یہ ایک ڈیجیٹل الیکشن تھا
اس الیکشن میں کئی نئی چیزیں سامنے آئی ہیں جنہوں نے الیکشن مہم سے لے کر ووٹنگ تک اور نتائج سے لے کر حکومت سازی تک پاکستان کا دہائیوں پرانا نظام ہلا کر رکھ دیا ہے، یہ نئے پاکستان کا طرز فکر ہے، عملی سوچ ہے اور نیا رخ ہے۔
سب سے پہلا فیکٹر سوشل میڈیا ہے جسے عمران خان کے چاہنے والوں نے اتنی خوبصورتی اور مہارت کے ساتھ استعمال کیا کہ پرانے جغادری الیکشن مہم سے لے کر نتائج تک اس کو سمجھ نہ سکے، سمجھ آئی تو توڑ نہ کرسکے اور جب توڑ کرنے کی باری آئی تو بہت دیر کی مہرباں آتے آتے۔
سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلانے والوں کو مخالف سیاسی جماعتوں نے کی بورڈ وارئیر، ممی ڈیڈی کلاس کا نام دے کر ہمیشہ نظر انداز کیا، کہا جاتا ہے ان لوگوں کی تربیت ففتھ جنریشن وار کے جنگجووں کے طور پر ہوئی تھی اور باقاعدہ اداروں نے ان کی تعلیم و تربیت کا اہتمام کیا تھا۔
جب یہ لوگ سیاسی جنگ میں یوٹرن کے بعد دھتکارے گئے تو انہوں نے عمران خان کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا لیا، اس کا اظہار سوشل میڈیا ٹرینڈز سے ہوتا رہا، اس وقت پاکستان تحریک انصاف کی مین سٹریم میڈیا پر کوئی جھلک، کوئی شنوائی نہیں ان لوگوں نے ٹویٹر پر ٹرینڈز چلا چلا کر، جھوٹی سچی خبروں کو مسلسل ٹیگ کر کر کے تحریک انصاف کی آواز کو بلند کیے رکھا، ٹویٹر سپیس پر جلسے ہوئے، یوٹیوب پر لائیو ٹرانسمیشن بھی چلتی رہی، عمران خان کی تقاریر بھی ہوتی رہیں لیکن دیکھنے والے کہتے رہے، سوشل میڈیا کو کون دیکھتا، سنتا یا سمجھتا ہے، سب اگنور کرتے رہے۔
انتخابی نشان نہ ملا تو امیدواروں کو ملنے والے طرح طرح کے مضحکہ خیز انتخابی نشانات کو لوگوں تک جدید انداز میں پہنچانے کا بندوبست کیا گیا، آپ عمران خان کے فیس بک میسنجر پر اپنا حلقہ لکھیں امیدوار اور اس کا انتخابی نشان بمعہ حلقہ تفصیلات آپ کے پاس ہیں۔
الیکشن کے روز موبائل سروس بند تھی، کروڑوں لوگوں نے پہلے سے ہی اس سروس سے فائدہ اٹھایا اور انتخابی نشانات کو رٹ لیا، گھرکی خواتین کو بھی یہ نشانات ازبر ہو گئے۔
سوشل میڈیا تحریک انصاف کا ہتھیار ہے اس ہتھیار کو انہوں نے پولنگ ڈے پر ہونے والی بے ضابطگیوں کی نشاندہی، کے لئے بھرپور استعمال کیا، فارم 45 اور 47 کیا ہوتا ہے پوری قوم کو ان لوگوں نے شور مچا مچا کر بتا دیا، فارم ٹویٹر پر اپ لوڈ کر کے سب نے ویڈیوز کے ذریعے واویلا مچایا، نہ ٹی وی پر خبر، نہ ریڈیو پر کوئی آواز، صرف ٹویٹر پر شور مچا، پوری دنیا نے اس شور کو سنا، امریکی ایون نمائندگان نے الیکشن پر تحفظات کا اظہار کیا، امریکا سمیت کئی ممالک نے بھی بادل نخواستہ اس الیکشن کو مشتبہ قرار دے دیا۔ ان تک آواز صرف سوشل میڈیا یعنی ایکس (سابقہ ٹویٹر) کے ذریعے پہنچی۔
