سندھ میں تعلیم کے شعبے کو توجہ کی ضرورت ہے


بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سندھ میں اب کرپشن کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور انہوں نے اپنے ممبران سے مخاطب ہو کر یہ بات کی ہے۔ ٰ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیرمین کی طرف سے پہلی بار اس بات کو سن کر بہت خوشی ہوئی۔ اگر پارٹی میں یہ احساس ہے تو مثبت بات ہے۔ مجھے یاد پڑتا ہے شہید بینظیر بھٹو 2007 میں یو اے ای میں اپنے پروگراموں میں اس بات کا ذکر کیا کرتی تھی کہ اب وہ پارٹی کے اندر ایک اینٹی کرپشن سیل بنائے گی۔ لیکن اللہ نے اس کو زندگی نہیں دی اور پارٹی میں ایسا کوئی سیل نہیں بن سکا۔

سندھ میں سب سے زیادہ تعلیم کے شعبے میں توجہ کی ضرورت ہے۔ سنٓدھ کے اسکولوں میں کوئی 45 لاکھ بچے 39 ہزار اسکولوں میں پڑھتے ہیں لیکن جو بچے اسکول سے باہر ہیں ان کے تعداد تقریباً 80 لاکھ ہے۔ اس وقت سندھ کے 80 فیصد اسکولوں میں بنیادی سہولیات نہیں ہے جس میں بجلی، پانی، واش روم، اور فرنیچر وغیرہ ہے۔ اس لیے جو بچے اسکولوں میں پڑھتے ہیں ان کی بھی معیاری تعلیم نہیں ہو رہی۔

کیا ہونا چاہیے اس پر آخر میں بات ہوگی لیکن اب میں تھوڑی سی بات سندھ حکومت کی پچھلی حکومت کی ترجیحات پر کروں گا۔ تعلیم جیسا اہم محکمہ کے لیے ایک متحرک وزیر ہونا چاہیے جو دن رات تعلیم کی بہتری کے لیے کام کرے۔ لیکن سندھ حکومت کی وزارت سردار شاہ کو دی گئی جس کے پاس پہلے ہی کلچر کی وزارت بھی تھی۔ جس کو لوگ رنگیں وزارت بھی کہتے ہیں۔ سندھ کے کلچر کا وزیر سب سے زیادہ بزی اور اوور آکوپائیڈ رہتا ہیں۔ ایسا شخص جس کے پاس کلچر کی وزارت ہو وہ تعلیم کی وزارت کا کام کیسے کر سکتا ہے۔

سردار شاہ نے اپنی تعلیم کی وزارت اپنے دوستوں کو آؤٹ سورس کر دی تھی اور خود کلچر کی وزارت کے کام دیکھتے تھے۔ سندھ میں ہر مہینے کوئی نہ کوئی لٹریچر فیسٹول چلتا رہتا ہے۔ اگر میں ان کے نام لکھوں تو میرا کالم اس سے ہی بھر جائے گا۔ اب تو سندھ کی کلچر ڈپارٹمنٹ کے تعاون سے لاہور، اسلام آباد کشمیر، پشاور اور کوئٹہ میں بھی لٹریچر فیسٹول ہوتے ہیں۔ اس کا ذکر کراچی آرٹس کونسل کے صدر احمد شاہ نے لاہور لٹریچر فیسٹول میں کیا تھا۔

کلچر کے وزیر کی ان لٹریچر فیسٹول میں دلچسپی اس لیے بھی ہوتی ہے کہ اس میں کروڑوں کی بجٹ ہوتی ہے۔ اس بجٹ کا خرچ اسی طرح ہوتا ہے جیسے ہماری ڈیویلپمنٹ کی بجٹ کا ہوتا ہے۔ 50 ٪ بجٹ کچھ لوگوں کے جیب میں جاتا ہے اور ووکل اور ادیب لوگ بہت خوش ہوتے ہیں اور کلچر کے وزیر کی سوشل میڈیا پر بہت واہ واہ کرتے ہیں۔ اس لیے ایسے وزیر کے پاس تعلیم کے کام کے لیے ٹائم نہیں ملتا۔

اور وزیر کے دوست یار لوگوں سے پیسے لے کر پوسٹنگ کرا رہے ہوتے ہیں۔ اور ایسے لوگ جو پیسہ دی کر کسی پوسٹ پر آتے ہیں وہ پہلے پیسہ نکالتے ہیں اور پھر کام پر توجہ دیتے ہیں۔

سندھ کی تعلیم کو جو نقصان ہو گیا وہ ہو گیا اب اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے اور میں امید کرتا ہوں بلاول بھٹو زرداری اس دفعہ سندھ کی تعلیم پر خود توجہ دیں گے جیسے وہ صحت کے شعبے پر توجہ دیتے ہیں۔

میں آخر میں تعلیم کو بہتر بنانے کے لیے کچھ تجاویز بھی دوں گا امید کرتا ہوں اس پر نظرثانی کی جائے گی۔

سندھ میں تعلیم کی وزارت ایسے شخص کو دینی چاہیے جس کے پاس اور دوسری وزارت نہ ہو اور وہ اپنا ٹائم تعلیم کی وزارت کو دی سکے۔

سندھ میں جتنی مانیٹرنگ استادوں کی ہوتی ہے اتنی توجہ بچوں کی حاضری پر بھی دینی چاہیے۔
اسکول ایجوکیشن کے سیکریٹری کو کم از کم پانچ سال بدلی نہیں کرنا چاہیے اور پالیسی کا تسلسل چل سکے۔

تعلیم کے پالیسی کے ادارے ریفارم سپورٹ یونٹ کا چیف پروگرام افسر ایسا ہونا چاہیے جس کے پاس تعلیم کے شعبے میں کام کرنے کا پہلے سے تجربہ ہونا چاہیے۔ کسی بیوروکریٹ کے حوالے نہیں کر دینا چاہیے جس کو گراؤنڈ حقیقت کا کچھ پتا نہیں ہوتا۔

سندھ کے اسکولوں میں جلد از جلد بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں۔

سندھ میں ہر سال 10 ہزار غریب بچوں کو ماسٹر کی تعلیم تک اسکالرشپ دینی چاہیے جس کا اکیڈمک رکارڈ بہت اچھا ہو۔

اگر سندھ حکومت اوپر دی ہوئی گزارشات پر عمل کرتی ہے تو سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کی مقبولیت کو چار چاند لگ سکتے ہیں۔

Facebook Comments HS