریب بہرحال منعقد ہوگی۔

پریشانی کی بات یہاں سے شروع ہوتی ہے کہ جب ان مدرسوں (چاہے بنین ہوں یا بنات کی) مہتم صاحب یا مہتممہ صاحبہ، طلباء اور طالبات سے پانچ ہزار سے لے کر دس ہزار روپے تک کا مطالبہ کرتے ہیں تاکہ دستار بندی کی مناسبت سے طعام کا بندوبست کیا جائے۔

صاحبو! ایک مزدور کسان، یا دیہاڑی والا، یا ریڑھی بان اتنی رقم کہاں سے لائے گا؟ اگر کہیں سے قرض ادھار کر کے لا بھی دیتا ہے تو اس پیسوں سے جو دعوت کی جاتی ہے کیا اس کا تناول کرنا جائز ہو گا؟ اس کا اندازہ ان مدرسوں کے مہتمم یا مہتممہ کو ہے؟ ایک دوپٹہ اور ایک قرآن بچی کے حوالے کر دیا جاتا ہے اور ان کو رخصت کیا جاتا ہے۔ اور یہی بچے بچیاں اپنے اپنے گھروں میں ایک دفعہ پھر اپنوں پرایوں کی دعوت کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ اور یہ مہتممین صاحبان اور صاحبات بچوں اور بچیوں کی انہی رقومات مدارس کی تزئین و آرائش پر لگا دیتے ہیں۔

ایک دردمندانہ اپیل ہے ان مدارس کے کرتا دھرتا سے کہ مہربانی کر کے تقریبات اور ان بدعات کو ترک کر دیں۔ اگر بوجوہ ان تقریبات کو ترک نہیں کر سکتے تو ان غریب اور کم آمدنی والے والدین سے ایک پیسہ کی بھی ڈیمانڈ نہ کریں بلکہ ان سے کہہ دیا کریں کہ مدرسہ میں کوئی تناول ماحضر کا کوئی بندوبست نہیں ہو گا۔

اور آخر میں ارباب اختیار و لوکل گورنمنٹ سے دست بستہ عرض ہے کہ ان مدارس کو قومی سطح پر رجسٹرڈ کیا جائے اور ہر سال ان مدارس کا آڈٹ ہو اور جو اسباق پڑھائے جاتے ہیں ان اسباق کا حکومتی سطح پر معائنہ ہو۔ اور اسی تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے ان مدارس میں موجود طلباء و طالبات کو ووکیشنل تربیتی پروگرامز کا اجراء بھی ہو تاکہ ان مدارس سے فارغ ہونے والے طلباء اور طالبات اپنے گھر والوں کا معاشی بوجھ بھی اٹھالیا کریں۔

Facebook Comments HS