وہ ہر جگہ پہ سونے والے کیا ہوئے


مشاعرہ اپنے جوبن پر تھا ایک نوجوان شاعر لہک لہک کر اپنے اشعار سنا رہا تھا اور سامعین سے داد وصول کر رہا تھا۔ میں سٹیج کے عین سامنے نشست پر بیٹھا مشاعرہ سن رہا تھا اچانک میری نظر سٹیج پر جلوہ افروز صدر محفل پر پڑی تو دیکھا کہ جناب اونگھ رہے ہیں۔ جیسے ہی کسی شعر پر داد پڑتی ہے اور شور بلند ہوتا ہے تو اچانک سے جاگ جاتے ہیں اور ایک ہاتھ فضا میں لہرا کر داد و تحسین کے ڈونگرے برساتے ہیں۔ صدر محفل کی طرف سے ملنے والی داد کی وجہ سے شاعر ان کی طرف دیکھتا ہے تو وہ ایک دو بار مزید واہ واہ کرتے ہیں اور جیسے ہی شاعر اگلا شعر سنانا شروع کرتا ہے وہ دوبارہ حالت غنودگی میں چلے جاتے ہیں۔ اللہ جانے یہ شعور یا لاشعور کی وہ کون سی حالت تھی جس میں وہ نیم خوابیدہ حالت میں شعر کو سن بھی لیتے اور پھر اس کی داد بھی دیتے تھے

سردیوں کی راتوں میں اکثر لڈو کی محفل سجا کرتی تھی۔ شغل میلا اپنے عروج پر ہوتا تھا چار لوگ مل کر لڈو کی بازی لگاتے، جو رہ جاتے وہ تماشائیوں کا کردار ادا کرتے تھے۔ ہمارے ایک دوست کو گھنٹہ بھر کی محفل کے بعد ہی نیند ستانے لگ جاتی تھی اور وہ محفل برخاست کرنے کی اپیل کرنا شروع کر دیتے تھے۔ مگر باقی ساتھی اس کی پے در پہ جماہیوں سے اغماز برتتے ہوئے اس کی اپیل رد کر دیتے اور لڈو کی نئی باری لگا دیتے تو موصوف کو چار و ناچار نئی بازی لگانا پڑتی۔

لیکن ہوتا یوں تھا کہ موصوف اپنی باری چل کر اپنی آنکھیں موند لیتے اور ان کی گردن آہستہ آہستہ نیچے کی طرف جھکنا شروع ہو جاتے، اتنے میں ان کی باری پھر سے آجاتی اور وہ بڑبڑا کر اٹھتے اور اپنی باری چل کر پھر سے سو جاتے ہیں۔ گوٹیاں چلنے کی تمام تر ذمہ داری اور اختیار انہوں نے اپنے دوسرے ساتھی کو سونپ رکھا تھا۔ کبھی کبھی تو حالت استغراق میں ایسے زبردست نمبر لیتے کہ کھیل کا پانسہ پلٹ جاتا تھا۔ شدید نیند کے باوجود جیت کر بے ساختہ پکار اٹھتے ”بھئی ابھی تو میں نیند مین میں تھا۔“ ہار جاتے تو کہتے ”اتنی نیند آئی ہوئی ہے اور تم نے کھلا رکھا ہے، بندہ ایسے میں خاک کھیلے۔“

یہ انگریز دور کے قائم شدہ پرانے خستہ حال تھانے کا ایک بے ترتیب سا کمرہ تھا، جسے تھانہ میں تعینات سب سے سینیئر سب انسپیکٹر تفتیشی افسر کے تصرف میں دے دیا گیا تھا۔ کمرہ میں اس وقت صرف تین لوگ تھے میں، میرا ایک دوست اور تیسرا عمر رسیدہ تفتیشی افسر ۔ میرے دوست کو افسر مذکور سے کچھ کام تھا جو مجھے اپنے ساتھ ملا کر تھانہ لے آیا تھا۔ تفتیشی افسر ناک پہ عینک رکھے کسی مقدمے کی مثل لکھنے کے ساتھ ساتھ میرے دوست کا مدعا بھی سن رہا تھا۔

