لباس، عربی اور بھرکس


ارض پاک یوں تو بہت سی باتوں کے لیے مشہور ہے لیکن ہمارا ماننا ہے کہ دراصل یہاں کے باشندے کسی بھی چیز کا بھرکس نکالنے میں کمال مہارت رکھتے ہیں۔ وہ چیز مادی بھی ہو سکتی ہے اور غیر مادی بھی۔ کوئی خیال ہو سکتا یا وبال ہو سکتا ہے۔ یہ مہارت عزیز ہم وطنوں نے بہت محنت سے حاصل کی ہے۔ بھرکس کے بارے میں لغت کا کہنا ہے کہ کسی چیز کو مسلسل کوٹنے سے اس کی اصل شکل تبدیل کر دینا۔ پاکستانی الحمدللہ اس کام میں مہارت کے اونچے مقام پر فائز ہیں۔ مثال کے طور پر ہم نے سیاسیات میں لفظ بیانیہ کا ایسا بھرکس نکالا کہ اب یہ لفظ خود اپنی تلاش میں مجذوب ہو چکا ہے۔

سمجھ نہیں آ رہا کہاں سے شروع کریں۔ چلیے فیشن سے شروع کرتے ہیں۔ اس مضمون کا محرک لاہور میں ہوا ایک واقعہ ہے جہاں ایک خاتون حروفی ڈیزائن سے بنا ایک جوڑا پہن کر بازار چلی گئیں اور جہالت کی اعلٰی تعلیم یافتہ ہجوم یہ سوچ کر مشتمل ہو گیا کہ لباس پر قرآنی آیات لکھی ہیں۔ یہ واقعہ بذات خود ”بھرکس“ کی تشریح کے لیے کافی ہے۔

اس کی وضاحت کے لئے شروع کرتے ہیں حروفی ڈیزائن سے۔ یہ بات کم لوگ جانتے ہوں گے کہ دنیا میں بولی جانے والی لا تعداد زبانوں کے ماخذ بہت تھوڑے ہیں۔ مثال کے طور پر انگریزی زبان میں استعمال ہونے والے حروف لاطینی، جرمن، فرانسیسی، ہسپانوی اور دیگر یورپی زبانوں میں مختلف ترتیب اور آوازوں کے ساتھ استعمال ہوتے ہیں

اسی طرح دیوناگری خط، چینی خط بھی مختلف زبانوں کو لکھنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ اب آتے ہیں اصل مدعے کی طرف یعنی عربی خط۔ جو نا صرف عربی بلکہ فارسی، اردو، پنجابی، پشتو، بلوچی، اور سندھی وغیرہ لکھنے کے کام بھی آتے ہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ یہ بنیادی بات ہمارے تعلیمی نظام کے کسی بھی درجے پر نہیں پڑھائی جاتی نتیجہ ایک ہجوم جاہلاں ہے جو سڑکوں پر بے لگام ہاتھوں میں قتل کے کے فتوے لئے بے تاب پھر رہا ہے اور عربی خط میں اردو میں لکھی کھانے کی ترکیب کو بھی قرآنی آیات سمجھ لیتا ہے۔ اب یہاں جہالت کا بھرکس واضح ہو رہا ہے اور ہم سمجھ سکتے ہیں کہ ہمارے تعلیمی ادارے کیوں جہالت کی تربیت گاہیں ہیں۔

اب آتے ہیں فیشن کی طرف۔ فیشن یوں تو انگریزی زبان کا لفظ ہے لیکن اردو نے اور بہت سے الفاظ کی طرح اسے بھی اپنی سچی محبت کی مانند اپنا لیا ہے۔ ویسے اردو کے چاہنے والوں کے لئے عرض ہے کہ کسی لباس، گھر یا زبان و بیان کی چلت طرز اور بناوٹ فیشن کہلاتی ہے۔

ارض پاک کے فیشن ڈیزائنر باہر کی دنیا کے خیالات کچھ کانٹ چھانٹ کے بعد یہاں پیش کر دیتے ہیں اور ہماری ماہر عوام ان کا بھرکس نکالنے میں مشغول ہو جاتی ہے۔ چونکہ اس کام کو ہم پوری دلجمعی کے ساتھ کرتے ہیں لہٰذا کچھ ہی عرصے میں کوئی مہنگا ترین فیشن انارکلی بازار میں ریڑھیوں پر کوڑیوں کے مول بکتا نظر آتا ہے۔ ہم سے پہلے گزرے سیانوں کے بقول جیسا دیس ہو ویسا بھیس ہونا چاہیے یعنی ماحول کے مطابق اور یہ اہم بات ہماری درس گاہوں کے پیدا کردہ نا ڈیزائنر سمجھتے ہیں اور نا ہی یہ تحقیق کرتے ہیں کہ ہر معاشرے میں کسی ڈیزائن کا کیا مطلب ہوتا ہے۔

ایسا ہی کچھ حروفی ڈیزائن والے لباس کے ساتھ ہوا۔ کچھ عرصہ قبل ایک برانڈ نے ایسے ڈیزائن اردو حروف کے ساتھ متعارف کروائے جنہیں فوری طور پر ماہرین بھرکس کی توجہ حاصل ہو گئی۔ ماہرین بھرکسیات کی شبانہ روز محنت سے جلد ہی یہ ڈیزائن وطن عزیز کے ہر قابل ذکر بازار میں پائے جانے لگے۔ باقی ملک کی طرح ماشاءاللہ لاہور میں بھی یہ ارزاں نرخوں میں بآسانی دستیاب ہیں۔ یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ مذہبی جنونیوں کے جذبات تب تک مشعل نہیں ہوئے جب تک انہوں نے ایک خاتون کو ایسا لباس پہنے نا دیکھ لیا۔ بہت شور و غوغے کے اور پولیس کی مداخلت کے بعد یہ عقدہ کھلا کہ لباس پر لفظ حلوہ ڈیزائن کی صورت لکھا گیا تھا۔

لاہور میں ہونے اس واقعے نے ہمارے معاشرے میں موجود اور فعال ماہرین بھرکسیات کی موجودگی زندگی کے ہر شعبے میں کھول کر رکھ دی ہے۔ وہ تعلیمی اداروں میں دی گئی تعلیم کا بھرکس ہو یا بیانیہ کا ، سوشل میڈیا پر لڑی گئیں جنگیں ہوں یا زبان دانی کے مرکبات ہوں، گھروں کے ڈیزائن ہوں یا کپڑوں کے، یہ ماہرین اپنا کام پوری دلجمعی سے کر رہے ہیں۔ ان کی محنت کی وجہ سے آج ہم دو نمبری میں پہلے درجے پر ہیں۔ اور جہالت کے اعلٰی ریکارڈ قائم کر رہے ہیں۔ حبیب جالب صاحب کے مطابق:

یہ جو دس کروڑ ہیں
جہل کا نچوڑ ہیں
ان کی فکر سو گئی
ہر امید کی کرن
ظلمتوں میں کھو گئی
یہ خبر درست ہے
ان کی موت ہو گئی

جالب صاحب کے زمانے میں دس کروڑ تھے لیکن ہم نے آبادی کا بھرکس ایسے نکالا کہ آج پچیس کروڑ ہیں۔ ساری قوم اسی میں لگی ہوئی ہے اور دھڑا دھڑ ماہرین بھرکسیات میں اضافہ کر رہی ہے۔

Facebook Comments HS