سگنل کاٹتے جان بچ گئی، اب؟


رات گئے پاروش کا میسیج آیا کہ یاسر میں آپ کو کال کر سکتی ہوں؟ کام میں مصروف ہونے کی وجہ سے میں نے میسیج کو نظر انداز کر دیا۔ کام سے فراغت پا لینے کے بعد چائے بنائی اور میسیج کا جواب دیا، میسیج کو بلیو ٹک لگنے سے پہلے ہی پاروش کی کال آ گئی۔ جیسے وہ میری اجازت کی نہیں بلکہ بس جاگنے کی بشارت کی متقاضی تھی۔ پاروش کو میں پہلی دفعہ روتے ہوئے سن رہا تھا۔ جب کسی انسان کے سامنے کوئی عمل پہلی دفعہ ہو رہا ہو تو اس کا رد عمل کیا دینا ہے، وہ انسان نہیں جانتا ہوتا۔

اسی لئے جب میری توقع کے عین برعکس پاروش سسکیاں لے رہی تھی تو میں اپنے آپ کو بے بس پا چکا تھا۔ اتنا بے بس کہ میرا دل کر رہا تھا کہ کال کاٹ دوں لیکن میں نے اس کی ساری بات سن لینے کے بعد ، صبح چکر لگاتا ہوں کہہ کر کال کا اختتام کیا۔ کال کٹ گئی لیکن میرے ذہن میں وہ گفتگو فلم کی طرح چل رہی تھی کیوں کہ پاروش نے تو صرف وہ واقعہ سنا تھا مگر جائے وقوعہ میری روزانہ کی گزر گاہ ہونے کی وجہ سے وہ واقعہ میں برہنہ آنکھوں سے دیکھ سکتا تھا۔

لاہور میں کئی ایسے چوک چوراہے ہیں جہاں پر انسانوں کی سہولت اور شہریوں کو سڑک پر منظم رکھنے کے لئے ٹریفک سگنل تو موجود ہیں لیکن شاید ”انسان“ موجود نہیں ہیں۔ جس وجہ سے اس غیر انسانی معاشرے میں لاہور کے متعدد چوک زندگی اور موت کے بیچ پل صراط کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ایسا ہی ایک بدبخت وحدت روڈ اور ملتان روڈ کو ملانے والا ملتان چورنگی کا چوک ہے۔ جہاں سے گزرتے ہوئے کوئی ایکسیڈنٹ ہوا ہوتا ہے، آنکھوں کے سامنے ہو جاتا ہے یا پھر معجزاتی طور پر بچ بچا ہو جاتا ہے۔

بالکل اسی چوک پر سگنل کی بے ضابطگی کی وجہ سے پاروش کا تیس سالہ کولیگ یاسر منیر چند دن پہلے دفتر سے گھر جاتے ہوئے غیر انسانی معاشرے کی درندگی کا شکار ہو کر جان کی بازی ہار جاتا ہے۔ یاسر منیر کتنا قابل تھا، کتنا خوب صورت نوجوان اور گھر میں کس کس کا سہارا تھا، اب اس کا ذکر کیا ہی کرنا۔ بس روز بروز اس معاشرے کے تعفن کی وجہ سانس لینے میں دشواری بڑھتی چلی جا رہی ہے۔

اگر آپ یاسر منیر نہیں ہیں تو سگنل سے گزر جانے کے بعد زندگی مل بھی جائے تو آپ کو راہ چلتے ہوئے کب اور کون دو چار سیکنڈز کے لئے اپنے گندے ترین ذہن کو تسکین دینے کی خاطر کیسا برتاؤ کرے گا یہ کوئی نہیں جانتا۔ چند روز پہلے کی بات ہے، قریب چودہ گھنٹے مسلسل کام کرنے کے بعد میں گھر کی طرف بہت سست رفتاری سے جا رہا تھا، پاس سے گزرتے ہوئے تیز رفتار موٹر سائیکل سواروں نے جانے کیوں اور کیا چیز ماری کے ساری رات کمر سے جلن نہیں گئی۔

چہار اطراف سے بدبو دار معاشرے کے ابلیسی نوعیت کے شاہین، خواتین با الخصوص راہ چلتی لڑکیوں پر تو ایسے جھپٹتے ہیں کہ الامان! کچھ عرصہ قبل ایک راہ جاتی لڑکی کو دو موٹر سائیکل سوار رزیلوں نے دوپٹے سے کھینچا تو وہ منہ کے بل گر گئی، نتیجے میں اس کی بتیسی ٹوٹ کر ناکارہ ہو گئی اور وہ غزوہ ہند فتح کر کے بھاگ نکلے۔ بہن بیٹی کو ایسا گہن لگ جائے تو والدین کو کیا کیا تکلیف اٹھانی پڑتی ہے اس عظیم ترین قوم کے نوجوان شاید نہیں جانتے۔

