سعودی عرب کی نیم برہنہ حسینہ اور مفتی تقی عثمانی کی خاموشی

نو منتخب ”مس“ السعودیہ والعربیہ ”رومی القحطانی“ کی عالمی مقابلہ حسن میں شرکت سے سعودی عرب کا انٹرنیشنل رینکنگ میں بطور ریاست ایک نیا اور بالکل ہی جدا سا امیج قائم ہونے جا رہا ہے۔
ایک ایسا معاشرہ جہاں خواتین کو اپنی مرضی سے سانس تک لینے کی آزادی میسر نہ ہو، آزادانہ گھوم پھر نہ سکتی ہوں، بغیر محرم کے حج و عمرہ نا کر سکتی ہوں، دنیا بھر میں کہیں بھی اکیلے سفر نا کرنے اور ڈرائیونگ تک کرنے کی بھی اجازت نا ہو وہاں اچانک سے ایک خوبصورت ماڈل ایک ہائی پروفائل انٹرنیشنل ایونٹ میں جلوہ گر ہو جائے حیرت تو ہوگی نا!
سعودی حسینہ کی مقابلہ حسن میں شرکت جہاں اس کی ذاتی کامیابی ہے وہاں سعودی عرب کا بطور ریاست بھی ایک ترقی پسندانہ اقدام کہلائے گا۔
خواتین کی حیثیت کو مضبوط اور توانا بنانے اور ان کو بطور فرد تسلیم کرنے کا ایک طرح سے واضح اظہار ہے۔
جہاں شروع دن سے خواتین کو لپیٹ لپاٹ کے رکھنے کا چلن رہا ہو وہاں اس قسم کا اقدام واقعی قابل تعریف ہے اور اس طرح کے اقدام کر کے سعودی عرب اپنی قدامت پسندانہ فکر کو دیس نکالا دینے جا رہا ہے۔ سعودی حسینہ نے عرب کے روایتی کلچر پر ایک گہری ضرب لگائی ہے اور انٹرنیشنل پلیٹ فارم پر اپنا اور اپنی ریاست کا ایک سافٹ امیج پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔
سب سے بڑھ کر عرب کی خوبصورتی کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کا بیڑہ اٹھایا ہے، ایک ایسا پلیٹ فارم جہاں ڈائیورسٹی کو نا صرف تسلیم کیا جاتا ہے بلکہ پورے وقار اور تہذیب کے ساتھ سیلیبریٹ بھی کیا جاتا ہے۔
اس مقام تک ایک تنگ نظر سماج کا پہنچ جانا کسی معجزے سے کم نہیں ہوتا۔ سعودی عرب کی حسینہ رومی القحطانی کی نیم برہنہ تصاویر السعودی پرچم کے ساتھ جس پر کلمہ طیبہ بھی واضح طور پر دکھائی دے رہا ہے سوشل میڈیا پر کئی روز سے گردش کر رہی ہیں۔
لیکن ہمیں حیرت ہے کہ کرہ ارض کے سب سے بڑے مفتی یعنی مفتی اعظم تقی عثمانی ابھی تک خاموش ہیں، انہوں نے ابھی تک کسی بھی قسم کا اپنا رد عمل ظاہر نہیں کیا۔ ممکن ہے انہیں اس کے متعلق خبر ہی نہ ہو؟
یا کسی نے جان بوجھ کر ان تک اس شیطانی خبر کو پہنچنے ہی نہ دیا ہو کون جانے؟
لیکن آ ج کے دور میں ایسا کیسے ممکن ہے اور مفتی اعظم بھلا بے خبر اور لاعلم کیسے ہو سکتا ہے؟
توبہ توبہ ایسا سوچنا بھی کفر ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کیا ان کے چوکس و چوکنا کانوں تک یہ کفریہ خبر ابھی تک نہیں پہنچی؟
کیا ان کی صالح نظروں سے سعودی حسینہ کی نیم برہنہ تصاویر نہیں گزری ہوں گی؟ ایسا بھلا کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ بے خبر ہوں؟
ان کی پاکیزہ نگاہوں سے بھلا کوئی گناہ گار کیسے بچ بچا کے نکل سکتا ہے؟
گزشتہ دنوں ایک پاکستانی حسینہ کی تصویر وائرل ہوئی تھی جسے ان کی عقابی و صالح نگاہوں نے فوراً تاڑ لیا تھا اور انہوں نے اسی وقت ایک ٹویٹ کے ذریعے سے ریاست کو خبردار کر دیا تھا۔
ان کا کہنا تھا
” ایک ایسا ملک جو اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا ہو، وہاں اس قسم کی بے شرمانہ اور بے ہودہ قسم کی سرگرمیوں کا ہونا ریاست کے اوپر سوالیہ نشان ہے اور ریاست کو چاہیے کہ وہ خود کو اس قسم کی سرگرمیوں سے علیحدہ کرے“
اب ہمارا مفتی اعظم سے عاجزانہ سا سوال ہے کہ کیا آپ کو سعودی عرب کے ”اسلامی“ ہونے میں کوئی شک ہے؟
یا وہاں اسلام کے علاوہ کوئی اور نظام چل رہا ہے؟
انوار و تجلیات کے مرکز میں اس قسم کی بے ہودہ سرگرمیوں پر ایک پراسرار سی خاموشی کیوں؟
ابھی تک آپ نے کوئی نوٹس نہیں لیا اور نا ہی کوئی ٹویٹ شویٹ کی، خیریت تو ہے نا؟
ہم تو ٹھہرے اسلامک ریپبلک یعنی آدھے تیتر آدھے بٹیر، وہ تو جناب! مکمل اسلامک اور سرتاپا مذہب کا کامل ترین نمونہ ہیں، پھر بھی آپ خاموش ہیں ایک آدھ ٹویٹ کر کے فرض کفایہ ادا کرنے میں کیا حرج ہے؟
لیکن مجال ہے کہ کسی نے ان کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھا ہو یا احتجاج کے طور پر ان کے سفیر کو ملک بدر کرنے کی دھمکی دی ہو یا ان کی کسی پروڈکٹ کا بائیکاٹ کرنے کی جرات کی ہو، ویسے ہماری پروڈکٹ بھی کیا ہونی ہے طفیلیوں کے نصیب میں تخلیق کہاں؟
حیرت کی بات تو یہ ہے کہ پورا عالم اسلام اور امہ ستو پی کے سو رہی ہے اور کسی کو ذرا سی توفیق بھی نہیں ہو رہی کہ وہ آگے بڑھ کر سعودی عرب کو للکار سکے اور ان کو گمراہی کی راہوں پر چلنے سے روک سکے، ظاہر ہے کون جرات کرے بھائی؟
ہمارے مفتیان و مشائخ و عظام کے فتاویٰ تو بس ادھر تک ہی ہیں اور آپس میں پریکٹس کرنے کے لیے ہیں۔
دوسری طرف ان کا بس نہیں چلتا یا ان کے السعودی بھائی ان کو سنجیدگی سے ہی نہیں لیتے۔

