اسلام میں خدا کا تصور: ابن تیمیہ

بارہویں اور تیرہویں صدی کے واقعات نے اسلام میں صوفیانہ روایات کو فروغ دیا۔ تاہم منگولوں کے ہاتھوں اسلامی سلطنت کی تباہی نے اسلامی معاشروں میں قدامت پسندانہ رجحان کو بھی جنم دیا تھا۔ اس نے آنے والی صدیوں میں خدا اور اسلام کے بارے میں مسلمانوں کی سوچ کو بہت متاثر کیا۔
وہ شخص جس نے بنیاد پرستی کی سوچ پیدا کرنے میں اہم ترین کردار ادا کیا، وہ احمد بن تیمیہ تھے۔ وہ ہمارے زمانے میں بہت سی عسکری اسلامی اور جہادی تحریکوں کے روح رواں سمجھے جاتے ہیں۔ انھوں نے دنیا کو دارالاسلام اور دار الکفر میں تقسیم کیا، دارالاسلام جہاں اسلامی اور شرعی قوانین نافذ ہوں اور دار الکفر جس پر کافروں کی حکومت ہو۔
تقی الدین احمد ابن تیمیہ 1263 عیسوی میں شمالی شام کے شہر ہران میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے 1328 عیسوی میں دمشق میں پینسٹھ سال کی عمر میں وفات پائی۔ وہ قرآن، حدیث اور فقہ سے متعلق تمام مضامین کے ماہر تھے۔ انہوں نے قرآن کے لفظی ترجمہ پر مبنی ایک خالص اسلام کو واپس لانے کی کوشش کی۔ وہ اسلامی معاشرے کو اس کی بنیادوں پر بحال کرنے اور اس معاشرے کو دوبارہ بنانے پر یقین رکھتے تھے جو پیغمبر کے زمانے میں موجود تھا۔
ابن تیمیہ کی زندگی ایک ہنگامہ خیز دور میں گزری، جس نے ان کی شخصیت اور خیالات پر گہرے نقوش چھوڑے۔ اس سے پہلے کہ میں ان کی زندگی پر روشنی ڈالوں، میں ایک اہم نکتے کی طرف توجہ مبذول کرانا چاہوں گا۔
میرے نزدیک، کسی دانشور، فلسفی، یا مذہبی رہنما کے خیالات اور تعلیمات سمجھنے میں ہم عام طور پر ایک اہم غلطی کر جاتے ہیں اور وہ یہ کہ ہم بھول جاتے ہیں کہ ہر انسان کی شخصیت اور سوچ اس کے اپنے اردگرد کے واقعات سے تشکیل پاتے ہیں۔ میرے خیال میں اگر انسانی تاریخ کے کسی بھی دانشور، عالم، یا ریفارمر کی جگہ اور وقت کو تبدیل کر دیا جائے، تو اس کی سوچ اور فلسفہ بھی متاثر ہو گا۔ اگر افلاطون اور ارسطو قدیم یونان کی بجائے آج امریکہ یا چین یا پاکستان میں زندہ ہوتے تو یہ تصور کرنا محال ہے کہ وہ انہی فلسفیانہ خیالات کا اظہار کرتے جو ان کی پہچان ہے۔
میرے نزدیک ایک اور اہم مثال الغزالی کی ہے۔ ان کا زیادہ تر تخلیقی کام 1095 سے لے کر 1111 میں ان کی وفات کے دورانی عرصے میں مکمل ہوا۔ اس دوران ان کی مشہور ترین کتب تہافت الفلاسفیہ اور احیائے علوم الدین لکھی گئیں۔ اب ذرا اس بات پر غور کریں کہ اس وقت اسلامی دنیا کس کرب سے گزر رہی تھی۔ جیسا کہ میں نے پچھلے مضمون میں ذکر کیا، 27 نومبر، 1095 کو ، پوپ اربن دوم نے ایک انتہائی اہم تقریر کی جس میں انہوں نے عیسائی مذہب کے رہنماؤں کو یروشلم کی ”مقدس سرزمین“ کو مسلمانوں کے قبضے سے آزاد کرانے کا حکم دیا۔
مسلمانوں نے یروشلم 638 ء میں حضرت عمر کے دور خلافت میں فتح کیا تھا۔ یہ صلیبی جنگوں کا نقطہ آغاز تھا۔ 15 جولائی 1099 کو صلیبی فوجیں یروشلم میں داخل ہوئیں اور دو دن تک اس خونریزی کی مرتکب ہوئیں جس کی مثال تاریخ میں کم دکھائی دیتی ہے۔ یہ جاننا تو ناممکن ہے کہ ان واقعات کا الغزالی پر کتنا گہرا اثر پڑا ہو گا، مگر یہ تصور کرنا مشکل نہیں کہ اسلامی دنیا میں ہر شخص صلیبیوں اور ان سے وابستہ کسی بھی چیز بشمول فلسفہ کے لیے نفرت انگیز خیالات رکھتا ہو گا۔ ایسے میں الغزالی کے یونانی فلسفیوں سے متاثر کن فلسفیوں سے اظہار نفرت سمجھنا ممکن ہو جاتا ہے۔
