پی ٹی آئی کا سنی اتحاد کونسل سے ’سیاسی حلالہ‘


عمران خان کی گرفتاری اور مقدمات میں سزا تحریک انصاف کے لئے بہت بڑا جھٹکا تو ہے ہی مگر الیکشن میں ’بلے‘ کے نشان سے محرومی ناقابل تلافی نقصان ثابت ہو رہا ہے۔

پی ٹی آئی نے اسمبلیوں کے اندر سنی اتحاد کونسل (ایس آئی سی) سے اتحاد کر کے مجبوراً قانونی تقاضا پورا کیا ہے مگر خدشہ ہے اس ’سیاسی حلالہ‘ کے کہیں لینے کے دینے نہ پڑ جائیں۔ پاکستان میں کچھ بھی ممکن ہے۔

تحریک انصاف نے یہ اس لئے کیا تاکہ اسے بطور پارٹی طے شدہ تناسب سے مخصوص اور اقلیتی نشستیں بھی مل سکیں۔ الیکشن رولز 2017 کی شق 104 کی رو سے الیکشن میں حصہ لینے والی ہر سیاسی پارٹی کی طرف سے الیکشن کمیشن کو جاری شیڈول کے مطابق مخصوص اور اقلیتی نشستوں کے امیدواروں کے ناموں کی فہرست جمع کرائی جاتی ہے۔ پی ٹی آئی نے ناموں کی یہ فہرست جمع کرائی تھی مگر جب سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے کی روشنی میں بلے کا نشان واپس لے لیا گیا تو وہ فہرست قانونی طور پر غیر موثر ہو گئی۔

جب بلا نشان نہ ملا تو پی ٹی آئی کے امیدوار الگ الگ نشانوں پر بطور آزاد امیدوار انتخابی میدان میں اترے۔ اب پی ٹی آئی کی طرف سے ایس آئی سی کا پلیٹ فارم استعمال کرنے کی وجہ یہ ہے کہ پارلیمان میں بطور پارٹی اپنا وجود ثابت کرتے ہوئے ان نشستوں کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکے۔

پی ٹی آئی کے منتخب اراکین اسمبلی پر سنی اتحاد کونسل کا ٹیگ لگ گیا ہے۔ پنجاب اسمبلی میں سپیکر کا انتخاب ہو یا وزیر اعلیٰ کا میڈیا نے اپنی کوریج میں انہیں نون لیگ اور سنی اتحاد کونسل کے امیدواروں کے مابین مقابلہ قرار دیا ہے۔ ایسا ہی سندھ اسمبلی میں سپیکر یا ڈپٹی سپیکر کے انتخاب میں ہوا ہے۔

اب قانونی صورت حال یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ اراکین اسمبلی ہر چند کہ پی ٹی آئی کے اراکین ہیں بھی اور نہیں بھی۔

ادھر سربراہ ایس آئی سی حامد رضا نے کہا ہے کہ ہمارا پی ٹی آئی سے اتحاد چھ برس سے چل رہا ہے۔ انہوں نے یہ کہا بلکہ انکشاف کیا ہے کہ اگر بلے کا نشان واپس نہ لیا جاتا تو سنی اتحاد کونسل اور مجلس وحدت المسلمین بھی بلے کے نشان پر الیکشن لڑتیں۔

مخصوص اور اقلیتی نشستیں سیاسی پارٹیوں میں ان کے تناسب کے حساب سے بانٹی جا چکی ہیں یا بانٹنے کا عمل جاری ہے۔ یہ نشستیں اگر کسی جماعت کو نہیں مل رہیں تو وہ تحریک انصاف ہے۔ مگر، یہاں آپ پوچھ سکتے ہیں کہ تحریک انصاف ہے کہاں؟ وہ تو سنی اتحاد کونسل میں شامل ہو چکی ہے۔ مخصوص اور اقلیتی نشستیں دینے کا معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔

اب آپشن دو ہی ہیں۔ یا تو عدالت مذکورہ نشستیں پی ٹی آئی کو دے گی یا نہیں دے گی۔ اگر دے دیتی ہے تو پھر مزید دو آپشن سامنے آئیں گے۔ ایک یہ کہ یہ نشستیں سنی اتحاد کونسل کو ملیں گی جس میں تحریک انصاف نے پارٹی شناخت کی غرض سے شمولیت اختیار کر رکھی ہے۔ دوسرا یہ کہ یہ تحریک انصاف کو ملیں گی جو تکنیکی لحاظ سے پارلیمان میں اپنا وجود نہیں رکھتی۔ گویا سارا مسئلہ بلے کے نشان سے محرومی کی وجہ سے پیدا ہوا۔ اگر ایس آئی سی کو نشستیں مل جاتی ہیں تو یہ عرف عام میں ایس آئی سی کی نشستیں ہی شمار ہوں گی۔

