پنگوں کی کتھا۔ پہلا پنگا : جب میں نے بھرے بازار سانڈے کا تیل بیچا

زندگی میں ہم متعدد مرتبہ ایسی صورتحال سے نبرد آزما ہوتے ہیں، جب بظاہر ہر بات ہمارے خلاف جا رہی ہوتی ہے یا ہم ایسی مشکل میں پھنس جاتے ہیں جس سے نکلنے کے لئے حاضر دماغی کے ساتھ ساتھ کچھ فنکارانہ کام، سچ جھوٹ کی آمیزش سمیت، کرنا پڑ جاتے ہیں۔ وہی وکیلوں والی کہانی کہ اپنے موکل کا الو سیدھا کرنے کے لئے مخالف کو انصاف ملے یا نہ ملے انہوں نے اپنا جادو دکھانا ہوتا ہے۔
تحریر کا یہ سلسلہ، انہی پنگوں، شرارتوں یا الو سیدھا کرنے کی داستان ہے، جو میں نے اپنی زندگی میں اس وقت اختیار کیے جب تندی باد مخالف مجھے کہیں اور لے جا رہی تھی اور میں کہیں اور نکل جاتا تھا۔
میں شروع سے قائل ہوں کہ صرف تعلیم نہیں، اچھی تعلیم ضروری ہے یعنی اگر میٹرک پاس بھی ہو تو اچھی اردو یا انگریزی لکھ اور بول سکتا ہو۔ حساب کتاب کرنا جانتا ہو۔ پھر انٹر بی اے سے اتنا فرق نہیں پڑتا۔ ہر ایک کو کسی نہ کسی ہنر کا ماہر اور دوسرے کاموں کی تھوڑی بہت شدبد ہونی چاہیے کہ اس طرح کبھی ایمرجنسی میں یہ کام دال روٹی کمانے کا سبب بن سکتے ہیں۔
اپنے طالب علموں کو میں ہمیشہ کہتا تھا آپ کو پاکستان کا قومی ترانہ پورا لکھنا آنا چاہیے اور پاکستان کا نقشہ، ساتھ اہم شہر اور دریا کی لکیریں۔ یقین کریں ان معلومات سے میں نے زندگی میں متعدد مرتبہ فائدے اٹھائے۔
میں اپنی زندگی میں کم از کم دو مرتبہ اغوا بھی ہوا اور کئی مرتبہ ٹریپ ہوا یعنی بال بال بچا مگر بزرگوں کی دعائیں ہر بار بچا لیتی تھیں۔ شاید یہاں وہ سب بھی پڑھنے کو ملے کہ اس سے کسی کا بھلا ہو جائے۔
ایک دلچسپ وہ روداد ہے جب این ای ڈی کراچی کے زمانہ طالب علمی کے دوران اگست 1987 کی ایک دوپہر، میں صدر ایمپریس مارکیٹ پر کھڑا تھا۔ ریڈیو پاکستان سے وصول کیا اپنے پروگرام ذہانت شرط ہے کا کراس چیک مجھے کسی راک فیلر سے کم احساس نہیں دے رہا تھا (جس کی مالیت دو سو روپے تھی۔ جبکہ اس وقت، میری بہشتی استانی والدہ کی تنخواہ شاید پانچ چھ سو روپے تھی) لیکن پریشانی کی بات یہ تھی کہ ریڈیو پاکستان سے پیدل، ایمپریس مارکیٹ آتے وقت میں ریگل سنیما کے سامنے جوس کی دکان پر رکا تھا۔ جہاں کسی نے میری جیب پر ہاتھ صاف کر دیا تھا۔ جیب کٹنے کی وجہ سے اب ہمدرد دوا خانے سے ملیر کھوکھراپار گھر واپس جانے کا ( 15 نمبر کی سرکاری بس) کا کم از کم کرایہ بھی میری جیب میں نہیں تھا۔ اور وہ بھی کتنا شاید تیس پیسے۔
٭وہ زمانہ سستا تھا پھر بھی ہر رقم کو 2024 میں سمجھنے کے لئے 60 سے 100 تک ضرب دے سکتے ہیں۔
