نیو کالونیل ازم اور لاہور میں خاتون پر حملہ آور کی ذہنیت
پاکستان میں مذہبی منافرت کی جڑیں برطانوی سام راج کی نوآبادیاتی پالیسیوں کا نتیجہ ہے، مذہب کا کالونیل استعمال ملکہ برطانیہ کی سرپرستی میں کیا گیا، لڑاؤ اور حکومت کرو کا کالونیل منصوبہ کامیاب رہا برطانوی سام راج نے مذہبی شدت پسندی کو دوام بخشنے کے لیے دھرتی کا سینہ چیر کر انسانوں کے خون سے سرحدی لکیریں کھینچ دیں۔ یہ سرحدی لکیریں دونوں اطراف برابر آگ لگائے رکھتی ہیں۔
پاکستان کے مسلمان کو پاکستان کے مسلمان سے ہی جان کا خطرہ ہے، مذہب کے کالونیل تصورات رائج کرنے میں آل انڈیا مسلم لیگ نے برطانوی مفادات کو تقویت بخشی۔ لاہور میں خاتون کی قمیض پر حروف تہجی کو قرآنی آیات تصور کر کے حملہ آور ہونا، یہ مسلم لیگی ذہنیت کی یاد دہانی کراتی ہے جب متحدہ ہندستان میں علماء کرام کے سامنے لیگی کارکن ننگے ہو کر برہنہ جسموں کے ساتھ کھڑے ہو جاتے تھے۔
مذہبی منافرت کو زندہ رکھنا، دراصل نیو کالونیل ریاستی شناخت ہے۔ برطانوی سام راج کے پنجاب پر قبضہ سے پہلے، مغل حکمرانوں کے عہد میں لاہور، امن و سلامتی کا گہوارہ تھا۔ اکبر بادشاہ کے دور میں میاں میر دربار کے بالکل قریب دھرم پورہ کا علاقہ آباد تھا جہاں پر ہندو، سکھ، عیسائی، یہودی، مسلمان اور دیگر پیروکاروں کے درمیان بھائی چارہ تھا، باہمی علمی گفتگو کا تبادلہ ہوتا اور بین المذاہب ہم آہنگی تھی۔
نوآبادیاتی منتظمین نے برطانوی کالونیل پالیسی کے تحت، لاہور کے سماج کا فیبرک تبدیل کر دیا اور یہاں پر مذہبی شدت پسندی، نفرت کو تقویت بخشی جس کا بنیادی ہدف سماج کو تقسیم کرنا تھا تاکہ نوآبادیاتی حکومت کی استحصالی پالیسیوں کو قوت کے ساتھ نافذ رکھا جائے اور قومی سطح پر ایسی طاقت جنم نہ لے جو نو آبادکاروں کی چیرہ دستیوں کے آگے سیسہ پلائی دیوار نہ بن جائیں، لاہور میں برطانوی راج میں مسجد شہید گنج کا واقعہ ہو یا پھر تقسیم پنجاب کے وقت سکھوں اور مسلمانوں کا قتل عام، یہ نوآبادیاتی پالیسی کا عملی اظہار تھا، جب پنجاب کی نئی سرحدوں پر قتل و غارت گری ہو رہی تھی تو یہاں کے ڈپٹی کمشنرز، پنجاب کی فوج اور پولیس نے نفرت کے نئے بیج بونے میں سہولت کاری کا کردار نبھایا۔
اچھرہ، لاہور میں خاتون پر حملہ آور ہونا، اسی نفرت کی تازہ مثال ہے کہ مسلمان کو مسلمان سے خوف ہے، مسلمان مسلمان کی جان کا دشمن ہے۔ نیو کالونیل پاکستان میں مذہب کو گروہی اور ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھانے کے لیے ریاست سہولت کار ہے، پاکستان کے مذہبی تصورات کا غلبہ استعماریت کے بطن سے جنم لینے کے بعد سماج میں نافذ العمل ہے، اس خاتون کو کلیئرنس کا سرٹیفکیٹ دینے کے لیے آنے والے مذہبی نمائندوں کے اپنے تصورات گروہی و فرقہ وارانہ بنیادوں پر مدارس میں تشکیل دیے گئے ہیں وگرنہ یہ تینوں افراد جائے وقوعہ پر پہنچنے کے بعد ، وہاں پر موجود شدت پسند ہجوم کو وعظ کرتے اور انھیں وہاں سے منتشر کرنے میں کردار ادا کرتے، یہ تب ممکن ہوتا اگر مذہب کے قرآنی و شرعی تصورات انھیں ازبر کرائے جاتے۔
