حکیم فخر عالم کی نادر تالیف۔ ”طبی اخلاقیات“ پر ایک نظر
شعبۂ کلیات، اجمل خاں طبیہ کالج، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ
ای میل:ashharkulliyat@gmail.com
موبائل نمبر: 9891918622
کتاب کا نام : طبی اخلاقیات
مؤلف : حکیم فخر عالم
صفحات :234
مطبوعہ : 2023ء
قیمت : 150 روپے
شائع کردہ : قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی
”طبی اخلاقیات“ سے معنون حکیم فخر عالم صاحب کی یہ کتاب اطبا کے کردار، عادات و اطوار سے بحث کرتی ہے۔ موضوع کی تمہید یوں ہے کہ فن طب اشرف المخلوقات حضرت انسان کی صحت سے منسوب ہونے کی بنا پر فن شریف سے تعبیر ہے۔ انسان اور حیوان کی تفریق کا مدار نفس ہے، لہٰذا انسانی قدروں میں سر فہرست انسان کا شریف النفس ہونا ہے۔ تاریخ طب سے ثابت ہے کہ اپنے زمانے کا ہر طبیب ایک بہترین انسان اور اعلیٰ اخلاقی قدروں کا پاسبان تھا۔ نفس کی شرافت انسان کو سلیم الطبع بناتی ہے جہاں روشن ضمیری انسان کو اس کے فرض سے غافل نہیں ہونے دیتی۔ یہی وجہ ہے کہ روشن ضمیر معالج ہر حال میں اپنے مریض کا بہی خواہ ہوتا ہے۔ جہاں، نشتر بکف مسیحا، کوئی معیوب نہیں بلکہ ایک محمود صفت ہے۔
طبابت اور اخلاقیات کا کتنا گہرا تعلق ہے، اس ضمن میں ایک دلچسپ واقعہ میرے حافظے میں بھی محفوظ ہے۔ 1988ء میں ہمدرد طبی کالج، نئی دہلی میں دوران تعلیم جب بی یو ایم ایس کورس کے آخری سال میں ہماری جماعت کی ڈیوٹی ہندو راؤ ہسپتال، دہلی کے سرجیکل وارڈ میں لگی تو وہاں اپنے وقت کے معروف اور مقتدر سرجن ڈاکٹر رمیش چندر ککڑ کی معیت میسر آئی۔ ممدوح اپنے فن میں تو ماہر تھے ہی، اخلاق و کردار میں بھی اعلیٰ مقام پر فائز تھے۔
مریضوں سے انتہائی ہمدردی اور خندہ پیشانی سے پیش آتے تھے۔ آپ نے ایم بی بی ایس کی تعلیم لکھنؤ کے کنگ جارج میڈیکل کالج سے حاصل کی تھی اس لیے اردو بولنا اور پڑھنا جانتے تھے۔ واقعہ یوں ہے کہ کانپور سے تعلق رکھنے والے ایک شخص حاجی محمد ادریس جو پیرانہ سالی کے باعث عظم غدہ ٔمذی کے عارضہ میں مبتلا تھے، بحیثیت مریض ڈاکٹر موصوف کے اتصال میں آئے۔ ڈاکٹر صاحب نے سرجری کے واسطے انہیں اپنے وارڈ میں ایڈمٹ کر لیا اور حاجی محمد ادریس صاحب سے جب ملاقات ہوتی ان کی بزرگی کو ملحوظ نظر رکھتے ہوئے ان سے ابا میاں کہہ کر مخاطب ہوتے اور انتہائی عزت و احترام سے پیش آتے۔
دو دن کے بعد مطلوبہ رپورٹس ڈاکٹر صاحب کے سامنے تھیں جو آپریشن کے لحاظ سے نا مناسب قرار پائیں۔ اس دور میں غدہ ٔمذی کا آپریشن آج کی طرح آسان اور محفوظ نہیں تھا، لہٰذا ڈاکٹر صاحب نے حاجی صاحب کو آپریشن کے خطرے سے آگاہ کیا اور کہا کہ آپریشن کے علاوہ بھی ایک چارہ ہے۔ بہتر ہے آپریشن سے گریز کیا جائے اس لیے ہم آپ کو یہاں سے رخصت کر رہے ہیں۔ اس وقت حاجی محمد ادریس صاحب نے ایک شعر اپنے چارہ گر کی نذر کیا تھا، جو میرے حافظہ میں اب تک باقی ہے :