غرض اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ ہر انسان، چاہے وہ کتنا ہی عظیم ہو، اس کی سوچ اس کے وقت اور جگہ سے متاثر ہوتی ہے، تو ہم تمام تاریخی اور مذہبی شخصیات کو بہتر انداز میں سمجھ سکتے ہیں۔
ان باتوں کی روشنی میں، جو بظاہر بہت واضح اور سچ محسوس ہوتی ہیں، ہمیں یہ سمجھنا آسان ہو جاتا ہے کہ سینکڑوں اور ہزاروں سال پرانے خیالات کی اندھا دھند تقلید اندھیروں کی طرف لے جاتی ہے۔ ایک کامیاب راستہ وہ ہے جہاں خیالات وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوں۔ ماضی کی شخصیات اور ان کے افکار کا جائزہ لینے کا مقصد یہ ہرگز نہیں ہونا چاہیے کہ ہم ان تعلیمات کو آج کے دور کے لیے من و عن تسلیم کر لیں۔ بلکہ مقصد تو یہ ہونا چاہیے کہ اس علم کی روشنی میں ہم آج کی زندگی کے لیے راستوں کا تعین کر سکیں۔
تاریخ کا سبق یہ ہے کہ جن قوموں نے ماضی اور اس سے وابستہ شخصیات کو حال کی حقیقتوں کو نظرانداز کرتے ہوئے آج کے لیے اپنایا، وہ ایک رجعت پسندانہ معاشرہ ہی قائم کر سکیں۔ دوسری طرف وہ اقوام جن کے ہاں سوچ کا سفر رواں دواں رہا اور نئے افکار اور نظریات اجتماعی سوچ کا حصہ بنتے گئے، انھوں نے نہ صرف اپنی آنے والی نسلوں کے لیے قابل رشک میراث چھوڑی ہے بلکہ دنیا میں چاروں طرف علم کی روشنی بکھیری ہے۔
اب میں ابن تیمیہ کی طرف لوٹتا ہوں اور ان حالات کو پیش کرنے کوشش کرتا ہوں جس میں انھوں نے پرورش پائی۔
ابن تیمیہ منگولوں کے ہاتھوں بغداد کی تباہی کے پانچ سال بعد پیدا ہوئے۔ 1269 عیسوی میں، چھ سال کی عمر میں، انھوں نے اپنے خاندان کے ہمراہ حران کے شہر سے ہجرت کی جو پیشقدمی کرتی منگول فوجوں کے ہاتھوں مکمل طور پر تباہ ہو چکا تھا۔ وہ اور ان کا خاندان دمشق میں آباد ہو گئے جہاں اس وقت مملوکوں کی حکومت تھی۔ یہ وہ وقت تھا جب صلیبی جنگیں جاری تھیں۔ مملوک سلطنت کو منگولوں اور صلیبیوں کے ساتھ ساتھ ان کی اپنی غیر مسلم رعایا سے بھی متعدد خطرات لاحق تھے۔
منگولوں نے مشرقی اسلامی سلطنت کو مکمل طور پر تباہ کر دیا تھا اور صلیبی ابھی تک خطے میں موجود تھے۔ یہ وہ وقت بھی تھا جب مسلم دنیا میں اسلام کے متعدد مکاتب فکر پروان چڑھ رہے تھے۔ یہ وہ حالات تھے جب یہ سمجھنا قدرتی تھا کہ مسلمانوں کے آلام کا سبب ان کی ان افکار سے دوری ہے جن بنیادوں پر سینکڑوں سال قبل اسلام قائم ہوا تھا۔ یہ صورت حال آج سے زیادہ مختلف محسوس نہیں ہوتی جب بہت سے اسلامی حلقوں میں سمجھا جاتا ہے کہ مسلمانوں کی کسمپرسی کی وجہ یہ نہیں کہ وہ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نہ ہو سکے بلکہ یہ ہے کہ وہ ان بنیادوں سے دور ہو گئے جو ہزاروں سال پہلے رکھی گئی تھیں۔
اس صورت حال میں ابن تیمیہ نے ان افکار سے اسلام کو ”صاف“ کرنے کا کام اپنے ذمہ لیا جو ان کے مطابق اسلام کی روح کے خلاف تھے۔ انہوں نے اپنے عقیدے کے مطابق ایک بنیاد پرست معاشرے کو فروغ دیا جو اسلام کے بنیادی اصولوں سے مطابقت رکھتا تھا۔ انھوں نے اپنی زندگی اسلامی فکر کو فلسفہ اور تصوف کے آثار سے پاک کرنے کے لیے وقف کر دی۔
