اسلام خطرے میں ہے؟


ستانوے کی بات ہے میں ریلوے روڈ پر واقعہ مرکزی جامعہ مسجد سے نماز پڑھ کر جیسے ہی جی ٹی ایس چوک کی طرف موڑا تو چند قدم آگے دائیں طرف موجود باریش لوگوں کے ایک گروہ نے مجھے روک لیا۔ پہلے بھی چند لوگ ان کے پاس رکے ہوئے تھے اور متفکر نظر آرہے تھے۔ میرے پاؤں کی طرف غور سے دیکھتے ہی ایک نوجوان نے بلند آواز سے کہا کہ یہی ہے وہ۔ اس فقرے سے باقی لوگوں کی آنکھوں اور چہرے پر تشویش نما مسرت کی لہر دوڑ گئی۔ منڈی بہا الدین میں اس روز کیا ہوا یہ میں تفصیلاً عرض کرتا ہوں پہلے آپ میری مختصر کہانی سن لیں

میرے کانوں میں پیدائش کے فوری بعد جو پہلی آواز پڑی تھی وہ اللہ اکبر تھی۔ ایسی تکبیر جو اس اذان کا حصہ تھی جسے خصوصی طور پر میرے کان میں پڑھا گیا تب جا کر دنیاوی آوازوں کو سماعتوں سے ٹکرانے کی اجازت ملی۔ پانچ بار اللہ اکبر کی گونجتی صداؤں والے ماحول میں میری ماں ہر قدم پر حسبی اللہ، سبحان اللہ، استغفراللہ پڑھتی سنائی دیتیں۔ لوریاں بھی اللہ اور رسول کے نام کی سنائی جاتیں، کہانیوں میں یوسف، ایوب، سلمان، اور موسی کے قصے سنے۔ مذہب میں گندھی صوفی شاعری کے اشعار اور امثال سے کان پہلی سماعتوں میں ہی آشنا ہوئے۔ پکی روٹی، بہشتی زیور، قصص المحسنین اور سبز غلاف میں لپٹا قرآن گھر کی اولین کتابیں دیکھیں اور سنیں۔ اولین آنسو ماں کے سنائے یوسف اور یعقوب کے قصے سے کشید ہوئے۔

ختم، ارواح، روزے، شب برات، عید، قربانی سب تہوار گویا روح اور جسم کی طرح تھے۔ تھوڑی ہوش سنبھالی تو صبح سب سے پہلے مسجد بھیجا جاتا جہاں ہم لہک لہک کر سپارہ پڑھتے اور یوں ابتدائی سکول کے سالوں میں ہی قرآن پاک مکمل پڑھ لیا۔ سو فیصد مسلمانوں میں گھری ہوئی میری زندگی نے اپنے گرد پہلے غیر مسلم شخص کی موجودگی کا احساس اٹھارہ سال کی عمر میں کیا جبکہ میرے گرد موجود اکثریت اس احساس سے زندگی بھر آشنا نہیں ہو پاتی۔

اگرچہ تب کبھی حیرت نہیں ہوئی لیکن اب یہ سوچ کر حیرت ہوتی ہے کہ یہ کہانی میری نہیں بلکہ میرے ارد گرد موجود تمام لوگوں کی تھی جو میری انکھوں سے گزرے یا جن کی آوازیں میرے کانوں نے سنیں۔ ممکن ہے کہ آپ بھی کہیں کہ ہاں یہ تو میری کہانی ہے یہ تو ہر مسلمان کی کہانی ہے جو مسلمان سے شروع ہو کر مسلمانوں کے درمیان سے ہوتی شہر خموشاں تک اسلام اور مسلمانوں کے درمیان ہی رہتی ہے۔

پھر اچانک ہر طرف آوازیں آنا شروع ہو گئیں کہ اسلام خطرے میں ہے۔ میرے ہی گاؤں کے لوگوں کو دوسرے مسلکی بھائیوں سے اسلام خطرے میں نظر آنا شروع ہو گیا۔ یہ ضیا کا دور تھا۔ پھر یہ خطرات بڑھتے گئے یہاں تک کہ مساجد کے اسپیکر سلامتی کے پیغام کی جگہ ملاں کی آگ اگلتی چنگھاڑ نے لے لی۔ چھوٹے بچوں نے دیواروں پر کوئلوں، سلیٹیوں اور سکول سے چرائے چاکوں کی مدد سے کافر کافر لکھنا شروع کر دیا۔ سکولوں میں آئے روز بچے آپس میں دست و گریبان ہونے لگے۔

دو سال نہیں گزرے تھے کہ عالمگیر سطح پر اسلام کو خطرے کا بگل بجا اور یوں یہاں سے خطرے سے نکالنے کی مہم شروع ہوئی اور سکولوں میں جیکٹ اور ٹوپی پوش افراد کی ٹولیاں ترغیب کے لیے آنا شروع ہو گئیں اور ماؤں کے لال اپنے مسلمان بھائیوں کی حفاظت اور اسلام کے بول بالا کے لئے منظر سے ہٹنا شروع ہوئے۔ ہم بھی جوش جوانی اور جرات ایمانی سے لبریز ہو کر ان خطرات سے نمٹنے کو عالمی ج۔ ہ۔ ا۔ دی مراکز کے چکر لگانے لگے۔

