مقامی علمی ادبی اور ثقافتی سرمائے کی عالمی پہچان
نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگوجز کی فیکلٹی آف آرٹس اینڈ ہیومینٹیز کے زیر اہتمام ہونے والی دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس کے افتتاحی اجلاس میں بہ طور مہمان خصوصی شرکت کے لیے آپ نے یاد فرمایا تو مجھے کانفرنس کے نئے موضوع کو دیکھ کر اچھا لگا ورنہ جامعات میں لگے بندھے موضوعات پر اوروں سے اخذ شدہ باتیں اور مرعوب کرنے کو درآمدی اصطلاحات کی تکرار ہی سننے کو ملا کرتی ہے۔ ڈین فیکلٹی آف آرٹس اینڈ ہیومینٹیز ڈاکٹر سفیر اعوان کو میں نے ہمیشہ لگے بندھے موضوعات سے الگ اور مختلف ہو کر سوچتے اور علمی توسیع کے علاقے ڈھونڈتے پایا ہے ؛ یہ کانفرنس بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ موضوع دہرا دیتا ہوں :
’International Conference on Alternative Epistemes and Counter – Narratives Indiginizing Knowledge Production in Art and Humanities‘
مجھے یقین ہے کہ اس موضوع پر ماہرین مقامی بیانیے کی شناخت کر پائیں گے ؛کچھ اس طرح کہ علم و ادب کے باب میں اپنے تخلیقی سرمائے سے معرفت کا رشتہ قائم ہو گا اور ایسی قابل عمل سفارشات مرتب ہو پائیں گی جن پر عمل درآمد سے اب تک ہو چکے نقصان کی تلافی ہو گی، مستقبل کی راہ روشن ہو گی اور اپنے ہاں کے تخلیقی اور علمی سرمائے کو دنیا بھر کے سامنے اعتماد سے پیش کیا جا سکے گا۔
محترم ریکٹر صاحب، اور خواتین و حضرات!
ہم ایک ایسی دنیا میں ہیں کہ جس کی بابت دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ گلوبل ویلیج بن چکی ہے۔ وہ والا ہمارے ہاں کا گاؤں نہیں جس میں رہنے والے مختلف سطحوں پر اخلاص کے رشتوں میں بندھ جاتے ہیں۔ یہ مختلف ثقافتوں کی ایسی قربت والا عالمی گاؤں ہے جس کا تصور پہلے ممکن نہ تھا۔ اور بہت جلد محسوس کیا جانے لگا ہے کہ یہ ثقافتی قربت فطری بنیادوں پر نہیں بلکہ معاشی مفادات کے حصول کے لیے ہے۔ اس پورے ’ویب‘ کو سمجھنے کے لیے مقامی تناظر کی تبدیلی اور ثقافتی تنوع کی بہت باریک سطحوں پر تفہیم کی ضرورت ہوگی۔
ہمارے لیے یہ دیکھنا بہت ضروری ہے کہ ہم نوآبادیاتی وراثت سے تیزی سے الگ ہونے والی دنیا میں علم کی پیداوار کے معاملے میں بہت پچھڑے ہوئے ہیں۔ ان اسباب پر غور کرنا ہو گا کہ ثقافت اور شعر و ادب باب میں کمال درجہ ثروت مند ہو کر بھی ہم مغرب سے مرعوبیت کا شکار کیوں ہیں؟ اپنی تخلیقات کو دوسروں کے سامنے اعتماد اور سلیقے سے پیش کرنے اور انہیں ایک معیار کے طور پر باقی دنیا میں متعارف کروانے میں کیوں ناکام رہے ہیں؟ ہمارے علم اور تھیوریز کا سوتا مقامیت سے کیوں نہیں پھوٹتا اور ہر بار ہم باہر کی سمت کیوں دیکھتے ہیں؟
آپ کی یونیورسٹی میں اس رخ پر سوچنا اس لیے بھی اہم ہو گیا ہے کہ یوں درآمدی تھیوریز کی لائی ہوئی فکری یبوست اور مرعوبیت سے الگ ہو کر اپنے تخلیقی سرمائے پر غور و فکر ممکن ہو پائے گا۔
محترم حاضرین!