اتنا شور مچا کہ اس کا جواب دینے والا دور دور تک کوئی بھی دکھائی نہیں دیا، وہ جو سمجھتے تھے یہ سوشل میڈیا کے نوجوان کیا جانیں سیاست کیا ہوتی ہے انہوں نے گھروں سے بھی نہیں نکلنا، وہ الیکشن کی ساری مہم سوشل میڈیا پر چلاتے رہے وقت آیا تو کروڑوں کی صورت میں باہر نکلے اور ووٹ ڈالا اور انہیں بتا دیا نہیں بھائی نہیں ہم نہ تو ممی ڈیڈی ہیں اور نہ ہی عام سے کھلنڈر نے نوجوان۔ ہمیں جو چیز پسند نہیں ہم اسے ناپسند کریں گے، جو پسند ہے اسے سر پر بٹھائیں گے
الیکشن کے بعد کے معاملات آپ کے سامنے ہیں، اس وقت صرف ٹویٹر پر ہی جنگ لڑی جا رہی ہے اور یہ کی بورڈ جنگجو اپنی اس جنگ میں کامیاب دکھائی دیتے ہیں، انہوں نے سارے سسٹم کو ننگا کر دیا ہے، ہر چیز ویڈیو کے ذریعے لوگوں تک پہنچائی، ٹیکنالوجی کے ذریعے ایک قدم آگے رہے۔ مثال کے طور پر، الیکشن کمیشن نے فارم 45 وغیرہ کو اپنی ویب سائٹ سے ڈیلیٹ کر دیا تو ان لوگوں نے اپنی الگ سے ایک ویب سائٹ بنالی ہے جس پر سارے متنازعہ حلقوں کے فارم بھی سکین شدہ موجود ہیں، حکومت نے ویب سائٹ تک رسائی بند کردی توان لوگوں نے وی پی این کے ذریعے اس ویب سائٹ کو سب تک قابل رسائی بنا دیا۔
ٹیکنالوجی فیکٹر اس الیکشن میں ٹاپ پر رہا ہے، سب جماعتوں کو اسے سنجیدگی سے لینا چاہیے اور اپنی اپنی جماعتوں کی تنظیم نو کر کے نئے خون نئی سوچ کو شامل کرنا چاہیے ورنہ مجھے لگ رہا ہے کئی سیاسی جماعتیں صفحہ ہستی سے مٹ جائیں گی کیونکہ جس ووٹر نے اس پار پی ٹی آئی کو ووٹ دیا ہے وہ نوجوان ہے اور آگے دو تین دہائیوں تک اس کی وابستگی اس جماعت سے برقرار رہنے کا امکان ہے۔ وہ اسے چھوڑیں گے نہیں بلکہ انہیں جتنا دبایا جائے گا یہ لوگ اتنا ہی زیادہ متحرک اور پرعزم ہوتے جائیں گے
الیکشن پر گلوکار ملکو نے ایک گانا گایا، اس گانے کے اندر ایک بول یا ٹپے میں قیدی 804 کا ذکر تھا، ڈیجیٹل کی دنیا کے ان نوجوانوں نے اس بول کو لے کراس گانے کو اتنا وائرل کیا کہ اس نے ٹرینڈنگ میں بھارتی میوزک کمپنی کو بھی پچھاڑ دیا، ملکو کے کریئر کو ایک نیا بریک ملا، اس گانے کو کروڑوں بار دیکھا گیا، اسے اندازہ ہوا کہ خان کے ایک ٹپے پر یہ حال ہے تو پورے گانے پر کیا ہو گا، اس نے پورا گانا ریکارڈ کر دیا، وہ بھی راتوں رات شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گیا اس نے الیکشن سے ایک روز پہلے نیا گانا جاری کیا جس کے 7 روز میں آٹھ لاکھ ویوز ہو چکے ہیں اس کا ماننا ہے جو عمران خان سے جڑ گیا اسے ترقی اور شہرت مل گئی جس نے اسے چھوڑا وہ دربدر ہوا۔ اس کی یہ بات سچ ہے یا جھوٹ خود تجزیہ کر لیں۔
قصہ مختصر، ڈیجیٹل میڈیا پوری ایک دنیا ہے، اس الیکشن میں تحریک انصاف نے سب کچھ ڈیجیٹل سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کیا اور اس کے نتائج اپ کے سامنے ہیں، آپ اسے کسی صورت بھی اگنور نہیں کر سکتے۔ پاکستانی سیاسی جماعتوں کو دہائیوں پرانے طرز سیاست، بیانیے اور جوڑ توڑ سے نکلنا ہو گا۔ ابھی بھی وقت ہے، اسے غنیمت جانیں۔ ورنہ تمھاری داستان تک نہ ہوگی داستانوں میں۔