آ گیا لطف اسیری میں تری اے صیاد
ذبح کر ڈال مگر قید سے آزاد نہ کر
یہ ہے ایک با اخلاق اور مخلص ڈاکٹر کی بالا دستی اور اس کے سامنے مریض کی خود سپردگی جس کی بنیاد فلسفۂ اخلاق ہے۔ حکیم فخر عالم صاحب نے ”طبی اخلاقیات“ کا آغاز ”اخلاق اور فلسفۂ اخلاق“ سے ہی کیا ہے۔
کتاب کے مندرجات میں ایک پیش لفظ، ایک تقریظ اور نو ابواب ہیں۔ پیش لفظ صاحب کتاب کی جانب سے ہے جس کو ”ایک آخری بات“ سے موسوم کیا گیا ہے۔ اور اس آخری بات میں یہ بات بھی درج ہے :
”طبی اخلاقیات“ اردو زبان میں پہلا منضبط کام ہے، اس لیے تالیفی دشواریاں تو بدیہی تھیں، مگر وہ مشکلات بے حد سنگین رہیں، جو اس نقش اول کو نقش تمام کی صورت عطا کرنے میں پیش آئیں۔ اس کی تالیف گویا ایک ایسی تصویر کی صورت گری تھی، جس کا سامنے کوئی عکس نہیں تھا۔ لہٰذا اس کے خدو خال ابھارنے سے لے کر ، خاکہ میں رنگ بھرنے تک کا سارا مرحلہ صرف اپنی صوابدید پر عبور کرنا پڑا۔ ”(1)
گویا اب ہمیں اس کتاب کی صورت میں ایک نقش تمام حاصل ہو گیا ہے جو کم از کم اس موضوع پر اس سوال کا جواب تو ہے ہی:
عقل سوہان جاں ہے فکر عذاب
کیا کہیں سدباب ہے اس کا
تقریظ جناب حکیم وسیم احمد اعظمی صاحب کے قلم کی رہین ہے۔ آپ جیسے ذی علم، صاحب نظر اور ماہر نقد نے اس کتاب کو یہ سند عطا کی ہے :
”مجھے ان کی تحریروں میں موضوعاتی تنوع کے ساتھ عالمانہ بصیرت نظر آتی ہے، وہ جس موضوع پر قلم اٹھاتے ہیں، اس کا حق ادا کر دیتے ہیں۔ ان کی تحقیق میں ’بتان وہم و گمان‘ کا قطعی گزر نہیں ہے۔“ (2)
لہٰذا تمام و کمال کی حامل یہ کتاب بالاستحقاق ہمارے سامنے ہے کہ اس سے رجوع کیا جائے اور اخلاقیات کی ضیا پاشی سے روشن ضمیری کو استوار رکھا جائے۔ میرا اس کتاب سے استفادہ اسی زمرے میں ہے۔ تبصرہ تو اس اہم کتاب سے خود کو جوڑنے کا ایک بہانہ ہے، اس امید کے ساتھ کہ میری یہ مختصر تحریر قارئین کو علمی تشنگی میں مبتلا کر کے انہیں کتاب کو حاصل کرنے اور پڑھنے کی ترغیب دے گی۔ تو آئیے میرے ساتھ کتاب کا ایک طائرانہ جائزہ لیجیے۔
باب اول میں اخلاق اور فلسفہ اخلاق کا پس منظر پیش کیا گیا ہے جہاں اسلامی نظریۂ اخلاق کو مرکزیت حاصل ہے۔ یہاں صاحب کتاب نے ماضی میں اطبا کی اخلاقی بلندی کا سبب بھی بیان کر دیا ہے، فرماتے ہیں :
”ماضی میں جب اطبا اسلامی معاشرے سے آتے تھے، وہ تعلیم و تربیت کا اسلامی پس منظر رکھتے تھے۔ چنانچہ اس عہد کا طبی معاشرہ اوصاف و کمالات سے متصف تھا۔“ (3)