دوست مذکور بڑی تفصیل سے مدعا بیان کر رہا تھا کہ اچانک کمرے میں ہلکے ہلکے خراٹوں کی آواز گونجنے لگی۔ میرا دوست بھی بولتے بولتے اچانک خاموش ہو گیا۔ اب فضا میں خراٹوں کا راج قائم ہو گیا، تفتیشی افسر میرے دوست کی بات سنتے سنتے اچانک نیند کی وادی میں کھو گیا تھا۔ ایک دو منٹ کے انتظار کے بعد میں نے کہا ”سر“ مگر جواب ندارد۔ میں نے ذرا زور سے کہا ”سر جی“ تو وہ ہڑبڑا کے اٹھے اور یوں گویا ہوئے ”آپ بولتے رہیں میں سن رہا ہوں۔

“ اس غنودگی کے عالم میں جو مثل مقدمہ وہ مکمل کر رہے تھے، اس پر کئی لوگوں کی زندگیوں کا دار و مدار تھا اور اس کے ساتھ کئی خاندانوں کا امن و سکون جڑا ہوا تھا جسے وہ جنوں کی حکایت سمجھ کر لکھے جا رہے تھے۔ ان گول گول لفظوں کو سمجھنے کی پوری کوشش کے باوجود میں یہ جاننے میں ناکام رہا کہ موصوف کس زبان میں اور کیا تحریر کر رہے ہیں؟

خطرناک مجرم کی گرفتاری کے لیے انچارج نے ایک ریڈنگ پارٹی تشکیل دی اور ضروری ہدایت جاری کرنے کے بعد ریڈ کے لیے روانہ ہو گئے۔ مجرمان اشتہاری دریا کے بیٹ میں اپنی کمین گاہ میں چھپا ہوا تھا۔ یہ ایسی جگہ تھی کہ کہ جہاں موبائل فون کے سگنلز بھی صحیح کام نہیں کر رہے تھے۔ لہذا انچارج نے سب کو یہی بتلایا کہ رابطے کی کوئی اور سبیل نہیں ہے لہذا ریڈ کے بعد سب اسی مقام پر اکٹھے ہوں گے۔ محمد بوٹا نامی کانسٹیبل کو ایک ایسی جگہ پر مامور کیا گیا ہے جہاں سے مجرم اشتہاری کے بھاگ جانے کا اندیشہ تھا۔

شدید گرمی کے موسم میں یہ ایک ٹھنڈی اور سایہ دار جگہ تھی انچارج کی رخصت ہو جانے کے بعد محمد بوٹے نے ارد گرد نگاہ دوڑائی تو اس کو ایک کھالا (نالا) نظر آیا۔ جس میں پانی تو نہیں تھا مگر اس کی مٹی نم آلود تھی۔ اس نے سرکاری رائفل کو ایک طرف رکھا اور ٹھنڈے کھالے کی دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ شدید گرمی میں کھالے کی ٹھنڈی مٹی جسم سے مس ہوئی تو ایک فرحت انگیز احساس اس کے رگ و پے میں سرایت کر گیا۔ ریڈنگ پارٹی ریڈنگ ریڈ میں مصروف تھی اور محمد بوٹا خواب خرگوش کے مزے لے رہا تھا۔ ریڈ مکمل کرنے کے بعد ساتھیوں نے نگاہ دوڑائی تو محمد بوٹا کو ناموجود پایا۔ سب کے چہروں پر تشویش کی لہر دوڑ گئی اور وہ اس جگہ پر پہنچے جہاں محمد بوٹے کو ڈیپیوٹ کیا گیا تھا تو کیا دیکھا کہ وہ ٹھنڈی سایہ دار جگہ پہ ایک کھالے میں پڑا سو رہا ہے۔ اس کے بعد کیا ہوا ہو گا دانا و بینا خوب جانتے ہیں۔