انہی دنوں خبریں آنا شروع ہو گئیں کہ پیپسی اور کوکا کولا اور نائیکی کے برینڈ کھلم کھلا اسلام دشمنی میں مصروف ہیں۔ پیپسی کا مطلب اسرائیل کی بقا کے لیے ایک ایک پیسہ خرچ کرنا ہے جبکہ کوکا کولا کو الٹا پڑھیں تو نعوذباللہ یہ مطلب بنتا ہے۔ ایسے ہی ایک بار معلوم ہوا کہ نائکی برانڈ کا ٹک کا نشان کسی دیوی کا نشان ہے جو جوتوں پر پرنٹ کرنا شروع کیا گیا تھا اور اب ہماری ہائی نیک جرسیوں پر پرنٹ کر کے عین ہمارے حلق پر ثبت کر دیا گیا ہے۔ میں نے شدید سردی کے باوجود فوراً جرسی اتار پھینکی اور گھر آ کر اس کا گلا قینچی سے کاٹ دیا۔ اب شروع والے واقعہ کی طرف آتے ہیں۔

جیسے ہی نوجوان نے کہا کہ ”یہی ہے“ تو ان با ریش افراد کے چہرے تو مسرت سے بھر گئے مگر میرا دل خدشات سے ڈوبنے لگا۔ ایک شخص نے کاغذ پر پرنٹ ایک نقشہ سا سامنے کیا اور دوسرے نے مجھے دونوں چپل اتارنے کا حکم دیا۔ ڈرتے جھجکتے میں نے چپل اتار دیے جسے اس نوجوان نے غور سے اس نقشے کے ساتھ میچ کرنا شروع کر دیا اور تھوڑی ہی دیر میں اثبات میں سر ہلانا شروع ہو گیا۔

پاس دیگر موجود لوگوں کے منہ سے کچھ سخت کلمات نکلے تو مجھ پر کپکپی طاری ہوگی۔ ڈرے سہمے پوچھا تو بتایا گیا کہ تمہاری چپل کے نیچے کلمہ طیبہ الٹا پرنٹ ہے جو چلنے ہوئے زمین پر مہر کی طرح سیدھا نقش ہو جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی وہ مجھے اس نقشے کو سمجھانا شروع ہو گیا کہ کیسے یہ یوں پڑھ کے یوں دیکھیں تو ادھر سے ایسے کر کے آپس میں ملائیں تو کلمہ طیبہ جیسا بن رہا ہے۔ کلمہ طیبہ تو میں نہیں سمجھ پایا مگر مجھے یہ یقین آ گیا کہ کیسے میں لاعلمی میں کسی عالمگیر اسلام دشمن سازش کا حصہ بن گیا ہوں۔

احساس گناہ کی لہر اتنی شدید تھی کہ فوراً مجھے چکر آیا اور میں نے اپنا معدہ وہیں سڑک کنارے نالی میں الٹ دیا۔ کپکپاتی ٹانگوں اور لرزتے جسم کے ساتھ مجھے جو واحد بات اندر یا باہر سے سنائی دی وہ یہی تھی کہ لڑکے اپنا جوتا یہیں چھوڑو اور بھاگ جاؤ۔ شفقت آباد پہنچنے تک گرم سڑک پر ننگے پاؤں بھاگنے اور چلنے سے جو چھالے میرے پاؤں پر بنے اس سے زیادہ چھالے میری روح پر احساس ندامت نے ڈال دیے تھے اور میں کئی ہفتوں تک اللہ سے اس ناکردہ گناہ کی معافی مانگنے کے بعد بھی اس روحانی اذیت سے باہر نہیں آ پایا تھا مگر پھر کب اس گھاؤ پر وقت نے اپنا مرہم رکھ دیا مجھے نہیں معلوم۔

آج ایک ویڈیو میں اچھرہ کے بازار میں ایک نہتی خاتون کو نیک اور باریش لوگوں کے نعرے لگاتے ہجوم میں گھرا دیکھا کر میرے اپنے اندر سوئی ہوئی وہی ندامت اور تڑپ پوری شدت سے جاگ اٹھی ہے مگر ڈھائی دہائیوں کے بعد مجھے یوں لگ رہا ہے کہ اس بار میں اکیلا نہیں بلکہ پوری قوم اس تڑپ اور ندامت میں میرے ساتھ شریک ہے اور اس شب برات میں یک زبان ہو کر دعا کر رہی ہے کہ اے مالک تیرے اور تیرے حبیب کے نام پر حاصل کی گئی واحد اسلامی ریاست میں اب صرف تیرا اسلام ہی خطرے میں نہیں بلکہ تیرا مسلمان اور ریاست بھی خطرے میں ہے۔ اے مالک تجھے اپنے محبوب، رحمت للعالمین کا واسطہ تو ہمارے دلوں کو جہل سے پاک کر دے اور شعور، سلامتی، وسعت، ظرف اور رحمت والے دین کا اصل فہم ہمارے قلوب پر نازل فرما دے۔ اے اللہ ہمارے ہیجان کو سکون سے بدل دے۔

Facebook Comments HS