لاہور، علم و ادب کا گہوارہ تھا، یہ ماضی ہو چکا کیوں کہ یہاں کا علم و ادب امن کے برعکس تشدد، شدت اور آمرانہ تصورات کی آبیاری کر رہا ہے۔ بازار، شہر اور دیہات مذہبی منافرت کی زمیں ہیں۔ پاکستان کی سیاسی و معاشی اشرافیہ، قومی سماج کی تشکیل میں بڑی رکاوٹ بن چکے ہیں۔ خاتون پر حملہ آور جس طرح دکان کے باہر کھڑے ہو کر مذہبی نعرے لگا رہے تھے، یقیناً ان میں اکثریت مذہب کے بنیادی تصورات کو سمجھنے سے بھی عاری ہوگی، بازاروں میں سود کا کاروبار کرنے، ناجائز منافع خوری سے انسانوں پر عذاب الہی نافذ کرنے اور قرآن کے خلاف قائم ریاستی ڈھانچہ پر للکارنے کی بجائے ایک خاتون پر للکارنا، نوآبادیاتی ذہنیت کا عکاس ہے جسے نیو کالونیل پاکستان میں پروان چڑھایا گیا ہے۔
نیو کالونیل ریاست میں، نوآبادیاتی قوانین، ضابطہ، آئین، دستور، انتظامی ڈھانچہ اور ریاست کو آپریٹ کرنے والے امور کے تسلسل کو جاری رکھا گیا ہے، عدالت سے لے کر آئینی و انتظامی امور نوآبادیاتی ساخت کے مطابق چلائے جا رہے ہیں۔ شدت پسندی پر پاکستان کی جامعات کے نوجوان اور فیکٹری میں کام کرنے والے مزدور کا ذہن برابری سطح پر کھڑا ہے، نصابات کی میکالے کے اصولوں پر تقسیم، اذہان کو تقسیم کرنے کی وجوہات میں شامل ہے۔ پختونخوا کی یونیورسٹی میں ایسے ہی مذہبی شدت پسندی کے تحت مشال کا قتل ہوا، بہاولپور کی یونیورسٹی میں طالب علم کے ہاتھوں استاد کا قتل ہوا اور مذہبی شدت پسندی کے جامعات میں واقعات، دلیل ہیں کہ ہمارا نصاب کس نوعیت کے اذہان کی پرورش کر رہا ہے۔
میں نے یہ نکتہ ہمیشہ اٹھایا ہے کہ پاکستان کے نصاب تعلیم پر برطانوی پرچھائیں ہے اور نصابات کو نیو کالونیل مفادات کے تابع رکھنے کے لیے سیاسی حکومتوں کو برطانیہ اپنے اداروں کے ذریعے سے فنڈنگ فراہم کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ سماج میں فرد کی تعلیمی و علمی جہالت قرآنی آیت اور رسم الخط میں بھی فرق قائم رکھنے سے قاصر ہے۔ پاکستان کا سماج، سائنس و ٹیکنالوجی میں پسماندہ ہے، زرعی معیشت ہونے کے باوجود زرعی پسماندگی، خوراک کی قلت اور زرعی پیداوار ناقص و قدیم ضابطوں کے تحت کی جا رہی ہے۔
سیاسی جماعتوں کا پروٹوٹائپ دراصل، ذاتی خواہشات و مفادات کا قیدی ہے جس کے سامنے قومی مفاد و قومی ترقی کے تصورات کو گروی رکھا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے افتتاحی خطبہ میں اعلان کیا کہ سماج کی اجتماعی عقل و دانش کی حفاظت میری ذمہ داری ہے، کیا نوآبادیاتی عقل و دانش کو تحفظ فراہم کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے یا پھر نوآبادیاتی دانش کا قلع قمع کرنے کے لیے سیاسی اقدامات لیے جائیں گے؟