ملتان سے لاہور کا سفر کچھ عرصہ قبل تک صرف جی ٹی روڈ کے ذریعے ہی ممکن تھا۔ موٹروے بنی تو آسانی ہو گئی کہ دو آپشنز کھل گئے۔ یعنی موٹروے اور جی ٹی روڈ دونوں کے ذریعے ہی لاہور آنے جانے کی سہولت ہو گئی۔ تیز رفتار گاڑیوں نے موٹروے پر سفر کو ترجیح دینا شروع کر دی کہ اس سے وقت کی اچھی خاصی بچت ہو جاتی تھی۔ صبح سویرے منہ اندھیرے ہمارے علاقے سے ایک چھوٹی گاڑی کی لاہور کے لیے سروس شروع ہو گئی۔ وقت کی بچت کے لحاظ سے اور علی الصبح لاہور پہنچ کر دفتری اوقات میں کام کاج نے نمٹانے کے اعتبار سے یہ ایک بہترین آپشن تھا۔

عموماً ٹیلی فون پر ہی سیٹ بک ہوجاتی تھی۔ گاڑی موٹروے کے ذریعے لاہور کے لیے روانہ ہوئی تو میں نے دیکھا کہ کم و بیش تمام مسافر سیٹوں کے دائیں بائیں سر ٹکائے سو رہے ہیں۔ گاڑی کے تقریباً تمام مسافروں کو سوتا دیکھ کر مجھے ایک عجیب سی وحشت ہونے لگی۔ اچانک میری نگاہ سامنے والے شیشے پر پڑی تو مجھے ڈرائیور کی نیم وا آنکھیں نظر آئیں جو آہستہ آہستہ مزید بند ہو رہی تھیں۔ گاڑی تقریباً 120 کلومیٹر فی گھنٹہ کی سپیڈ سے آگے بڑھ رہی تھی۔

یہ دیکھ کر خوف کی ایک لہر میرے بدن میں سرایت کر گئی۔ میں نے کچھ بولنا چاہا مگر آواز گم ہو گئی۔ میری نگاہیں شیشے پر جمی ہوئی تھیں جس میں ڈرائیور کی آنکھیں نظر آ رہی تھیں جو ایک دم سے پوری کھل چکی تھی لیکن پتلیاں پھر نیچے کی طرف بند ہونا شروع ہو رہی تھیں۔ میں نے جیب سے موبائل نکالا اور ڈرائیور کا نمبر ملایا، بیل بجی تو اس کی آنکھیں کھلیں اور اس نے اپنی جیب سے ٹٹول کر موبائل نکال کر کال سننا شروع کر دی۔ میں نے کہا ”بھائی آپ کو شدید نیند آئی ہے تو گاڑی سائیڈ پہ لگا کر منہ دھو لو کچھ آرام کر لو۔“ ”نہیں نہیں میں سو کب رہا ہوں“ اس نے ڈھٹائی سے کہا تو میں نے جواب دیا ”بھائی آپ تو نہیں سو رہے لیکن آپ نے ہمیں ابدی نیند سلانے کا پورا انتظام کیا ہوا ہے۔“

ایک وقت تھا کہ ہمیں بھی بے تحاشا نیند آتی تھی، صبح سویرے اٹھانے والے کی آواز پر منوں ٹنوں کے حساب سے غصہ آ جایا کرتا تھا۔ برآمدے سے اٹھایا جاتا تو ہم کسی دوسرے کمرے کے ماحول کو خراٹوں کی گونج سے معطر کرنا شروع کر دیتے۔ اٹھانے والے اٹھا اٹھا کے عاجز آ جاتے، مگر نیند تھی کہ ہمارا پیچھا چھوڑنے کو تیار ہی نہ ہوتی تھی۔ سچی بات تو ہے کہ نیند کو ہم سے اور ہمیں نیند سے سچا پیار تھا۔ ہم نے کسی حد درجہ سیانے سے کہیں سن لیا تھا کہ خوش قسمت ہے وہ جسے خوب بھوک لگتی ہو اور خوب نیند آتی ہو۔ بس پھر کیا تھا نیند اور بھوک پر ملنے والے ہر طعن کو ہم نے ہنس کر سہ لیا اور کسی قسم کی کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ سچی بات تو یہ ہے کہ ان جابجا سونے والوں پہ ہمیں کبھی کوئی خاص غصہ نہیں آیا کیونکہ ان میں ہمیں اپنا ہی روپ نظر آتا ہے۔

Facebook Comments HS