آپ کو یاد ہو گا کہ عالمی معیشت نے 1929 ء سے 1941 ء کے برسوں میں گریٹ ڈپریشن کا سامنا کیا تھا، تب سے لے کر 1991 تک کے درمیان کے برسوں میں عالمی سطح پر مسلسل ایسے اقدامات اٹھائے جاتے رہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں پرائیویٹ سیکٹر ایک قوت بن کر ابھرا۔ ترقی پذیر ممالک کی حکومتیں کمزور ہوتی چلی گئیں، بظاہر ایسا حکومتی کارندوں کی کرپشن کے سبب ہو رہا تھا مگر واقعہ یہ تھا کہ حکومتوں کا کنٹرول کمزور پڑ گیا تھا۔ ان پسماندہ ملکوں میں کمزور انتظامیہ کے سبب شدید معاشی بحران پیدا ہوا۔
جبکہ اسی عرصے میں ترقی یافتہ دنیا کے سرمایہ داروں نے بہت ترقی کی اور وہ عالمی سامراجی شکل میں ہمارے ہاں بھی دخیل ہو گیا۔ بڑی بڑی ملٹی نیشنل کمپنیاں اور مالیاتی اداروں نے معیشت کو اپنے کنٹرول میں کر لیا یہ وہ گلوبل تھیوری تھی جو عملی صورت میں پیش قدمی کرتے ہوئے معاشی سیکٹر کی راہ سے ہماری قومی زندگی کے ہر شعبے میں اتھل پتھل اور انارکی کا سبب ہو گئی تھی۔ شاید جو صورت حال ہمارے سامنے تھی اس کے لیے ’انارکی‘ کا یہ لفظ بھی چھوٹا پڑ رہا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا مختلف ممالک کے درمیان معاشی تعلقات کا پھیلاؤ ہی گلوبلائزیشن تھی ؛ شاید نہیں۔ یہی سبب ہے کہ اس کے نتیجے میں جو عالمی معیشت سامنے آئی پاکستان اور اس جیسے پس ماندہ ممالک دوسروں کے محتاج ہو گئے ؛ ان ممالک کے محتاج جو گلوبلائزیشن کی اقدار تشکیل دے رہے تھے۔ ترقی پذیر ممالک کی اپنی انڈسٹری اور دوسرے پیداواری ذرائع ختم ہونے لگے۔ گلوبل ویلیج ایک پھندا ہو کر ظاہر ہو رہا تھا؛ جی، اس کے باوجود کہ فاصلے مٹ گئے تھے۔ ہمیں گماں ہونے لگا تھا کہ وہ سب کچھ جو اسکرین کے اس طرف تھا ؛ہماری دسترس میں تھا۔ یہ ایک فریب تھا کہ جو کچھ ہماری انگلی کے ایک ٹچ پر تھا ہمارا ہو گیا تھا یا ہو سکتا تھا۔
انٹرنیٹ اور ذرائع ابلاغ کی اس حیران کن ترقی سے انسانیت کی فلاح کے لیے بہت کچھ کیا جاسکتا تھا اور بہ ظاہر اس سمت قدم بھی بڑھائے گئے مگر پس پردہ ایسی منصوبہ بندی کام کر رہی تھی جو مارکیٹ اکانومی کے اہداف کے حصول کو ممکن بنا رہی تھی۔ حتی کہ ہمارے ہاں کی مقامی دانش کا عطر ہوا ہوتا چلا گیا اور ہم بھی وہی زبان بولنے گئے جو ایک منصوبہ بندی کے تحت ہماری زبان پر رواں کی گئی تھی۔ اب سامراج کا بیانیہ ہی ہمارا بیانیہ تھا۔
ادبی تنقید کی نئی اصطلاحات سے لے کر سیاسی اور معاشی بیانیے تک کے عقب سے مقامی دانش کو پرے دھکیل دیا گیا تھا۔ وہ جو ایک لکھنے والے نے لکھا تھا کہ یہ وہ زمانہ ہے جس میں دانش وروں کی دانش چوری ہو گئی ہے اور المیہ یہ ہے کہ انہیں اس کا احساس تک نہیں، تو سچ ہی تو لکھا تھا کہ ہم بہ چشم سر ایسا دیکھ رہے تھے؛ مگر حیف کہ نہیں دیکھ رہے تھے۔ جب ریاست کے اختیارات سمٹتے چلے گئے تو اس کے سیاسی، جمہوری، انتظامی ادارے ہوں یا معاشی نظام اور پیداواری ذرائع سب متاثر ہوئے۔