تازہ ترین مثبت چیز یہ ہے کہ استحکام پاکستان پارٹی کے چیئرمین جہانگیر ترین اور جماعت اسلامی کے امیر مولانا سراج الحق نے اخلاقی طور پر سیاست اور اپنے عہدوں سے استعفی دے دیا یہ نئی روایت ہے، خوش آئند ہے کہ کسی نے تو ذمہ داری قبول کی، جہانگیر ترین کا صاحبزادہ علی ترین اپنے والد کے طرز سیاست سے ہرگز خوش نہیں تھا اور الیکشن میں والد کی شکست کے بعد اس نے یقیناً خاصا احتجاج کیا ہو گا، فیملی میں بھی ان پر پریشر تھا کیونکہ ان کے علاقے میں کئی پی ٹی آئی امیدواروں کو ناموافق حالات کا سامنا کرنا پڑا، ایک دوست بتا رہا تھا کہ 10 امیدواروں کو دائیں بائیں کیا گیا، 11 واں کھڑا ہو تو اس نے بھی ترین کو ہرا دیا، مطلب اس بار ووٹ ضد اور مخالفت کا پڑا ہے، لوگوں نے یہ نہیں دیکھا کہ امیدوار کون ہے، اس کی شکل، عقل کیا ہے بس یہ پتہ تھا کہ یہ پی ٹی آئی کا عمران خان کا امیدوار ہے، بس اندھا دھند ووٹ دیا، حالانکہ ترین اپنے علاقے میں عوامی خدمت اور کام کاج کرانے کے لئے مشہور ہے
اس بار سارا ووٹ اینٹی اسٹیبلشمنٹ پڑا ہے، جو جماعتیں یا سیاستدان اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ جڑے انہیں منہ کی کھانا پڑی، یہ ایک حقیقت ہے اس کا بھلے ہم کھلے بندوں اعتراف نہ کریں لیکن نوشتہ دیوار ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کو اب پیچھے ہٹنا ہو گا، ورنہ اس چپقلش سے ملکی سلامتی کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے، عوام سے ملک ہے سلطنت یا ریاست ہے اگر عوام ہی ایک چیز کے خلاف ہیں تو آپ زبردستی انہیں مروڑ توڑ کر اپنی مرضی کے مطابق نہیں چلا سکتے، عزت اور محبت سے جو مرضی کرالیں، زبردستی دھونس دھاندلی نہیں چلے گی۔ کئی اداروں کا پردہ تھا وہ چاک ہو گیا، لوگوں کو واضح ہو گیا کہ ادارے کیسے گٹھ جوڑ کر کے مرضی کا سیٹ اپ لے کر آتے ہیں کیسے دھاندلی کرتے ہیں اور کیسے من مانی۔ یہ پردہ تھا، جو اب نہیں رہا، اس حوالے سے فوری اقدامات کی ضرورت ہے، مصالحتی ہوا چلنی چاہیے، تاکہ سوچ و فکر کو سکون مل سکے۔ جذبات ٹھنڈے پڑ سکیں۔
سیاسی جماعتوں نے سوشل میڈیا کے بجائے الیکٹرانک میڈیا ہاؤسز کو پروان چڑھانے پر زور دیا ہے اور اب بھی کئی چینلز مختلف سیاسی جماعتوں کے بھونپو کے طور پر مارکیٹ میں موجود ہیں لیکن اسٹیبلشمنٹ کی لڑائی میں چینلز نیوٹرل چلتے رہے اس سے ناظرین کا ان پرسے اعتماد اٹھ چکا، لوگ ڈیجیٹل میڈیا پر شفٹ ہوچکے ہیں جہاں انہیں سچی جھوٹی خبریں مرچ مصالحوں کے ساتھ دیکھنے کومل رہی ہیں، جس سے ان کی سوچ، رائے، فکر بری طرح متاثر ہو رہی ہے اور قومی سوچ گراوٹ کا شکار ہو رہی ہے، بحیثیت قوم ہمارا نظریہ، طرز فکر، اور تعمیری سوچ پستی کی جانب گامزن ہے۔ اس طرح تو پاکستان پیچھے کی طرف جائے گا، شعور پست ہو گا تو نئی اور تعمیری سوچ اور نظریہ سامنے نہیں آئے گا اور قوم کو آگے کا راستہ نہیں ملے گا