ایک طریقہ تو یہ تھا کہ اپنے علاقے کی بس کے ٹرمینل کے پاس جاکر کھڑا ہو جاؤں اور کسی پہچان والے کے آنے کا انتظار کروں اور اس کی مدد سے واپسی کے زاد راہ کا بندوبست ہو۔ لیکن اس میں کچھ اور بھی مسائل تھے وہی یعنی فلاں کے صاحبزادے بے سرو ساماں فلاں جگہ موجود تھے اور میں نے اس وقت۔ ۔ ۔
ایک اور خیال آیا کہ ریڈیو پاکستان پیدل واپس جایا جائے اور ”نقی بھائی“ ، ( پروگرام پروڈیوسر اور آنٹی عفت نقی کی شوہر اور آج کی معروف اینکر نادیہ نقی کے والد) یا حضرت عظیم سرور یا اکاؤنٹس میں سے ہی کسی سے چیک کے بدلے کچھ رقم لی جائے۔
دوپہر کے ڈیڑھ بج رہے تھے۔ اور میں ریڈیو پاکستان واپس جانے کے لئے پر تول ہی رہا تھا۔ جس کے لئے یک طرفہ پون گھنٹا پیدل چلنا یقینی تھا۔ اتنے میں میری نظر لب سڑک بیٹھے ایک شخص پر پڑی جو اپنا منجن یعنی ہر وہ چیز جس کی مارکیٹ میں ڈیمانڈ ہو زمین پر اپنی سلطنت کھینچے بیچ رہا تھا۔ اردگرد بیس پچیس لوگوں کی بھیڑ تھی۔ میں اس قسم کے مجمع سے ہمیشہ دور ہی رہا تھا کیونکہ ایک تو مشہور تھا کہ جیب کٹنے کا خدشہ ہوتا ہے، ”جو میں پہلے ہی کٹوا چکا تھا“ ۔
دوسرا معاملہ اس سے بھی خوفناک تھا اور وہ یہ کہ چند ہفتے پہلے ہی صدر ہی کے علاقے بوہری بازار میں روسی اور افغان انٹیلی جنس کے لوگوں نے دو کاروں کے ذریعہ بھیانک بم بلاسٹ کیے تھے جس سے 72 سے زائد پاکستانی اپنے گھر والوں کو اللہ کے سہارے چھوڑ گئے تھے۔ عقل کا تقاضا بھی یہی تھا کہ ایسے مجمع سے دور رہا جائے، کیونکہ مزید دھماکے متوقع تھے۔ لیکن جن کی روٹی روزی دیہاڑی داری سے منسلک ہو وہ بیچارے کب تک ایسا کرتے، غربت سے مرنے سے بہتر ہے، غریب بم دھماکے میں مرے۔ سو زندگی اسی بے ڈھب طریقے پر واپس آ چکی تھی۔
اس شعبدے باز شخص کی چرب زبانی، اس وقت اپنے جوبن پر تھی، جسے میں مداری کہتا تھا۔ وہ سانڈے کے تیل کے فوائد گنوا رہا تھا جو مجھ جیسے 22 سالہ شریف النفس اور پڑھاکو کے سر سے گزر رہا تھا۔ سوائے یہ کہ: ”اس کے استعمال سے کوئی شے اتنی سخت ہوجاتی ہے کہ پتھر مارو تو ٹھک ٹھک کی آواز آئے“ ۔ یہ تماشا میں ایک بار پہلے بھی مارے تجسس اور اضافہ علم کے لئے دیکھ سن چکا تھا۔
میں جو پہلے ہی ریڈیو پاکستان سے پیدل آیا تھا واپس جانے سے پہلے وہاں چند لمحوں کے لئے سستانے کھڑا ہو گیا۔ اردگرد دیکھا تو چند ہپی یا گورے، اپنی میموں کے ساتھ مداری کی کہانی سن کر سر کھجا رہے تھے۔
