مونگرے اور اماں کی یاد
کرونا کی وبا جب عروج پر پہنچی اور لاک ڈاؤن پاکستان میں بھی اتنا سنجیدہ ہوا کہ گھروں کے مرکزی دروازے دنوں مقفل رہنے لگے۔ گھریلو ملازمین اور مددگاروں کی مہینوں چھٹی ہو گئی۔ اسکول اور دفاتر یا تو آن لائن ہو گئے یا غیر معینہ مدت کے لئے بند۔ تب لوگوں کو اگر تالے لگے دروازے ڈرتے ڈرتے، وہم زدہ سوچوں کے ساتھ کھولنے پڑتے تو صرف دوا دارو یا سبزی راشن کے لئے۔
اور اس کے ہاں تو اس کی نوبت بھی مہینہ نہیں آئی تھی۔ بیماری، تکلیف سے مولا نے بچائے رکھا اور سبزی، پھل گھر کے باغیچے سے ملتے رہے۔ مالی کی مدد نہ ملنے پر جس کی گھاس لمبی ہو ہو کر لہراتی۔ گوڈیاں نہ ہونے سے کیاریوں میں جڑی بوٹیاں اور جنگلی گھاس نے گھر بنا لیا۔ اور پودوں کی کانٹ چھانٹ پابندی سے نہ ہونے پر اندر، باہر ایک چھوٹا جنگل بن گیا۔ جسے چار افراد (بچے، بڑے ملا کر) کا کنبہ کوشش کے باوجود ایک نچلی حد تک ہی سنوار پاتا۔
کئی اضافی کام دفتر، پڑھائی، گھرداری، بچوں کی کلاسز کے ساتھ کندھوں پر آن پڑے تھے۔ جو ہڈیوں کی کمزوری کے باعث بہت جان لیوا لگتے۔ گھر کی بالائی اور زیریں منزلوں پر بالکونیاں پودوں سے بھری پڑی تھیں۔ ’انڈور پلانٹس‘ کا شوق اس کے سوا تھا۔ گرمیوں کے دن تھے، سیرابی کم از کم ان کی زندگی کے لئے ضروری تھی۔ جو دن میں ایک دفعہ کی محتاج تھی۔ تو ان تنہا، خوف زدہ، فکر مند، امید بھرے دنوں میں تھکن ہر دم سوا تھی۔ لیکن ایک تھکن بڑی خوش کن تھی جو ہڈیوں کو درد تو دیتی لیکن طمانیت اور مسرت اس سے سوا ہوتی۔
انگوروں کے گچھے لان کی طرف آتے جاتے تیسری منزل سے گراؤنڈ فلور کی سامنے کی اندرونی، بیرونی دیواروں تک سر کے اوپر لٹکتے، جھولتے ملتے۔ جن پر بلبلیں، لالیاں اور چڑیاں گھسی رس چوستی رہتیں۔ پکے امرودوں کا پتہ پرندوں کی ٹونگوں سے لگتا۔ اور گرما کے سفید و گلابی انار کے دانے جب زیادہ پکنے سے پھٹ کر باہر جھانکنے لگتے تو مینا و طوطوں کی چونچیں شاخوں پر لگے لگے ہی بڑی مہارت سے ان کا سارا رس چوس لیتیں۔ لیموں پیلے ہو کر زمین پر گرتے۔ اور لیموں پانی اور اسکنجبین کے مزے زبان کو چھوتے۔
کچی کیریوں کو گلی میں گزرتے راہگیر، مزدور، شریر بچے اور سر پھرے منچلے (گیٹڈ کمیونٹی میں ) آتے جاتے توڑتے۔ نرم بیجوں والی بھنڈیاں، چیری ٹماٹر، خودرو بھاگتا پودینہ، ککڑی، کریلے، توری، کدو ہمہ وقت سبزیاں بہار دکھاتیں۔ وہاں جس سبزی کی فراوانی من چاہی تھکن دیتی۔ وہ ’تین بائی تین‘ فٹ زمین کا وہ ٹکڑا ہوتا جہاں چار ساڑھے چار فٹ بلند، نازک، سفید پھولوں سے لدے لمبے لمبے ’مونگروں‘ کے پودے اگے بہار دکھاتے۔ جن کا طواف تتلیاں اور شہد کی مکھیاں صبح، شام کرتیں۔ اور جن کی دید اس کی آنکھوں اور دل میں اماں کی یاد کے دیے جلا دیتی۔ جنہیں مالی نے ضد کر کے اتنے سے حصے پر اگایا تھا کہ ایک دفعہ لگانے دیں۔ اسے مونگرے پسند تھے لیکن ان کے ڈھیلے پودوں کی بڑھوتری اور ’جدھر چاہو، گر جاؤ‘ والا مزاج ایک بکھیرا سا لگتا تھا۔ اور ننھے پھولوں کی پتیوں کا شاخوں سے ٹوٹ کر مٹی پر بچھا ڈھیر جب کھرپی کے نیچے آتا تو دل کو بھاری کرتا۔ خیر باغباں کی مرضی پر جو بیجا، جب اس کی غیر حاضری پر جوان ہوا تو اس کی بہتات نے اسے حیران اور کچھ پریشان بھی کیے رکھا۔
ہر تین دن بعد فصل ٹوٹنے کو تیار۔ وبا کے دنوں میں کسی کو بھیجنا بھی مشکل۔ بھیجنے اور وصول کرنے والے دونوں ہی اوہام کا شکار ہوتے۔ تو بات ہو رہی تھی کہ ان چاہی لگی اس سبزی کے سبھی نخرے پھر اسے ہی اٹھانا پڑے۔ توڑنا، سنوارنا، پکانا، سنبھالنا سارا کچھ۔ تب اسے معلوم نہیں تھا کہ مونگروں کی یہ دیکھ ریکھ اسے اماں کی محبت کے نئے پہلو متعارف کروائے گی۔