باب دوم میں طبی اخلاقیات کے تاریخی حوالے بیان کیے گئے ہیں، بالخصوص ابو طب کے لقب کے سر فراز بقراط کی وہ وصیت بیان کی گئی ہے جو طبیب کے عمدہ خصائص کی ترجمان ہے، جو دور حاضر کے اطبا میں مفقود ہیں۔ وصیت سے چند باتیں ملاحظہ فرمائیں :
”طب کا طالب علم اپنی ذات میں آزاد اور مزاج میں عمدہ ہو، نفس پر قابو رکھتا ہو، پاک دامن ہو، بحیثیت طبیب مریض کا غم گسار ہو اور اس کے حق میں مخلص و مشفق ہو۔“ (4)
باب سوم میں طبیب کے اوصاف جمیلہ کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے، وسعت نظر عمدہ تشخیص و تجویز میں معاون ہے اس لیے وسعت مطالعہ کو طبیب کے لیے ضروری قرار دیا گیا ہے۔ اس بابت ابن زکریا کی ”کتاب المنصوری“ سے اقتباس پیش کیا گیا ہے، جس میں ایک اہم بات یہ ہے :
” حقیقت یہ ہے کہ طبابت ایک ایسا فن ہے ’جس میں متقدمین کو رہنما بنائے بغیر پوری زندگی صرف کر کے بھی کوئی آدمی مہارت پیدا نہیں کر سکتا۔“ (5)
باب چہارم اطبا کے منفی کردار کا ترجمان ہے۔ عصبیت، علمی سرقہ، کمیشن خوری، لغو آمیز اشتہارات اور تشہیر کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ علمی سرقہ سے متعلق یہ بات خوش آیند ہے :
”ہر دور میں علمی سرقہ کی مثالیں ملتی ہیں ’معاصر دنیا بھی اس سے اچھوتی نہیں ہے۔ چنانچہ اس پر نقد و جرح کے ذریعہ علمی سارقین کے چہروں سے نقابیں اتاری جا رہی ہیں۔ یونانی طب کے علمی سرقوں کے تعلق سے بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اطبا کی اس حرکت سے بھی پردہ اٹھایا جائے۔“ (6)
اسی باب میں اطبا کے ذریعہ اشتہار بازی کی اس غیر اخلاقی حرکت کی نشاندہی بھی کی گئی ہے جو فن شریف اور طبیب دونوں کے دامن پر بد نما داغ ہے :
” جنسی امراض کے یہ اشتہارات بعض اوقات ایسے دہشت ناک ہوتے ہیں کہ انہیں پڑھتے ہی نوجوان خوف و دہشت کا شکار ہوجاتا ہے۔ ’نا امیدی حرام ہے‘ اور ’مایوسی کفر ہے‘ جیسے الفاظ اب اپنے اصل مفہوم سے ہٹ کر امراض جنسیہ کے قابل حل اور لائق علاج ہونے کا استعارہ اور کنایہ بن گئے ہیں۔“ (7)
باب پنجم میں پیشہ ورانہ کج روی جیسے یونانی طبیب کے ذریعہ ماڈرن میڈیسن کی پریکٹس اور دیسی اور انگریزی دو اؤں کی باہم آمیزش کو معیوب قرار دیا گیا ہے۔ یہی نہیں یہاں اطبا کی دکھتی رگ پر بھی ہاتھ رکھ دیا گیا ہے۔ غور کیجئے کہ ہم اور آپ اس کسوٹی پر کہاں کھڑے ہیں :
”دیسی معالجین پیدا ہونے کے بجائے آدھے ادھورے ڈاکٹر پیدا ہو رہے ہیں۔ یہ اپنے ناموں کے ساتھ حکیم یا وید لکھنے کے بجائے ’ڈاکٹر‘ کا سابقہ لگا کر اپنی اصل شناخت چھپانے کی کوشش کرتے ہیں اور لوگوں کو غلط پہچان بتا کر اخلاقی جرم بھی کرتے ہیں۔“ (8)
