انٹرا پارٹی الیکشن انٹراـ حقیقی سیاست کا واحد راستہ
حقوق، فرائض اور ذمہ داری کے تعین کے لیے اور نظام حکومت کے طریقہ کار کے لیے، تاریخی اور سماجی ارتقاء کے بعد اب تک جمہوری نظام ہی کو سب سے بہتر نظام سمجھا جاتا ہے۔ جس میں عوام کا اپنے نمائندوں کا چناؤ بذریعہ رائے دہی یعنی ووٹ کا استعمال بین الاقوامی طور مسلم تسلیم شدہ امر ہے۔ جس سے کہیں بھی اور کسی بھی طور انکار کی کوئی گنجائش نہیں۔
جمہوریت پر یقین رکھنے والے، اس کے لیے جدوجہد کرنے والے اور اس کو اپنانے اور چلانے کے لیے سیاسی پارٹیاں ہی میدان میں سرگرم عمل رہتی ہیں۔ ہر سیاسی پارٹی عوام کی خدمت کے لیے مسند اقتدار تک پہنچنے کے لیے عوامی حمایت کی محتاج ہوتی ہے۔ اس لیے وہ عوامی مسائل، مشکلات، ضروریات اور خواہشات کا تجزیہ کرتی ہے، نشاندہی کرتی ہے اور اس کے حل کے لیے پروگرام مرتب کرتی۔ اور میدان میں کھود کر زیادہ سے زیادہ عوامی تائید حاصل کرنے کی بھر پور کوشش کرتی ہے۔ تاکہ جمہوری طریقے سے ملک و قوم کی خدمت کر سکے۔
ملک کے لیے جمہوری نظام پر ایمان رکھیے والے لامحالہ اپنے اور اپنی پارٹی کے لیے بھی جمہوری راستہ اپنانے کے ہی پابند ہوتے ہیں۔ ایسا نہ صرف ہی ہونا چاہیے بلکہ لازمی ہے۔
سوائے دو چار ہی کے ایسی سیاسی پارٹیاں جو ملک میں آئین کے مطابق ہر پانچ سال بعد انتخابات چاہتے ہیں۔ اور اگر اپنی مجبوریاں یا مصلحتیں نہ ہوں تو تھوڑی سی دیر سویر ہونے پر بھی آسمان سر پے اٹھاتی ہیں۔ لیکن اپنے پارٹیوں کے اندر کبھی الیکشن کا نام ہی نہیں لیا کرتے تھے۔ مرکزی صدر یا چیئرمین تو کیا عام اور چھوٹے چھوٹے عہدیدار بھی بیس بیس اور تیس تیس سال سے بھگوان بنے بیٹھے رہتے۔ ایسی پارٹیاں اپنے ہی پارٹی آئین کو جوتے کے نوک پے رکھ کے آئین اور جمہوریت کی بالادستی کی لاگ الاپتے رہتے۔
نیت نیک تھی کہ بری کہ سال 2002 میں پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ 1962 کو ختم کر کے پولیٹکل پارٹیز آرڈر 2002 لاگو کیا گیا۔ ساتھ ہی مزید قواعد بھی پولیٹیکل پارٹیز رولز 2002 بھی لاگو کیے گئے ہیں۔ جس کی رو سے سیاسی پارٹیوں پر لازم کر دیا گیا ہے۔ کہ پارٹی فنڈنگ۔ اس کے ذرائع۔ آڈٹ وغیرہ کا باقاعدہ سالانہ رپورٹ الیکشن کمیشن کے پاس جمع کرائیں گے۔ اور ساتھ ہی کئی دیگر امور کے، ہر ایک پارٹی کو اس امر کا بھی پابند بنا دیا گیا ہے کہ وہ اپنے ہی پارٹی کے آئین کے مطابق، جو انہوں نے پارٹی رجسٹریشن کے وقت الیکشن کمیشن میں جمع کرائی ہوتی ہے، مقررہ مدت میں پارٹی کے اندر کے (انٹرا ہارٹی) انتخابات کرا کے سات دن کے اندر الیکشن کمیشن کو بمعہ نو منتخب عہدیداروں کے فہرست کے ساتھ جمع کرائے۔ ایسے اور دیگر امور کی پابندی نہ کرنے کی صورت میں ایسی پارٹی کی رجسٹریشن کی نہ تجدید ہو سکتی ہے اور نہ ہی الیکشن میں حصہ لے سکتی ہے۔
دنیا کے کئی ممالک کی طرح برصغیر اور قرب و جوار کے کئی ممالک میں موروثیت اور شخصیت پرستی اس انتہاء کو پہنچی ہوئی ہے کہ آج بھی بڑی تعداد میں لوگ زندہ تو کیا قبروں کو سجدے کرتے ہیں۔ ایسے حال میں سیاسی پارٹیوں کے بانیان یا ان کے خاندان والوں کے لیے تو قیادت اور پارٹی کو مٹھی میں رکھنے کا سرے سے کوئی مسئلہ ہی نہیں ہوتا۔ البتہ اپنے ہم نوا، عزیز و اقارب اور لنگوٹیوں کو عہدے دلانے کے لیے ان کو کئی قسم کے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔
جس کے لیے ان کی ترجیحی پالیسی اتفاق رائے کا حصول ہوتا ہے۔ اس کے لیے وہ طرح طرح کے طریقے اپناتے ہیں۔ بصورت دیگر اگر انتخابات ناگزیر ہو تو بھی پارٹی کے بڑے ایسے گر استعمال کرتے ہیں کہ اپنے ہی بندے منتخب کرا دیتے ہیں۔ اور تو اور اگر کسی آئینی یا دوسری کوئی وجہ ان دلاروں کا پھر سے انتخاب میں رکاوٹ ہو تو یہ نچلے کیڈر کے لوگ بھی پہلے سے ہی اپنے جانشین مقرر کر دیتے ہیں۔ ان کو کارکنان اور رہنماؤں سے میل ملاپ اور دیگر کئی طریقوں سے سامنے لاتے اور چمکاتے رہتے ہیں۔ اور پھر ہوتا بھی وہی ہے جو بڑے اور ان کے گماشتے چاہتے ہیں۔
اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ آہستہ آہستہ پارٹی کے تنظیمی اور مالیاتی انور کی بھاگ دوڑ مخصوص ٹولے کے ہاتھوں چلا جاتا ہے۔ اور وہ ہی بالواسطہ پارٹی کے مالک بن جاتے ہیں۔ اور اصل مالکان بھی ان کے رحم و کرم پر رہ جاتے ہیں۔
اس سارے عمل میں پارٹی کے اصل نظریاتی، بنیادی، دیرینہ اور پارٹی کی روح سے اشنا کارکنان پس پردہ چلے جاتے ہیں۔ اور پارٹی کو ابن الوقت، خوشامدی اور جذباتی نعروں تک محدود لوگ، پارٹی، اس کے آئین، منشور کو عوامی خدمت کی بجائے اپنی مرضی اور مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ جو بہ الفاظ دیگر نہیں بلکہ یقینی طور پر عوام کے ساتھ غداری نہیں تو دھوکہ دہی ضرور ہے۔ مزید اسی فصلی بٹیروں کی وجہ سے ہمارے سیاست میں ہارس ٹریڈنگ اور لوٹا ازم پروان چڑھ گیا ہے۔ جس طرح غیر جانبدارانہ، صاف اور شفاف ملک کے لیے ضروری ہیں اس سے بھی بڑھ کے ایسے ہی انٹرا پارٹی انتخابات سیاسی پارٹیوں میں لازمی ہیں۔