وہ مونگرے کی پھلیوں کو ایک ایک کر کے توڑتی اور باغیچے کی سہ پہر اور شام کے دوران وہیں پڑی کرسیوں پر بیٹھ کر انھیں صاف کرتی، بناتی۔ تو انگلیوں کے جوڑ مزید دکھنے لگتے۔ تو اماں کی یاد زبردستی اس کے ذہن میں در آتی۔ جہاں وہ کھلے صحن میں بیٹھی، سوت کی رسیوں سے بنی پیڑھی پر بیٹھی، سامنے ٹوکری رکھے مونگرے کی نوکیں آگے پیچھے سے چٹکی چٹکی توڑ کر تیار کر رہی ہوتیں۔ نو افراد کے خاندان کے لئے دو کلو سے کم مقدار نہیں بنتی تھی۔ جسے بعد میں وہ مٹی کے چولہے پر، مٹی کی ہانڈی میں دیسی گھی میں آلو، زیادہ ٹماٹر اور باقی رسیلے مصالحے کے ساتھ بھونتیں۔ بغیر پانی ڈالے، دم پر، دھیمی دھیمی لکڑیوں اور دہکتے کوئلوں کی آنچ پر پکاتیں۔ اور آلو مونگرے کی سبزی، توے کی اصلی گھی میں ’چپڑی‘ روٹی اور گاجر کے سلاد کے ساتھ وہیں چولہے کے پاس گول دائرے میں بٹھا کر کھلاتیں۔ کبھی انھیں مونگروں کے ساتھ آلو ڈالنے کو دل نہ ہوتا، یا ابا کی فرمائش ہوتی یا آلو گھر پر میسر نہ ہوتے تو مونگرے، گاجر اور میتھی کا سالن بنتا۔
اور کئی بار تو مونگروں کو دھنیا، سبز مرچ اور نمک کے ساتھ ملا کر ’کونڈے، لنگڑی یا سل‘ پر پیس کر چٹنی بناتیں۔ آٹے کے دو چھوٹے پیڑوں کے درمیان اس کے دو چمچ رکھتیں، اور بھرے ہوئے پراٹھے بنا کر سادہ دہی کے ساتھ کھانے کو دیتیں۔ یا فرائنگ پین میں دیسی گھی گرم کرتیں، چٹنی اس میں ڈالتیں اور خوب بھنائی کے بعد جب اس کا کچا پن ختم ہو جاتا تو کڑکتے، سرخ پراٹھے یا سادہ روٹی (حسب منشا) سبھی افراد کو دیتیں۔
وقت کو پہیے لگے ہوتے ہیں۔ بیتنا اس کی خاصیت ہے، اس لئے نقش چھوڑتا بیت گیا اور ہمارے دستر خوانوں سے دوسری سبزیوں کے ساتھ ’مونگروں‘ کو بھی غائب کرتا گیا۔ مونگرے، شلجم، ٹینڈے جیسی کئی سبزیوں کے ساتھ زیادہ زیادتی ہوئی۔ ہمارے کچن بدیسی کھانوں سے سجنے لگے اور پکانے والوں نے ان غذائیت سے بھری نعمتوں کو مشکل سبزی، کڑوے عجیب ذائقے، تیز خوشبو والی یا غریبانہ روش کہہ کر خود بھلا دیا اور نئی نسل اس کی افادیت چکھ ہی نہیں سکی۔
ہمارے فائیو اسٹار سے لے کر ڈھابے تک سبزی کے نام پر ’مکس سبزی‘ سے آگے نہیں بڑھتے۔ اور باورچی کھانے، آلو مٹر، آلو گوبھی، اور اسی طرح کے آسان حل میں ہی گھومتے رہتے ہیں۔ اور آسانی سے اگنے والی مونگرے جیسی سبزیاں جو وٹامن بی چھ، کیلشیم، میگنیشیم اور کاپر جسم کو فراہم کرنے کا قدرتی ذریعہ ہیں، ان کو بالائے طاق یا طاق نسیاں کے سپرد کر دیا ہے۔ جسے اب خاص طور پر پوش علاقوں میں مہنگے داموں کھلنے والے ڈھابے، ’ویجی، ویجیٹیرین اور ویگن‘ کے نام بیچنا شروع ہو گئے ہیں۔ اللہ کرے، ان کے کھاجوں کی فہرست میں مونگرے بھی آجائیں۔
ویسے چار برس ہو گئے، اب ہر سال یہ سبزی اس کے باغیچے میں خاص طور پر اگائی جاتی ہے۔ دوست احباب اور محلے داروں میں خوبصورت ٹوکریوں میں بھیجی جاتی ہے۔ گھر میں ہر اس طریقے سے پکتی ہے، جیسے اس کی اماں پکاتی تھیں۔ ہاں اس نے اس سبزی کی ’مسی روٹی، لسی کے ساتھ‘ یا زیادہ مقدار کے ’ائر ٹائٹ‘ بیگ بنا کر فریزر میں رکھنے کی اضافی تراکیب و طریقے اپنائے ہیں۔ اس کی اماں وقت کی ڈگری یافتہ نہیں تھی لیکن اولاد اور خاندان پر محنت کر کے، اوکھی سبزیاں بنانے کے جتن کرتیں۔ تو وہ تو پھر بھی کچھ پڑھنا لکھنا جانتی ہے۔ ان نعمتوں سے استفادہ کرنے کا ان جتنا نہیں تو ان سے تھوڑا کم حق تو ادا کر ہی سکتی ہے۔