ایس آئی سی سے اتحاد تحریک انصاف کا پلان سی تھا۔ پلان بی تحریک انصاف نظریاتی سے اتحاد تھا جس سے باوثوق ذرائع کے مطابق ایک تحریری معاہدہ بھی ہوا اور پی ٹی آئی نظریاتی کے سربراہ (جس کی پورے ملک میں ایک بھی سیٹ نہیں) اختر اقبال ڈار نے بطور فریق اپنے دستخط ثبت کیے۔ اس پر تحریک انصاف خوش تھی کہ انتخابی نشان پر الیکشن لڑنے کے لئے ایک رستہ نکال لیا ہے۔ مگر بہت برا ہوا عین وقت پر ڈار صاحب اپنے معاہدے سے پھر گئے اور واقفان حال کہتے ہیں کہ ان کو اٹھا لیا گیا، ان سے لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس کروائی گئی جس میں انہوں نے پی ٹی آئی سے کسی قسم کے معاہدے سے انکار کر دیا۔ انہیں ایک صحافی نے اپنے موبائل فون سے معاہدے کی نقل دکھائی مگر انہوں نے کہا کہ یہ دستخط میرے نہیں۔ وہیں ایک دوست نے جب ان سے سوال کیا کہ آپ پر الزام ہے کہ آپ ایجنسیوں کے آدمی ہیں تو انہوں نے جوا باً کہا: ”کیا بات کر رہے ہیں آپ؟“

ایس آئی سی (تحریک انصاف کے حمایت یافتہ اراکین کی وجہ سے) ممکنہ طور پر پارلیمنٹ میں کافی بڑی جماعت ہوگی۔ اب بعضوں کی طرف سے یہ دریافت کیا جا رہا ہے کہ پارٹی کو کوئی گائیڈ لائن دینی ہو تو حامد رضا کی چلے گی یا عمران خان کی؟ اور یہ بھی سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ پی ٹی آئی اور سنی اتحاد کونسل میں کسی ایشو پر کسی قسم کا کوئی اختلاف پیدا ہی نہیں ہو گا؟

یہ صورتحال تحریک انصاف کو پاتال میں گرا سکتی ہے۔ اس سے نکلنے کے لئے بہتر یہی ہے کہ پی ٹی آئی جلد از جلد کوئی قانونی حل نکال کر اپنی پارٹی کی شناخت ہی کو سامنے لائے۔

ایک بڑے اسلامی فرقے کی فقہ (جسے دیگر چھوٹے فرقوں کی تائید بھی حاصل ہے) کے مطابق اگر کوئی خاتون طلاق ثلاثہ کے بعد اپنے خاوند کی طرف لوٹنا چاہے تو اسے اس سے پہلے کسی اور شخص سے شرعی نکاح کرنا ہو گا۔ وہ شخص یعنی دوسرا خاوند اس سے جسمانی تعلق قائم کرنے کے بعد اسے طلاق دے گا۔ اس طلاق کے بعد وہ دوبارہ عدت گزارنے کے بعد پہلے خاوند سے نکاح کر سکتی ہے اور اس کے لئے وہ بیوی حلال ہو جائے گی۔ اسے ’حلالہ‘ کہتے ہیں۔

ایک بار ہوا یوں کہ ایک طلاق یافتہ خاتون کی حلالہ کی غرض سے دوسری شادی ایک مولوی صاحب سے کر دی گئی۔ اس نے حق زوجیت بھی ادا کرنا شروع کر دیے۔ مگر معاملہ الٹ ہو گیا۔ خاتون اس مولوی صاحب پر مر مٹی اور مولوی صاحب بھی طلاق دینے سے انکاری ہو گئے۔

تو تحریک انصاف نے اپنی پارٹی کی شناخت قائم کرنے اور مخصوص نشستوں کو حاصل کرنے کے لئے سنی اتحاد کونسل سے اتحاد کا مجبوراً رسک تو لے لیا ہے مگر سوال یہ ہے کہ اگر مطلوبہ اہداف پورے نہ ہوئے اور مخصوص نشستیں بھی نہ ملیں تو سنی اتحاد کونسل سے پی ٹی آئی کے اس ’سیاسی حلالہ‘ کا کیا بنے گا؟

Facebook Comments HS