جمہوریت سے پسپائی کا سفر
پچھلے ستر سالوں سے جمہوریت کی بالادستی کے لئے جدوجہد کرنے والی وہ سیاسی جماعتیں ماضی کی طرح ایک بار پھر سمجھوتوں کے ذریعے موہوم سا اقتدار حاصل کر کے اپنے سیاسی نصب العین سے دو قدم پیچھے ہٹ گئیں، جو بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد نہایت تیزی کے ساتھ آئین کی حکمرانی کی طرف بڑھتی نظر آتی تھیں۔ بلاشبہ متذکرہ بالا دونوں بڑی جماعتوں کو عمران خان کی فسطائی سیاست کی عوام میں بڑے پیمانہ پہ پذیرائی نے فنا و بقاء کے خط امتیاز پہ لا کھڑا کیا، اس سے تو یہی ثابت ہوا کہ یا تو ہمیں سرے سے جمہوریت کا ادراک ہی نہیں تھا یا پھر ہمارا سماج بتدریج زوال عقل کا شکار ہوا ہے۔
بظاہر یہی لگتا ہے کہ اگلے چند سالوں میں پی ٹی آئی ریاستی مقتدرہ کے ساتھ مل کر ایک قسم کی استبدادی گورنمنٹ بنانے میں کامیاب ہو سکتی ہے کیونکہ تمام تر اختلافات کے باوجود طاقت کے مراکز کو بانی پی ٹی آئی کا یہی آمرانہ طرز حکمرانی سوٹ کرتا ہے، دوسرے خان کا کوئی سیاسی جانشین بھی موجود نہیں چنانچہ خان کی سیاسی وراثت لامحالہ اس مقتدرہ کو منتقل ہونی ہے جس نے برسوں اسی سوچ کی آبیاری کی اور اسی تصور سیاست کی حامل پارٹی کو پال پوس کے جوان کیا، اس لئے شدید ترین تناؤ کے باوجود بھی خان کی جماعت کی لائف لائن یعنی خیبرپختون خوا حکومت انہیں پلیٹ میں رکھ کر پیش کر دی گئی۔
امر واقعہ یہ ہے کہ اپنے چار سالہ دور حکمرانی میں خان نے چند جرنیلوں اور کچھ ججز کے ساتھ مل کر اس مملکت کو آئین و قانون سے ماوراء بادشاہوں کی طرح چلا کر ایک پھلتے پھولتے ملک کو سیاسی طور پہ پراگندہ اور معاشی بدحالی کے دلدل میں اتار دیا لیکن خان بارے عالمی ذرائع ابلاغ کا رویہ ہمیشہ ہمدردانہ رہا، مغربی میڈیا ان کی بری حکمرانی اور معاشی ناکامیوں سے صرف نظر کر کے مقتدرہ کے خلاف اس کی اس بے مقصد مزاحمت کی ستائش میں مشغول ہیں، جو نوجوان نسل کو برداشت، درگزر اور رواداری جیسی جمہوری اقدار سے دور لے گئی، وگرنہ خان نے جس طرح آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ معاہدہ سے دانستہ انحراف کیا اگر یہی کام نواز شریف کرتے تو مغرب کے مالیاتی ادارے انہیں عالمی عدالت انصاف میں گھسیٹنے کے علاوہ مغربی ذرائع ابلاغ ان کی کردار کشی کی کبھی نہ تھمنے والی مہمات چلاتے لیکن آئی ایم ایف سمیت عالمی مالیاتی اداروں نے خان کی کوتاہیوں کی سزا ان کے بعد آنے والی پی ڈی ایم حکومت کو دے کر خان کی ناکامیوں کے داغ دھو کر یہاں کے پورے سیاسی تناظر کو بدلنے میں اہم کردار ادا کیا۔
علی ہذالقیاس، اب بھی دنیا بھر کے نامور تجزیہ کار سست ترقی، کمر توڑ مہنگائی اور دہشتگردانہ تشدد کے ساتھ معاشی بحران سے دوچار ملک کے لئے مستحکم حکومت کے قیام کے جس بیانیہ کو مقبول عام بناتے دکھائی دیتے ہیں، یہی بیانیہ دراصل جنون استرداد میں الجھی 241 ملین آبادی کو استبدادی حکومت کی طرف دھکیلنے کی نفسیاتی سکیم کا حصہ ہے تاکہ جوہری ہتھیاروں سے لیس ملک کو اس نظریاتی شناخت سے نجات دلائی جا سکے، ماضی قریب میں جسے فوجی جرنیلوں کے ساتھ مل کر مغربی طاقتوں نے نہایت بے رحمی کے ساتھ کمیونزم کی راہ روکنے کے لئے استعمال کیا تھا۔
پاکستان نے گزشتہ موسم گرما میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے 3 بلین ڈالر کے بیل آؤٹ پیکج کے ذریعے سر پہ لٹکتی ڈیفالٹ کی اس تلوار کو بمشکل ٹالا تھا جو عمران خان کے سنہرے دور حکومت کا وبال تھی، جسے ملک کی قابل ذکر آبادی آج بھی مذموم طریقہ اور پرتشدد مظاہروں کے ذریعے واپس لانے پہ تلی بیٹھی ہے تاہم اس قرض پیکج کی مدت مارچ میں ختم ہو جائے گی، جس کے بعد ملک کو ایک نئے توسیعی پروگرام کی ضرورت پڑے گی اور نئے پروگرام پر بات چیت کے لئے آئی ایم ایف کی شرائط نئی حکومت کے مستقبل کا تعین کرے گی۔