میری دانست میں لفظ ”حکیم“ کی آبرو اسی میں ہے کہ اس کے استعمال سے اجتناب کیا جائے۔ جس سطح کا علم ہمیں میسر ہے اس اعتبار سے ”ڈاکٹر“ کہلانا ہی مناسب ہے۔
اسی باب میں فن دواسازی میں اخلاقی امور کی پاس داری کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے، دواسازی کے امور حسنہ کو بارہویں صدی عیسوی کے طبیب ابوالمنیٰ بن ابی نصر عطار اسرائیلی کی کتاب ”منہاج الدکان“ کے توسط سے بیان کیا گیا ہے۔ یہ بیان دواسازی تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ دین و ایمان کی روشنی میں جملہ اخلاقی قدروں کا پاسدار ہے۔ مال کا تحفظ انسان خود کر سکتا ہے لیکن جان کے تحفظ میں طبیب کا دخل ہے اس لیے کتاب کی یہ سطور طبیب کے لیے لائق توجہ ہیں :
”دنیا کی ہر چیز جان کا بدل ہے ایک جان ہی ہے جس کا بدل نہیں۔ چنانچہ جان کا ضیاع ہر شے کا ضیاع ہے اور جان کا تحفظ ہر شے کا تحفظ“ (9)
باب ششم میں ماحولیات کے اخلاقی تقاضے بیان کیے گئے ہیں، گویا ماحول جو انسانی صحت کا ضامن ہے اس کی صحت و اعتدال کا خیال بھی اطبا کے فرائض میں شامل ہے۔ اس باب نے کتاب کو ندرت سے ہمکنار کر دیا ہے۔ ان سطور پر غور فرمائیں :
”اگر انسان اپنے آپ کو اس زمین پر خود مختار محسوس کرتا ہے تو اسے یہاں کے وسائل پر استحقاق کے ساتھ انہیں تحفظ فراہم کرنے کی ذمہ داری بھی ادا کرنی ہوگی۔ دیسی طبوں کا سب سے اہم ادویاتی ماخذ نباتات ہیں۔ لہٰذا ان کے حصول کے وقت یہ اہتمام ضروری ہے کہ پیڑ پودوں کو کم سے کم نقصان پہنچے۔“ (10)
باب ہفتم یہ چند متفرقات پر مشتمل ہے۔ جیسے صحت و مرض سے متعلق چیلنجز کا سامنا بلا تفریق پیتھی کے جملہ معالجین کی معاونت سے کرنا۔ زندگی سے مایوس یا شدت مرض سے تڑپتے مریضوں کو موت کے حوالے کرنا یا نہ کرنا، اس قضیہ کے تعلق سے اسقلی بیوس، بقراط، ابن ذکریا، احمد بن محمد طبری وغیرہ کے دانشمندانہ اقوال درج کیے گئے ہیں۔ موت کے طلب گار مایوس مریض کے حق میں ابن زکریا کا یہ قول ہی درست ہے :
” طبیب کو چاہیے کہ مریض کو ہمیشہ صحت کا احساس اور اس کی امید دلائے، گو اس کا اسے یقین نہ ہو۔“ (11)
اسی باب میں معاون طبی عملے کے اخلاق و کردار سے متعلق امور بھی درج ہیں۔ بالخصوص ہسپتالوں میں مریض کی نگہداشت کا انحصار معاون عملے پر ہی ہوا کرتا ہے۔
باب ہشتم میں طبی اخلاقیات سے متعلق مخصوص لٹریچر فراہم کیا گیا ہے۔ طبی تاریخ میں اخلاقیات پر جو مواد موجود ہے یہ باب اس کا عصارہ ہے۔ یہیں گیارہویں صدی کے مشہور طبیب ابوالحسن محمد بن ربن طبری کی معروف کتاب ”معالجات بقراطیہ“ کا بھی بیان ہے۔ طبی اخلاقیات کے تعلق سے یہ کتاب بھی قابل مطالعہ ہے۔ کتاب میں بیان ہے :
