اعلانات، انکشافات اور ان کے اثرات

برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ونسٹن چرچل سے منسوب ایک واقعہ مشہور ہے کہ پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران تقریر کرتے ہوئے انہوں نے ایک بار کہا کہ پارلیمنٹ کے آدھے لوگ گدھے ہیں۔ یہ سن کر اراکین آگ بگولہ ہو گئے۔ بیشتر نے کھڑے ہو کر شور مچانا شروع کر دیا۔ چرچل کو برا بھلا کہا۔ کچھ سے اسے پاگل اور ذہنی مریض قرار دیا۔ اراکین نے اس سے فوری طور پر اپنے الفاظ واپس لینے اور معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔ حالات کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے چرچل نے فوراً مائک سنبھالا اور کہا کہ میں اپنے جملے کی تصحیح کرنا چاہتا ہوں۔ یہ سن کر پارلیمنٹیرین خاموش ہو گئے۔ چرچل نے کہا کہ پارلیمنٹ کے آدھے ارکان گدھے نہیں ہیں۔ یہ سن کر پارلیمنٹیرین کو تسلی ہوئی اور پھر چرچل سمیت سب نے سکھ کا سانس لیا۔
مذکورہ واقعہ یوں یاد آیا کہ کچھ روز قبل سابق کمشنر راولپنڈی لیاقت علی چٹھہ نے ایک دھواں دھار پریس کانفرنس میں انکشاف کیا کہ 2024 کے عام انتخابات کے دوران راولپنڈی ڈویژن کے حلقوں میں بڑے پیمانے پر دھاندلی ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بڑے مارجن سے شکست کھانے والے افراد کو دھاندلی کے ذریعے جتوایا گیا۔
اس انکشاف کے فوراً بعد سابق کمشنر کے حق اور مخالفت میں بیانات کا لامتناہی سلسلہ شروع ہو گیا۔ چند حلقوں نے اسے حق گو، فرشتہ صفت قرار دینا شروع کر دیا جبکہ مخالفین اور اس کے اپنے ماتحتوں نے اس پر تبروں کی بھرمار کردی۔ اسے پاگل اور ذہنی مریض تک کہا گیا۔ چند دنوں بعد اسی کمشنر سے منسوب ایک اور مبینہ خبر میڈیا کی زینت بنا۔ جس کے مطابق سابق کمشنر نے ایک سیاسی جماعت کے بہکانے پر اپنا پہلا بیان دیا، ان کا بیان صریحاً غیر ذمہ دارانہ اور غلط بیانی پر مشتمل تھا۔ انہیں اپنے بیان پر بہت شرمندگی ہے، وہ قوم سے معافی چاہتے ہیں۔ خبر کے مطابق وہ 9 مارچ کو ریٹائر ہو رہے ہیں۔ سرکاری مراعات چھوٹنے سے پریشان تھے۔
مبینہ بیان میں سابق کمشنر کا کہنا تھا کہ ”مجھے کبھی بھی بشمول الیکشن کمیشن کسی نے دھاندلی کی کوئی ہدایت نہیں دی، کوئی بھی آر او ایسے کسی عمل میں ملوث نہیں تھا“ ۔
کمشنر کے دونوں بیانات پر نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ تین دہائیوں سے زائد عرصہ سول سروس کے اہم عہدوں پر فائز کسی سینئیر بیوروکریٹ سے اس قسم کے بیانات اور اعلانات غیر معمولی ہیں۔ کمشنر سے منسوب خاص کر دوسرا بیان سافٹ وئیر اپ ڈیٹ ہونے یا کیے جانے کا شاخسانہ لگتا ہے۔
سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور حکومتی ذمہ داروں کے بیانات پر ایک اور واقعہ یاد آیا کہ 4 مارچ 1948 کو قائد اعظم محمد علی جناح نے ڈھاکہ یونیورسٹی کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اردو اور صرف اردو ہی ہماری قومی زبان ہوگی۔ یہ سننا تھا کہ طلبا نے احتجاجاً کھڑے ہو کر مجلس احتجاج کیا۔ قائد کو اپنی بات ادھوری چھوڑ کر تقریب سے جانا پڑ گیا۔ واقعات کے مطابق اسی شام شیر بنگال مولوی فضل حق نے کہا کہ ہماری زبان کون سی ہوگی کون سی نہیں ہوگی، یہ بتانا گورنر جنرل کا کام نہیں ہے۔ یہ فیصلہ عوام کو کرنے دیا جائے۔
جنوری 1952 کو اسمبلی میں اردو کو قومی زبان قرار دینے کی سفارش آئی تو بنگال کے عوام اپنی زبان کے دفاع میں سڑکوں پر نکل آئے۔ 21 فروری 1952 کی صبح جب مظاہرین نے احتجاج کی غرض سے جلوس نکالا تو شہر میں کرفیو لگایا جا چکا تھا۔ بندوق بردار شہر کی فصیلوں پر کھڑے تھے اور فضا آنسو گیس سے بھر چکی تھی۔
طلباء کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے آخر میں فائرنگ کی گئی جس سے درجنوں طلبا زخمی ہوئے جبکہ پانچ طلبا جان سے گزر گئے۔
بنگلہ دیش بننے کے بعد ہر سال 21 فروری والے دن اسی مقام پر قتل ہونے والے طلبا کی یاد میں یوم شہدا منایا جاتا ہے۔ مادری زبانوں کا عالمی دن بھی 21 فروری کی اسی مناسبت سے منایا جاتا ہے۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ کسی پروفیشنل وکیل اور دور اندیش سیاستدان، کہ جس کی اپنی مادری زبان گجراتی ہو، سے یہ توقع کیسے کی جا سکتی ہے کہ وہ ڈھاکہ یونیورسٹی جاکر بنگالی بولنے والے طلباء سے انگریزی میں تقریر کرتے ہوئے یہ کیونکر اعلان کریں گے کہ اردو، اردو ہی پاکستان کی قومی زبان ہوگی۔
کہیں ایسا تو نہیں کہ بانی پاکستان سے یہ اعلان اس وقت کی سول اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور ان کے چہیتوں نے زبردستی کروایا ہو یا خود ساختہ میڈیا کی زینت بنایا ہو۔ کیونکہ قوم کو قائد اعظم کی قانون ساز اسمبلی کی تقریر کے میڈیا میں سنسر کیے جانے اور بعد ازاں مسرور ائر بیس پر ان کے ایمبولینس میں فیول ختم ہونے والے واقعات بھی اچھی طرح یاد ہیں۔