ابن تیمیہ احمد ابن حنبل کے پیروکار تھے جو آٹھویں صدی میں رہتے تھے اور سنی اسلامی فقہ کے چار مکاتب (حنفی، مالکی، شافعی اور حنبلی) میں سے ایک کے بانی تھے۔ ان چاروں مکاتب میں جو لوگ یونانی فلسفہ اور قیاس پر مبنی الہیات کو سب سے زیادہ شک کی نگاہ سے دیکھتے تھے وہ ابن حنبل کے زیر اثر تھے۔
ابن تیمیہ خالص شریعت پر مبنی اسلام کو زندہ کرنا چاہتے تھے اور شریعت کو زندگی کے تمام پہلوؤں پر لاگو کرنا چاہتے تھے۔ ان کے نزدیک شریعت نے مسلمانوں کے تمام مذہبی مسائل کا حل فراہم کیا تھا۔
وہ خالق اور مخلوق کے مابین ایک واضح فرق پر یقین رکھتے تھے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قرآن اور سنت کو ان مسلمانوں کی تعلیمات کی روشنی میں سمجھنا چاہیے جن کا تعلق مسلمانوں کی پہلی تین نسلوں سے تھا۔ ان نسلوں کو سلفیہ کا نام دیا گیا۔ یہ سلفی تحریک کا آغاز تھا جو آج بہت سے مسلم ممالک، خصوصاً سعودی عرب کے زیر اثر معاشروں، میں حاوی ہے۔
ابن تیمیہ کی سوچ نے اسلام کی فکری تاریخ پر گہرے اثرات چھوڑے ہیں۔ ان کے پیروکاروں میں سب سے اہم نام عربی عالم محمد ابن عبد الوہاب ( 1703۔ 1791 ) کا ہے جو اٹھارہویں صدی کے دوران جزیرہ نما عرب میں مقیم تھے۔ ابن عبد الوہاب نے موجودہ سعودی حکمرانوں کے جد امجد، محمد بن سعود کے ساتھ ایک مذہبی سیاسی معاہدہ طے کیا جس کے تحت آل سعود نے دریہ کے شہر میں پہلی سعودی ریاست قائم کی جو بیسویں صدی کے شروع میں موجودہ سعودی عرب کی شکل میں نمودار ہوئی۔ آج بھی سعودی مملکت کے مذہبی روح رواں ابن عبدالوہاب ہیں۔ مغربی روایات میں مملکت سعودی عرب کی بیشتر آبادی کی سوچ اور عقائد کو وہابیت کا نام دیا گیا ہے۔
وہابی روایات میں ابن تیمیہ سب سے زیادہ قابل احترام شخص کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ جنوبی ایشیا میں، شاہ ولی اللہ، اہل حدیث اور دیوبندی مکتبہ جیسی اسلامی اصلاحی تحریکیں بھی ابن تیمیہ سے بہت زیادہ متاثر ہوئیں اور ان کے ساتھ مشترکہ نقطہ نظر کا اظہار کیا۔
ابن تیمیہ ایک ایسے خدا پر یقین رکھتے تھے جو ابدی اور طاقت ور ہے اور جو ہر چیز کو جانتا ہے اور اس کائنات کو بغیر کسی چیز کے وجود میں لایا ہے۔ وہ ایک ایسے ذاتی خدا پر یقین رکھتے تھے جس کے ساتھ ایک گہرا روحانی تعلق قائم کیا جا سکتا تھا۔ اس سوچ نے انھیں اسلامی معاشرے کے اندر موجود بیشتر انداز فکر کا مخالف بنا دیا۔ ان میں فلسفی، صوفی اور اشعری شامل تھے۔ ابن تیمیہ کی زیادہ تر تعلیمات قانونی آراء یا فتویٰ کی صورت میں سامنے آئیں۔
ابن تیمیہ تصوف کے خلاف سخت رائے رکھتے تھے۔ صوفیاء کے ساتھ ان کا بنیادی تنازعہ قرآن کی تفسیر کا تھا۔ صوفیاء نے قرآن کی بعض اصطلاحات کی تشریح تمثیلی انداز میں یا ایسے الفاظ کے ذریعے کی جن کے معنی مجازی ہیں۔ ابن تیمیہ قرآن میں اصطلاحات کے لغوی معنی پر یقین رکھتے تھے۔ انھوں نے صوفیاء پر الزام لگایا کہ وہ ایسے خدا کے تصور کو فروغ دے رہے ہیں جو انسانوں کے درمیان بستا ہے۔ انہوں نے ابن عربی اور ان کے پیروکاروں کے اس تصور کی شدت سے مخالفت کی کہ کائنات میں صرف اور صرف خدا کا وجود ہے اور کچھ نہیں۔ انہوں نے اس فلسفے کو وحدت الوجود کا نام دیا اور اس کو قرآنی تعلیمات کی صریحا خلاف ورزی قرار دیا۔