ٹریڈ ویب کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان کے خودمختار ڈالر بانڈز پیر کو 1.2 سینٹس تک گر گئے، 2024 کے بانڈ سیاسی عدم استحکام کی وجہ میں 95.89 سینٹ پر رہے۔ انتخابات کے بعد نئی حکومت کو مزید سیاسی تناؤ کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ پارلیمنٹ میں سابق وزیر اعظم عمران خان کے حمایت یافتہ ممبران کا بڑا گروپ تشکیل پا رہا ہے، جو انتخابات میں دھاندلی کے بیانیہ کے ساتھ پارلیمانی جمہوریت اور آئین کی حکمرانی کی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا کر لاشعوری طور پہ استبدادی طرز حکمرانی کی ضرورت کو اجاگر کرے گا۔
شاید اسی لئے جمہوری انڈکس کے انٹیلی جنس یونٹ کی تازہ رپورٹ میں جمہوریت کی عالمی درجہ بندی میں پاکستان کی 11 درجے تنزلی دکھائی گئی، اسے ”ہائبرڈ رجیم“ سے بھی نیچے ایک ”استبدادی حکومت“ تک گرا دیا گیا۔ ای آئی یو کی رپورٹ کے مطابق، جنگوں کے پھیلاؤ، آمرانہ کریک ڈاؤن اور مرکزی دھارے کی سیاسی جماعتوں کی عوام میں گرتی ہوئی ساکھ کے باعث 2023 میں دنیا بھر میں جمہوری تمدن کا معیار زوال پذیر رہا۔ ”تنازعات کا عہد“ کے عنوان سے یہ مطالعہ 165 آزاد ریاستوں اور دو منطقوں میں جمہوریت کی حالت زار اور اس کے اسکور کو مختلف اشاریوں کی بنیاد پر ہر ملک کی چار اقسام میں سے ایک کے طور پر درجہ بندی کی گئی، مکمل جمہوریت، ناقص جمہوریت، ہائبرڈ حکومت اور آمرانہ حکومت۔
اسی درجہ بندی میں ایک اہم ملک پاکستان زیادہ نمایاں ہے، جو ایشیائی خطے میں سب سے زیادہ رجعت قہیقری کا شکار ہوا، اس کا سکور 3.25 تک گر گیا، جس کی ”ہائبرڈ رجیم“ سے ”استبدادی حکومت“ میں تنزلی کے علاوہ عالمی درجہ بندی میں 11 درجات کی تنزلی دکھائی گئی۔ پاکستان کا شمار دنیا کی ان چھ ریاستوں میں ہوا جنہوں نے اپنی درجہ بندی میں تبدیلی کی دیگر میں یونان جو مکمل جمہوریت میں اپ گریڈ ہوا، پاپوا نیو گنی اور پیراگوئے جو ہائبرڈ حکومتوں سے غلط جمہوریت میں منتقل ہوئے اور انگولا جسے اس کی آمرانہ درجہ بندی سے ہائبرڈ حکومت میں اپ گریڈ کیا گیا، پاکستان واحد ایشیائی ملک ہے جس کو اس قدر نمایاں طور پر نیچے کیا گیا۔
اس حقیقت کو نوٹ کرتے ہوئے کہ ملک میں انتخابات ہو چکے ہیں، ای آئی یو نے نشاندہی کی ہے کہ ”حیرت کی بات نہیں، بنگلہ دیش، پاکستان اور روس میں انتخابات کے دوران جہاں اپوزیشن جماعتیں ریاستی جبر کا شکار رہیں وہاں اقتدار کی پرامن منتقلی کا رجحان یا جمہوری طرز تمدن کی افزائش نہیں ہو پائی۔ اس کمی کی وجوہات انتخابی عمل، تکثیریت اور حکومت کے کام کرنے کے اشاریوں میں تلاش کی جا رہی ہے حالانکہ اس کی کئی اور وجوہات بھی ہیں، جن میں خاص کر کلٹ فالونگ جس نے مذہبی انتہا پسندی اور سیاسی جنون کو یکجا کر کے مروجہ سیاسی اخلاقیات، سماجی روایات اور برصغیر کے نفسیاتی تمدن کو مجروح کر دیا، یہی وجہ ہے کہ ڈیموکریسی انڈیکس پر پاکستان کا سکور 2008 کے بعد سے بتدریج زوال پذیر رہا۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ ڈیموکریسی انڈیکس پر پاکستان کا 2023 کا سکور 2006 ( 3.92 ) سے کم ہے جب مملکت کی عنان فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف سنبھالے ہوئے تھے۔ یہ وہ عہد تھا جب ابھی پی ٹی آئی کی کلٹ فالوونگ ڈیویلپ نہیں ہوئی تھی، پاکستان میں عدالتی فعالیت کے ذریعے نواز شریف کی منتخب حکومت کو 2017 میں گرانے کے بعد سے اسکور کم ہونا شروع ہوا ہے۔ ہماری بدنصیبی یہی تھی کہ“ آزادی ”کے فوراً بعد امریکی مقتدرہ نے پاکستان میں ایک ایسے سیاسی نظام کی تشکیل ممکن بنائی جس میں مغرب استعمار کے عالمی مفادات کے محافظ جرنیل اقتدار کے آخری لیور پر فائز ہو گئے چنانچہ آج تک اقتدار کے حتمی مالک ہونے کے ناتے وہ سویلین سیاست دانوں کو جتنا اور جو بھی اختیار دیتے ہیں وہ کب تک ان کے پاس ہو گا اس کا دار و مدار جرنیلوں کی مرضی پہ منحصر رہتا ہے۔


