آئرن لیڈی مریم نواز پنجاب کی 21 ویں وزیر اعلیٰ
میں نے آج سے ٹھیک 6 سال قبل 17 فروری 2018 ء کو مریم نواز کو نواز شریف کا سیاسی جانشین بنائے جانے کی پیشگوئی کی تھی کہ نواز شریف نے اپنی زندگی میں ہی مریم نواز کو اپنا سیاسی جانشین بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ان کے اس فیصلے کے خلاف پہلی بغاوت چوہدری نثار علی خان نے کی جنہیں سائیڈ لائن کر دیا گیا۔ چوہدری نثار علی خان مریم نواز کیمپ کا پہلا ٹارگٹ بنے ممکنہ طور پر وہ مریم نواز کی سیاست کی راہ میں حائل ہو سکتے تھے۔ لہذا ان کا بوجھ اتار دیا گیا۔
نواز شریف مریم نواز کے سیاست میں آنے کے سخت مخالف تھے۔ وہ مشرقی روایات کے علمبردار تھے۔ وہ یہ سمجھتے تھے۔ پاکستانی معاشرے میں عورت کے لئے سیاست میں حصہ میں خاصی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن بیگم کلثوم نواز مریم نواز کی ملکی سیاست میں دلچسپی کے باعث میاں صاحب کو مسلسل قائل رہیں وہ مریم نواز بارے میں شائع ہونے والے کالم نواز شریف کو پڑھ کر سنا کرتی تھیں۔ بالآخر نواز شریف کو قائل کرنے میں کامیاب ہو گئیں انہوں نے مریم نواز کو محدود پیمانے پر سیاست میں حصہ لینے کی اجازت دے دی۔
مریم نواز کو مسلم لیگ (ن) کی سوشل میڈیا ٹیم کا سربراہ بنا یا گیا تو کئی حلقوں میں ان کی ٹیم کی جارحانہ مہم کی تپش محسوس کی گئی اگرچہ مریم نواز سعودی عرب میں جلاوطنی کے زمانے سے مجھے جانتی تھیں لیکن ان سے پہلی ملاقات اس وقت وزیر اعظم ہاؤس میں ہوئی جب نواز شریف کے اقتدار کا سنگھاسن ڈول رہا تھا۔
سوشل میڈیا ٹیم کے ارکان جن میں پرویز رشید، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، بیرسٹر دانیال چوہدری اور مصدق ملک کے نام قابل ذکر ہیں۔ موجود تھے۔ کیپٹن (ر) محمد صفدر سے ملاقات تو سعودی عرب میں جلاوطنی کے دور میں ہوتی رہتی تھی۔ مریم نواز سے پہلی ملاقات میں ہی اندازہ ہو گیا کہ ان کے اندر چھپا سیاست دان ایک دن پوری آب و تاب سے آسمان سیاست پر چمکے گا۔ نواز شریف کے اقتدار کے خاتمہ کے ساتھ ہی مریم نواز کو بھی ناکردہ گناہوں کی سزا دی گئی اور انہیں بھی میاں صاحب کے ساتھ جیل میں ڈال دیا مجھے اس دوران اڈیالہ جیل میں نواز شریف اور مریم نواز سے ملاقاتوں کا موقع ملا ہے۔
مجھے جہاں نواز شریف کے چہرے پر پریشانی کے کوئی آثار نظر نہیں آئے وہاں مریم نواز کو آئرن لیڈی پایا یہی وہ جیل ہے جس میں نواز شریف اور مریم نواز کو بیگم کلثوم نواز کی وفات کی اطلاع ملی تھی۔ مریم نواز نے جرات و استقامت سے جیل کاٹی اور اپنے آپ کو نواز شریف کی کمزوری نہیں بننے دیا انہوں نے نواز شریف کی برطانیہ میں چار سالہ جلاوطنی کے دوران نواز شریف کی کمی کو پورا کرنے کی بھرپور کوشش کی
شہباز شریف مسلم لیگ (ن) کے صد تو تھے ہی لیکن ان کو مریم نواز کی معاونت حاصل رہی اس دوران مریم نواز کی مسلم لیگ (ن) پر گرفت خاصی مضبوط ہو گئی ان کو جلسوں میں ملنے والی پذیرائی کے پیش نظر نواز شریف نے مریم نواز کو پارٹی کا چیف آرگنائزر و سینئر نائب صدر بنایا تو خلاف توقع پہلا استعفیٰ شاہد خاقان عباسی کا آیا۔ عام انتخابات سے قبل ہی ان کی مسلم لیگ (ن) سے راہیں جدا ہو گئیں۔ چوہدری نثار علی خان نے جو راستہ 6 سال پہلے اختیار کیا وہ شاہد خاقان عباسی نے اب اختیار کر لیا۔
لال حویلی کا مکین مسلم لیگ نون سے ش نکلنے کی پیشگوئی کرتے کرتے خود نشان عبرت بن گیا اگر چہ 21 اکتوبر 2024 کے انتخابات میں نواز شریف اور مریم نواز کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ وفاق میں مسلم لیگ (ن) واحد اکثریتی جماعت بن کر نہ ابھری لیکن 2018 کی طرح اسے پنجاب جو مسلم لیگ (ن) کا پاور بیس ہے۔ اکثریت مل گئی نواز شریف نے وفاق میں شہباز شریف کو وزیر اعظم بنا نے اور اپنی صاحبزادی مریم نواز کے حوالے کرنے کا سرپرائز دیا ہے۔ بظاہر مریم نواز میدان سیاست میں طفل مکتب نظر آتی ہیں لیکن نواز شریف نے انہیں اپنے آخری دور حکومت میں نہ صرف رموز سیاست سے آگاہ کر دیا پارٹی کو ان کے تابع کر دیا جیل یاترا نے انہیں کندن بنا دیا۔