سب سے زیادہ اور شدید بحران ثقافت اور علم و ادب کے باب میں دیکھا گیا۔ ایک زبان اور ایک کلچر کو عام کرنے کے جتن ہونے لگے تاکہ پیداواری اخراجات کو کم کیا جا سکے اور ایک جیسی پراڈکٹ کو ہر کہیں ایک ہی صورت میں قابل قبول بنا لیا جائے۔ جب یہ فارمولا ہر کہیں ایک جیسا کامیاب نہ رہا تو مقامی زبانوں کو انٹرنیٹ پر جگہ دی جانے لگی اور ان کے کلچر میں عالمی کلچر کے زیر اثر کچھ تبدیلیاں کر کے ان کی سرپرستی کی جانے لگی۔ حتی کہ زبان و ادب اور کلچر بھی ایک پراڈکٹ کی صورت اختیار کرتا چلا گیا۔ وہ پراڈکٹ جس کے ہم صرف صارف تھے اور صارف ہیں۔
میں نے یہ تمہید اس لیے نہیں باندھی کہ میں اس صورت حال سے یکسر مایوس ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس صورت حال میں اپنی پسپائی کو درست اور کارگر حکمت عملی سے اپنے حق میں ’مواقع‘ کی صورت میں بدلا جا سکتا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ آج کی کانفرنس بھی اسی جانب ایک قدم ہے۔ جب آپ اپنے ہاں کے اعلٰی ادب کو دوسری عالمی زبانوں میں منتقل کرنے اور جدید وسائل کو استعمال میں لاکر اسے دنیا کی دیگر زبانوں کے مقابل رکھیں گے تو مجھے یقین ہے رومی کی دیوانی دنیا یہاں کی صوفیانہ شاعری سے لے کر اردو شاعری حتیٰ کہ اردو غزل تک کی بھیدوں بھری کائنات کے مقابل ہو کر ضرور سوچے گی کہ اچھا یہاں ایسی اصناف ہیں جو دنیا بھر سے اپنے مزاج کے اعتبار سے الگ ہیں اور یہاں شاعری کی ایک ایسی صنف بھی ہے جس کے دو مصرعوں کے اندر دانش بھری معنویت کا جادو بولتا ہے۔
مجھے یقین ہے کہ انگریزی اور دوسری عالمی زبانوں میں یہاں کا عامیانہ/سطحی نہیں، اعلیٰ فکشن منقلب ہو گا تو دنیا اس کی طرف ضرور لپکے گی کہ میں اپنے ہاں کے ایسے انگریزی میں لکھنے والوں کی وہاں پذیرائی دیکھتا رہتا ہوں ؛ جن کا لکھا اردو میں منتقل ہو تو اپنی ساری آب کھو بیٹھے۔ یہی معاملہ ہمارے ہاں کے دوسرے ثقافتی مظاہر کا ہے کہ ہمارے پاس محض نصرت فتح علی خان اور ٹرک آرٹ ہی نہیں، جس کی دنیا دیوانی ہے اور بھی بہت کچھ ہے۔
سوال یہ ہے کہ ہمارا اپنا سرمایہ کب ہماری نظر میں قدر پاتا ہے، کب ہم استعمار کی مرعوبیت سے نکلتے ہیں اور کب مقامی ادب و ثقافت اور دوسرے علم و دانش کے پیدا واری علاقوں سے اخذ شدہ متبادل شعور اور مقامی دانش و معرفت کو کام میں لاکر اسے دنیا کے سامنے انہی وسیلوں کو کام میں لاکر رکھنے کے قابل ہو پاتے ہیں جن وسیلوں سے گلوبلائزیشن اور مارکیٹ اکانومی ہم تک پہنچی ہے۔ اگر ہم ایسا کر پاتے ہیں تو ہم پر کامیابیوں کے ایسے نئے آفاق کھلتے چلے جائیں گے جن کا فی الحال تصور بھی نہیں کیا جا رہا ۔
(نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگوجز، اسلام آباد کی دو روزہ عالمی کانفرنس کے افتتاحی اجلاس میں پیش کی گئی معروضات)