والدین نے جلد از جلد اس لڑکی کی اچھی سے اچھی بتیسی لگوائی اور زندگی میں واپس بھیج دیا۔ ایک دن وہی لڑکی اپنے دوستوں کے ساتھ یونیورسٹی کے لان میں بیٹھی باتیں کر رہی تھی کہ بات کرتے ہوئے اس کی آرٹیفیشل بتیسی گر گئی۔ اور بدقسمتی دیکھئے کہ اس کے دوستوں کی ہنسی نکل گئی۔ اس کرب، اذیت، بے بسی اور لاچارگی کے لئے کون سے الفاظ ہوتے ہیں، میں نے ایسے الفاظ ابھی تک نہیں پڑھے۔

دنیا کی عظیم ترین، ہماری قوم کے پاس سگنل پر رکنے کے لئے ایک منٹ کا وقت تو نہیں ہے مگر ٹک ٹاک کی ویڈیوز دیکھنے کے لئے گھنٹوں وقف کر دینے کی بھر پور صلاحیت سے آراستہ ہے۔ اس عظیم قوم کا انسان، سگنل کاٹنے پر کسی کی جان خطرے میں ڈالنے کو بڑا مسئلہ نہیں سمجھتا کیوں کہ گھر جا کر اس نے زندگی کا اہم ترین کام جنت مرزا، ایلیکس اور پھلو کے علاوہ چاہت فتح علی خان کی ویڈیوز پر شیئر کا بٹن دبا کر سر انجام دینا ہوتا ہے۔

عمومی طور پر آپ مذکورہ بالا سگنلز پر عمر کے ہر حصے سے تعلق رکھنے والوں کو قانون کی خلاف ورزی کرتا دیکھیں گے۔ کئی عمر رسیدہ شخص تو اپنے بچوں سمیت دوسروں کی زندگی کو بھی ہنسی خوشی خطرے میں ڈال رہے ہوتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ملتان چورنگی کے سگنل کے دائیں اور بائیں بالترتیب منصورہ المعروف مرکز جماعت اسلامی اور تحریک لبیک پاکستان المعروف رضوی برادران کا مرکز ہے۔ جس کی وجہ سے کثیر تعداد میں علماء کی اشکال سے مماثلت رکھنے والے بھی سگنل کاٹنے والے عظیم الشان عمل میں بڑھ چڑھ کر ثواب دارین حاصل کرتے ہیں۔

یعنی ہر مکتبہ فکر اور شعبہ زندگی کے عظیم لوگ مل جل کر ایک دوسرے کی زندگیوں کے لئے باعث موت کا سبب بننے کے لئے کوشاں رہتے ہیں۔ جب کہ ٹریفک وارڈن ہمارے باقی اداروں کی طرح خال خال دکھائی دیتے ہیں۔ اگر وارڈن حضرات اپنے قیمتی وقت سے چند گھڑیاں نکال کر ٹریفک کو باقاعدگی کے ساتھ رواں دواں رکھیں تو آگے چل آپ نے کس طرح اور کس نوجوان کی روح کے لئے خوشی اور تسکین کا باعث بننا ہے یہ ان عظیم نوجوانوں کے والدین بھی نہیں جانتے۔

ماشاءاللہ سے جیسی اخلاقی گراوٹ چل رہی ہے بہتری لانا، ناممکن سا لگتا ہے۔ لیکن اس قوم کے عظیم والدین 9 ماہ دن رات ایک کر کے جس لگن سے اقبال کے شاہین کو پیدا کر کے معاشرے کا حصہ بناتے ہیں۔ ان والدین کو چاہیے کہ اسے کم از کم دن میں صرف 9 منٹ ہی معاشرے میں رہنے کا سلیقہ بھی سیکھا دیں تو شاید کچھ سالوں کے بعد فرق نظر آنا شروع ہو جائے اور کسی کا یاسر منیر تیس سال کی عمر میں لقمہ اجل بننے سے بچ جائے۔ اس کے علاوہ مختلف شعبہ ہائے زندگی کے ادارے بھی اگر اپنے دفتری معاملات کی ورکشاپس کے ساتھ ایک دو ماہ بعد معاشرتی اقدار پر ورکشاپ کروا کے بھلے اس کی تصاویر بھی اپنے سوشل میڈیا صفحات پر شیئر کر دیں، مانیں نہ مانیں فرق پڑے گا۔

مؤخرالذکر ہمارے علماء کو چاہیے کہ جوش خطابت اور منبر رسول ص پہ براجمان ہو کر مسلکی انتشار کے دیوں میں مٹی کا تیل ڈالنے کی بجائے، جب بھی نیکی کی تلقین کرنے کا موقع ملے تو ایک آدھ نصیحت معاشرتی حقوق پر بھی دے دینی جانی چاہیے، کیا معلوم آپ کی نصیحت اثر کر جائے اور کسی یاسر منیر کی جان بچ جائے۔ اور اس سے نہ صرف جان بچے گی بلکہ اللہ کے فرمان کی پاسداری بھی ہو جائے گی کیوں کہ اللہ تعالیٰ سورۃ المائدہ میں فرماتا ہے جس کا مفہوم ہے کہ ایک انسان کی زندگی بچانا پوری انسانیت کی زندگی بچانے کے برابر ہے۔

Facebook Comments HS