مریم نواز کے لئے اس منصب کا انتخاب کیا گیا ہے جس پران کے والد نواز شریف اور چچا شہباز شریف متمکن رہ چکے ہیں۔ عام انتخابات کے نتائج کے مطابق پنجاب جو کہ نہ صرف ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے بلکہ پاور بیس ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے حصے میں آیا ہے۔ 1947 ء سے لے کر اب تک 20 وزرائے اعلیٰ تخت لہور پر براجمان ہوئے ہیں۔ ان میں افتخار حسین ممدوٹ، ممتاز دولتانہ، ملک فیروز خان نون، عبدالحمید دستی، معراج خالد، غلام مصطفیٰ کھر، حنیف رامے، صادق حسین قریشی، نواز شریف، غلام حیدر وائیں، منظور وٹو، شیخ منظور الہی، عارف نکئی، میاں افضل حیات، شہباز شریف، چوہدری پرویز الہی، شیخ اعجاز نثار، دوست محمد کھوسہ، نجم سیٹھی، حسن عسکری، عثمان بزدار، حمزہ شہباز، اور محسن رضا نقوی کے نام قابل ذکر ہیں۔
پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کو واضح اکثریت ملنے سے اہم فیصلے کرنے میں کوئی رکاوٹ درپیش نہیں ہو گی۔ مسلم لیگ (ق) اور استحکام پاکستان پارٹی کی حمایت سے صوبائی حکومت کفرٹ ماحول میں کام کرنے کا موقع ملے گا لیکن سنی اتحاد کونسل کی صفوں میں شامل ہونے والے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ ارکان مسلم لیگی حکومت کو سکھ کا سانس نہیں لینے دیں گے۔ وہ پنجاب اسمبلی کو نہ چلنے کے ایجنڈا سے آرہے ہیں۔ وہ ہے۔ کھیڈاں گے۔ نہ کھیڈن دیواں گے۔
پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن بات بات پر ہنگامہ آرائی برپا کرے گی۔ پنجاب اسمبلی کو خوش اسلوبی چلانا مسلم لیگ (ن) کے لئے ایک بڑا امتحان ہو گا۔ وزیر اعلیٰ کو جارحانہ مزاج کو جاتی امرا میں چھوڑ کر ایوان میں آنا ہو گا اور انہیں اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی پر برداشت اور صلح جوئی کی پالیسی اختیار کرنا ہو گی۔ مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ غریب آدمی کو 200 یونٹ مفت بجلی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔
پہلی جماعت سے پی ایچ ڈی تک مفت تعلیم کر کے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی لوٹ مار ختم کی جائے مفت علاج کے پروگرام کو یقینی بنایا جائے سڑکوں اور پلوں کی تعمیر سے زیادہ عام آدمی کے چہرے پر مسکراہٹ واپس لانا حکومت کا ایجنڈا ہونا چاہیے پنجاب اسمبلی کے ارکان کو جہاں وزیر اعلیٰ تک رسائی کو یقینی بنایا جانا ضروری ہے۔ وہاں انہیں ہفتہ میں ایک بار عام لوگوں کی براہ راست فون پر شکایات کو سننا چاہیے کرپشن پر زیرو ٹالرنس ہونی چاہیے منشیات کے دھندے کو بند کرنے کے لئے ضلع کی پولیس کے سربراہ ذمہ دار قرار دینا پڑے گا۔
مریم نواز ایک پر عزم اور باصلاحیت خاتون ہیں جس منصب پر وہ بیٹھی ہیں۔ اس پر جہاں ان کے والد نواز شریف اور چچا شہباز شریف بیٹھے ہیں۔ وہاں پاکستان کی بڑی قد آور شخصیات براجمان رہی ہیں۔ مریم نواز کی گڈ گورنس سے مسلم لیگ (ن) کا come back ہو سکتا ہے۔ چند سال قبل کی بات ہے۔ پنجاب میں پیپلز پارٹی کا طوطی بولتا تھا۔ کسی کو پیپلز پارٹی کے خلاف بات کرنے کی جرات نہیں ہوتی لیکن بیڈ گورنس نے پیپلز پارٹی کو اس مقام پر پہنچا دیا ہے۔ جہاں اسے امیدوار تلاش کرنا پڑ رہے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے لئے یہ آخری چانس ہے۔ ذرا بھی کوتاہی برتی گئی تو اس کا حال بھی پیپلز پارٹی جیسا ہو جائے گا۔