مجھے شرارت سوجھی اور میں گوروں کے پاس جاکر بات کرنے لگا کہ شاید مترجم کا کام مل سکے۔ انہوں نے جو مسئلہ گوش گزار کیا اسے سن کر میرے کانوں سے دھواں نکلنے لگا۔ میں نے انہیں وہیں رکنے کا کہا اور ایک ساعت، جب مداری سانس لینے رکا تھا اس کے پاس جاکر اس سے بات کرنے لگا۔ مداری گھاگ شخص تھا اور طالب علموں سے دور رہتا تھا۔ لیکن میں نے اسے بتایا کہ میں تمہارا سامان جنس اچھے بھاؤ بیچ سکتا ہوں۔ بشرطیکہ تم ایک موقع دو ۔ اس نے کچھ دیر سوچا اور ففٹی ففٹی پر مان گیا۔ میں نے اس کی کمائی سے کون سا سہگل بن جانا تھا لیکن میری بھی کاروباری حس جاگی اور میں نے اس سے کہا کہ لالچ مت کرو۔ جو اصل قیمت ہے تم صرف اس پر اکتفا کرو اس سے اوپر آج جو ہو گا وہ میرا۔ ففٹی ففٹی کل سے۔
اس نے سوچا اور مان گیا۔
پوچھا کہ اس کے پاس کیا کیا چیزیں برائے فروخت ہیں۔
منجن تھا جسے لگا کر بوڑھوں کے گر چکے دانت دوبارہ اگ جاتے اور وہ گنا چھیل سکتے۔ سانڈے کا تیل تھا جس کے فوائد میں بمشکل سمجھ سکا۔ اور سرمہ سلیمانی تھا جسے لگا کر اندھا اندھیرے میں دیکھنے لگے۔
میں نے اس سے پوچھا، یہ بتاؤ سلاجیت ہے۔ وہ حیرت سے میری طرف دیکھ کہنے لگا، ابھی تو نہیں لیکن دس پندرہ منٹ میں پیدا کر سکتا ہوں۔ اس کے پاس مختلف رنگ برنگے شیشے بھی پڑے تھے، جو انگوٹھیوں میں بطور نگینے کام آتے تھے۔ گاہے بگاہے لوگ ہم سے کچھ چیزوں کی قیمت پوچھ لیتے تھے۔ کچھ بور ہو کر جانے کے لئے پر تول رہے تھے کہ مداری نے آواز لگائی کے صاحبان، دل تھام کر سنیں کہ اب میرا بھتیجا، آپ کو ان چیزوں کے بارے میں اپنے طریقے سے بتائے گا۔
پینٹ شرٹ پہنے بھتیجے یعنی میں نے گلا کھنکارا اور ”داستان جھوٹی حمزہ“ کی ابتدا کی۔ میں آہستہ آہستہ بول رہا تھا۔ لیکن ساتھ انگریزی کا تڑکا بھی لگا رہا تھا۔ مقامی لوگ جہاں شوق سے سننے لگے وہیں وہ غیرملکی بھی اب سمجھنے لگے کہ کیا مال فروخت کے لئے دستیاب ہے اور اس کے کیا فوائد ہیں۔
آہستہ اور ناپ تول کر بولنے کا فائدہ یہ بھی تھا کہ مجھے آگے کا متن تبدیل کرنے میں آسانی ہو رہی تھی۔ ”متعدد انٹر کالجیٹ تقریری مقابلوں میں چھوٹے موٹے انعام جیتنے والے انجینئر صاحب پانچ منٹ بعد فارم میں آچکے تھے“ ۔
میرا دماغ تیزرفتاری سے ملٹی پروسیسنگ اور ملٹی ٹاسکنگ کر رہا تھا۔ یکایک مجھے یاد آیا کہ میری کچھ خفی علوم پر اچھی دسترس ہے، جو میں نے والد صاحب کی کتابوں سے سیلف سٹڈی کر کے سیکھ رکھے تھے۔ اور جس کی وجہ، مال کمانا نہیں، بلکہ نوجوانی میں محض بطور شغل، لڑکیوں کی قربت کا حصول تھا۔ پامسٹری (دست شناسی) ، علم جفر، علم رمل کے ساتھ ساتھ ستاروں اور سیارگان کے علوم پر تو مجھے تھوڑی بہت شدبد حاصل تھی ہی، ساتھ میرا حافظہ اور حساب بھی لاجواب تھا کہ میں اس دور کا چلتا پھرتا کیلکولیٹر کہلاتا تھا۔