”کسی طبیب پر اعتماد اس وقت تک نہیں کیا جا سکتا، جب تک کہ وہ صحیح الاعتقاد، ماہر فلسفہ، تقویٰ میں ممتاز، علوم الٰہیہ، آخرت اور ثواب و عذاب کی معرفت نہ رکھتا ہو۔ اسے دینی معتقدات میں نہایت سخت، پاکباز، نیکو کار، بات کا دھنی، بلند اخلاق کا حامل اور بیماروں پر نہایت مہربان ہونا چاہیے۔“ (12)
معلوم ہوا کہ ہم صحیح معنیٰ میں طبیب کہلانے کے بھی حقدار نہیں ہے، حکیم کا لقب تو بہت دور کی بات ہے۔ لہٰذا ہمارے لیے ڈاکٹر کہلانا ہی مناسب ہے۔
باب نہم میں سی سی آئی ایم کا ضابطۂ اخلاق، طبی تحقیق میں مستعمل حیوانات سے استفادہ کے اخلاقی پیرائے، نیورمبرگ کو ڈآف کنڈکٹ اور ہلسنکی علانیہ کا بیان ہے۔ یوں تو یہاں درج ہر بات اہم ہے لیکن ایک بات ہے جہاں بالقصد کوتاہی ہوتی ہے اور یہ نصیحت کرنی پڑتی ہے :
”طبیب کے لیے ضروری ہے کہ اپنے نام کے ساتھ تعلیمی لیاقت کی سند یا سرٹیفیکیٹ کا نام صحیح صحیح لکھے۔“ (13)
ہر باب کا متن مطلوبہ حوالہ جات سے معمور ہے، یہ خاصہ محققین کے لیے سامان سنج فراہم کرتا ہے اور اس کتاب کو نصابی کتاب سے کہیں زیادہ مرجع و ماخذ کا درجہ دیتا ہے۔
صاحب کتاب نے کتاب کے موضوع کی اہمیت کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے :
اس وقت طبی پیشہ میں جس قسم کی زبوں حالی نظر آ رہی ہے، اس کا تقاضا ہے کہ شدت اہتمام سے اس مضمون کی تعلیم ہو اور طلبہ کی اخلاقی تربیت پر خصوصی توجہ دی جائے۔ ”(14)
میں اس خیال سے اتفاق رکھتا ہوں اسی لیے میں نے اپنی کتاب ”تاریخ طب و اخلاقیات“ کو گزشتہ بائیس سال سے اسی نام پر قائم رکھا ہے۔ اور کتاب کا آخری باب طبی اخلاقیات کی نذر کیا ہے۔ یہی نہیں این سی آئی ایس ایم کے زیر نگرانی تاریخ طب کا موجودہ نصاب تعلیم مرتب کرتے وقت بحیثیت صدر مجلس بھی احقر نے طبی اخلاقیات کو غیر معمولی اہمیت دی ہے۔ ”کورس آؤٹ کم“ کا پوائنٹ نمبر سات طبی اخلاقیات کے لیے ہی مختص ہے۔
مجھے خوشی ہے کہ حکیم فخر عالم صاحب نے اس کتاب کو تخلیق فرما کر اساتذہ اور طلبہ کے لیے اس موضوع پر انتہائی جامع اور سیر حاصل مواد مہیا کر دیا ہے۔ جس کے لیے تمام برادران طب کو آپ کا ممنون ہونا چاہیے۔ احسان مندی بھی ایک اہم اخلاقی فریضہ ہے۔
حواشی
1۔ طبی اخلاقیات، حکیم فخر عالم، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی، 2023، ص:IX
2۔ ایضاً، ص:XIV، XV
3۔ ایضاً، ص:15
4۔ ایضاً، ص:31
5۔ ایضاً، ص:41
6۔ ایضاً، ص:69، 70
7۔ ایضاً، ص:77
8۔ ایضاً، ص:85
9۔ ایضاً، ص:104
10۔ ایضاً، ص:116
11۔ ایضاً، ص:126
12۔ ایضاً، ص:134
13۔ ایضاً، ص:202
14۔ ایضاً، ص:XI