یاد رہے کہ اسلامی تاریخ میں کئی طرح کی صوفی تحریکیں چلتی رہی ہیں۔ تصوف کے ابتدائی تصورات نویں صدی میں ملتے ہیں۔ ابتداء میں وہ یونانی فلسفہ، خاص طور پر افلاطون کے نظریات، سے متاثر تھے۔ پھر وہ اشعریوں سے متاثر ہوئے۔ عام طور پر اسلام میں تصوف نے باطن کی روحانیت پر توجہ دی۔ ابن تیمیہ کا خیال تھا کہ صوفیاء اور تصوف اپنے افکار و عمل میں قرآن و سنت کی لغوی تشریح پر عمل نہ کر کے صحیح راستے سے ہٹ گئے ہیں۔ انھوں نے محسوس کیا کہ صوفیوں نے عبادت کے بنیادی طریقوں کو ترک کر دیا ہے اور وہ رقص اور موسیقی جیسے ثانوی طریقوں میں مشغول ہو گئے ہیں۔
ابن تیمیہ کا خدا کے بارے میں بیان اس وضاحت سے بھی شدید متصادم تھا جسے فلسفیوں نے خدا کی نوعیت اور خصوصیات کے بارے میں پیش کیا تھا۔ فلسفیوں کی وضاحت نے انسانی زندگی میں خدا کا کوئی براہ راست کردار چھین لیا تھا، اور ان کے نزدیک کائنات کا نظام قوانین فطرت کے مطابق چل رہا ہے۔ ابن تیمیہ کا خیال تھا کہ انسان کی ناقص عقل خدا کا حتمی علم فراہم نہیں کر سکتی۔ انھوں نے محسوس کیا کہ ابن سینا جیسے فلسفیوں نے ایک گمراہی کے راستے کی پیروی کی جب انہوں نے تصور کیا کہ فلسفیانہ سوچ ہی علم الہی کی طرف رہنمائی کر سکتی ہے۔ ابن تیمیہ کے نزدیک حقیقی علم وحی کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔
ایک واقعہ مذہبی معاملات میں ان کے غیر لچکدار رویے کی وضاحت کرتا ہے۔ جب ان کی عمر 30 سال تھی تو ابن تیمیہ نے ایک عیسائی پادری پر فتویٰ جاری کیا جس پر توہین رسالت کا الزام تھا۔ انہوں نے اس کو سزائے موت کا حقدار قرار دیا۔ انہوں نے یہ فتویٰ اس وقت بھی برقرار رکھا جب عیسائی پادری نے اسلام قبول کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔ کچھ عرصے بعد ، انہوں نے الصارم المسلول علی شاتم الرسول (رسول کی توہین کرنے والوں کے خلاف کھینچی گئی تلوار) کے نام سے ایک با اثر کتاب لکھی جو کسی بھی شخص، مسلمان یا غیر مسلمان، کو توہین رسالت پر سزائے موت سنانے کی روایت کے لیے بطور ذریعہ استعمال ہوتی ہے۔ توہین رسالت سے متعلق جدید قوانین کی جڑیں ابن تیمیہ کے اس تصنیف سے ملتی ہیں جو کہ نبی ﷺ کی وفات کے 650 سال بعد ، 1300 عیسوی کے لگ بھگ لکھی گئی تھی۔
ابن تیمیہ کے خیالات اور آنے والی نسلوں پر ان کے بے پناہ اثر و رسوخ نے اسلام میں فلسفیانہ تحریک، اور اس سے وابستہ سائنسی سوچ، کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی۔
چودھویں صدی کے آغاز سے، سنی مسلم دنیا میں مذہبی افکار پر بنیاد پرستی اور تصوف کے مختلف رنگوں کا غلبہ رہا ہے۔ پچھلی سات صدیوں کے دوران تقریباً تمام اصلاحی تحریکیں ان حدود میں اسلام کی تشریح پر مرکوز رہی ہیں۔
میرا اگلا مضمون اس سلسلے کا آخری مضمون ہو گا۔ میرے نزدیک ان مضامین کی اس سیریز کا مقصد یہ سمجھنا تھا کہ اسلامی دنیا میں موجود مختلف سوچوں کا پس منظر کیا ہے۔ اپنے آخری مضمون میں، میں اپنے طور کچھ نتائج اخذ کرنے کی کوشش کروں گا۔

